پاکستان میں اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کا استحصال کر رہے ہیں ،پاکستانی معیشت اشرافیہ کی معیشت ہے

پاکستان میں اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کا استحصال کر رہے ہیں ،پاکستانی معیشت اشرافیہ کی معیشت ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بینکنگ امور کے ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کا استحصال کر رہے ہیں ۔پاکستانی معیشت اشرافیہ کی معیشت ہے ملکی اشرافیہ اور غیر ملکی ناپاک اشرافیہ کا گٹھ جوڑ ہے جو حالات دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق صدی کے اخر تک سودی بینکاری کا خاتمہ نظر نہیں اتا اگر بہت زیادہ انقلابی اقدامات اٹھائے جائیں تو اور بات ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے اور کتاب کے حوالے سے منعقدہ ایک ٹی وی پروگرام میں بھی کھل کر اظہار خیال کیا ہے ۔مختلف سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ جو سسٹم چل رہا ہے اس میں اسلامی بینک اگر چاہیں بھی تو وہ ظلم اور استحصال کو کبھی ختم نہیں کر سکتے اور یہ سب غیر اسلامی ہو رہا ہے جو باتیں میں نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں وہ پاکستان کے جید علماء بشمول ان علماء کے جو اس کی حمایت کر رہے ہیں ان کی تحریر اور قرارداد میرے پاس موجود ہے کہ یہ غیر اسلامی ہے میرے پاس یہ سب کچھ قوم کی امانت تھا جو میں نے کتاب کی شکل میں قوم کے سپرد کر دی ہے جب میزبان نے مفتی تقی عثمانی کے فتوے کا حوالہ دیکھ کر بینکوں کے موقف سے متعلق سوال اٹھایا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 21 بینکیں جو اسلامی بینکنگ کے جھنڈے تلے کام کر رہے ہیں ان کے ڈیپازٹس میں ہیں 9500 ارب روپے اور یہ 25 فیصد ہے ٹوٹل ڈیپازٹس کا ۔۔۔۔۔یہ سلسلہ سال 2002 سے چل رہا ہے میں پوچھتا ہوں کہ 23 برس کے بعد 75 فیصد ڈیپازٹس کہاں ہیں ؟وہ تو کمرشل بینکوں میں ہیں یعنی سودی بینکوں میں ۔ تو صاف ظاہر ہے کہ لوگوں نے عدم اعتماد کر دیا ہے اور انہوں نے اپنا پیسہ کمرشل بینکوں سے نہیں نکالا اور اسلامی بینکوں میں نہیں رکھا ۔ 9500 ارب میں سے 4 ہزار ارب روپیہ اسلامی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھا ہوا ہے جہاں پر منافع صفر ہوتا ہے اگر 10 فیصد بھی لیں تو یہ چار ہزار ارب روپے کے ڈیپازیٹرز کے ماہانہ 400 ارب روپے منافہ چھوڑ رہے ہیں سالانہ کیوں ؟میں پوچھتا ہوں کیوں چھوڑ رہے ہیں اگر منافع ہے تو منافع ان کو ملنا چاہیے اور 45 فیصد رقم کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی ہے اور میرے نزدیک یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے سودی اور اسلامی بینکوں دونوں جگہ پر پیسہ رکھا ہوا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی بینکوں کا منافع زیادہ رہا ہے لیکن انہوں نے اپنے کھاتے داروں کو حصہ کم دیا ہے جبکہ کمرشل بینکوں کا منافع کم ہے لیکن وہ اپنے کھاتے داروں کو زیادہ حصہ دے رہے ہیں ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان کا سب سے پرانا بینک حبیب بینک ہے اور 2023 میں حبیب بینک کا منافع 113 ارب روپے رہا جب کہ میزان بینک جو سب سے بڑا بینک ہے اس کا منافع 169 ارب روپے رہا گویا میزان بینک کا ایک سال کا پرافٹ حبیب بینک یو بی ایل ایم سی بی اور الائیڈ بینک جیسے بینکوں سے بھی زیادہ ہے لیکن میزان بینک نے 169 ارب روپے کما کر اپنے کھاتے داروں کو صرف 11 فیصد منافع دیا جبکہ الائیڈ بینک نے 20 فیصد سے زیادہ حبیب بینک نے ساڑھے 20 فیصد منافع کھاتے داروں کو دیا ۔ اس پر میزبان نے سوال کیا کہ ایسا کیوں کیا گیا تو جواب میں انہوں نے کہا کہ باقی جنت میں ملے گا اور اس پر ان سمیت حاضرین نے قہقہہ لگا دیا