ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی تمام توجہ برآمدات بڑھانے پر مرکوز ہو ۔بھارتی برآمدات 777 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں ۔۔۔۔۔۔ کراچی اسٹاف رپورٹر ۔۔۔۔۔ ملکی ترقی کے لیے یہ بات بے حد ضروری ہے کہ حکومت کی تمام تر توجہ برآمدات کو بڑھانے پر مرکوز ہو اس طرح ہماری فیکٹریاں ملیں کارخانے چل پڑیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ہم ائی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکل ائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ماہر بینکنگ امور ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کا موڈ ہمارے حوالے سے نرم ہے اچھا ہے اور دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہے تو ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مغرب کا موڈ کب بدل جائے لہذا پاکستان پر مستقبل میں ایف اے ٹی ایف جیسی پابندیاں لگ سکتی ہیں جب تک ہم پر کوئی پابندی نہیں ہمارے لیے ماحول سازگار ہے ہمیں بھرپور توجہ اپنی برآمدات کے اضافے پر مرکوز کرنی چاہیے ہر لحاظ سے ہماری حکومت کی بھرپور کوشش اور توجہ برآمدات کو فروغ دینے
پر ہونی چاہیے نئی منڈیاں ڈھونڈیں اپنی برآمدات کو بڑھائیں پاکستان کی معیشت کا دارومدار اس وقت غیر ملکی سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے جانے والے پیسے پر ہے یہ بہت خطرناک رجحان ہے کسی بھی وقت باہر سے کوئی ہمارے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے کوئی بھی حکومت پابندی لگا کر ہمارا پیسہ رکوا سکتی ہے چار بڑے ملکوں سے پیسہ اتا ہے سعودی عرب یو اے ای امریکہ اور یو کے ۔ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے بھارت کی باہر سے ترسیلات صرف 124 ارب ڈالر ہیں لیکن اس کی برامداد 777 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جب کہ پاکستان کی زر مبادلہ کی ترسیلات پچھلے سال 32 ارب ڈالر اور برآمدات 38 ارب ڈالر ہیں ہمیں پوری توجہ دے کر اپنی برآمدات کو فروغ دینا ہوگا اسی طرح ہم بے روزگاری سے غربت سے اپنے لوگوں کو نکال سکتے ہیں ہمارے کارخانے ملیں اور فیکٹریاں چل پڑیں گی ہمارے ہاں روزگار کے مواقع ملیں گے ہم خوشحال ہو جائیں گے برامدات بڑھائیں گے تو ملک ترقی کرے گا
























