غزہ کی پانچ سالہ بچی ہند رجب کی دل دہلا دینے والی کہانی پر مبنی فلم ”وائس آف ہند رجب” کو اقوامِ متحدہ کے نیویارک دفتر میں خصوصی نمائش کے لیے 4 دسمبر پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ فلم ہدایتکارہ کاوثر بن ہانیا نے بنائی ہے، جو غزہ کی پانچ سالہ بچی ہند کی آخری گھڑیوں میں کی گئ حقیقی فون کالز اور زندگی کی سچی عکس بندی کے ذریعے بیان کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلم کی نمائش کمیٹی آن دی ایکسرسائز آف دی انیلیینیبل رائٹس آف دی فلسطینی پیپل (CEIRPP) کی جانب سے، فلم کے امریکی تقسیم کار ویلا کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
متوقع مہمانوں میں سفیر، غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے، سرگرم کارکن، پالیسی ساز، صحافی اور طلبہ گروہ شامل ہوں گے، نمائش کے بعد ایک پینل مباحثہ ہوگا جس میں ہدایتکارہ کاوثر بن ہانیا، اداکار امر حلیحل، اور آسکر یافتہ پروڈیوسر جیمز ولسن شریک ہوں گے۔
فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں اپنی پریمیئر پر 23-منٹ کی اسٹینڈنگ اوویشن حاصل کی، جو اس سال کی فیسٹیول کی سب سے طویل حوصلہ افزائی مانی گئی اور سلور لائن گرینڈ جیوری انعام بھی حاصل ہوا۔

ہدایتکارہ بن ہانیا نے کہا ہے کہ اس فلم کے ذریعے غزہ میں مرنے والے لوگوں کو آواز اور چہرہ دینا چاہتی تھیں، تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ وہاں صرف غیر ارادی نقصان نہیں ہو رہا بلکہ ہر جان ایک انسان کی کہانی ہے۔























