قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کی خود مختاری کی علامت ہوگا لیکن اج حالات اس کے برعکس ہیں سب کچھ آئی ایم ایف کی غلامی میں چلا گیا

قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کی خود مختاری کی علامت ہوگا لیکن اج حالات اس کے برعکس ہیں سب کچھ آئی ایم ایف کی غلامی میں چلا گیا ۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی اسٹاف رپورٹر ۔۔۔پاکستان کے ممتاز معاشی تجزیہ کار اور بینکنگ امور کے ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تو کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کی خود مختاری کی علامت ہوگا لیکن آج حالات مختلف ہیں سب کچھ آئی ایم ایف کی غلامی میں چلا گیا اور ہمارے بینک غیر ملکی مالکان کے ہاتھوں میں چلے گئے یہ نجکاری کا نتیجہ ہے اور اس کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 1980 کی دہائی تک تین سے زیادہ غیر ملکی بینکوں کو اپریٹ کرنے کی اجازت اسٹیٹ بینک نہیں دیتا تھا بلکہ پوچھتا تھا کہ اپ کو اس کی کیا ضرورت ہے لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے مختلف ہے یہ سب کچھ نجکاری کے عمل کی تباہی کا نتیجہ ہے جو ہر طرف نظر ارہا ہے اب ایک مرتبہ پھر ایسٹ انڈیا دور کو واپس لانے جیسے ہی صورتحال ہے نو ابادیاتی نظام کی واپسی شروع ہو چکی ہے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ چھ ہزار ارب ڈالر کے اثا ثے بیچ دیے گئے جن میں بینک بھی شامل ہیں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بحران سے تین سال میں نکلا جا سکتا ہے پاکستان بہت بڑا ملک ہے اس کی بہت بڑی ابادی ہے ٹیکس وصولی کو شفاف بنایا جائے اور عمل درامد یقینی ہو تو 25 ہزار ارب روپیہ ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے جو اب ہم کم وصول کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ 1993 سے اج تک پاکستان سے 200 ارب ڈالر باہر چلے گئے یہ چوری رشوت کا پیسہ تھا اج بھی ملک پر 131 ارب ڈالر کا قرضہ ہے تو سوچو یہ جو پیسہ باہر چلا گیا وہ باہر نہ جاتا تو ہمارے اوپر قرضہ نہ ہوتا اس وقت بھی پاکستان قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے 4 ہزار ارب ڈالر کے منرل ذخائر پاکستان میں موجود ہیں زرخیز زمین ہے محنت کریں اور کمائیں