سائبر کرائم کی تاریخ میں سب سے بڑی ڈیٹا چوری کے دوران تقریباً 1.3 بلین پاسورڈز اور 2 بلین ای میلز آن لائن لیک کر دی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کو معلومات کی اطلاع دینے والی کمپنی ہیو آئی بن پونڈ (Have I Been Pwned) نے بتایا کہ بڑے پیمانے کے ڈیٹا لیکیج کے پیچھے سائبر جرائم پیشہ افراد ہیں۔
میٹرو نیوز نے تصدیق کی کہ جی میل، ہاٹ میل، آؤٹ لُک اور یاہو کے ای میل ایڈریسز بھی ؤن لائن لیک کیے گئے۔
ایچ آئی بی پی کے سی ای او ٹرائے ہنٹ نے خبردار کیا کہ جن افراد کا ڈیٹا اس چوری میں لیک ہوا ہے انہیں احتیاط کے طور پر فوراً اپنے پاسورڈز تبدیل کر لینے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا سیٹ ہماری جانب سے اب تک لوڈ کی جانے والی سب سے بڑی لیک کے مقابلے میں لگ بھگ تین گنا زیادہ ہے، ان میں 625,000,000 پاسورڈز ایسے ہیں جو پہلے کبھی کسی لیک میں سامنے نہیں آئے تھے۔
متاثرہ افراد ایچ آئی بی پی کی مفت سروس کا استعمال کر کے جانچ سکتے ہیں کہ آیا ان کے ای میل اور پاسورڈز اس لیک میں شامل ہیں یا نہیں۔
ایسی خبریں تشویشناک ضرور ہوتی ہیں لیکن اگر آپ اپنے پاسورڈز محفوظ رکھیں اور لیک ہونے کے بعد انہیں مضبوط پاس ورڈ سے تبدیل کر لیں تو آپ کو بار بار پاسورڈ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
ایک مضبوط پاسورڈ میں ذاتی معلومات جیسے کہ نام، پتا، مشہور گانے وغیرہ شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ آپ ایسی چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جو آپ نے یاد کر رکھی ہوں اور جنہیں دوسرے لوگ نہیں جانتے۔
زیادہ تر اسپائی ویئر اور کی لاگرز استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفو اسٹییلرز بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو سسٹم میں محفوظ کوکیز اور اسناد (credentials) اسکین کر کے ڈیٹا چرا لیتے ہیں۔
لیکن زیادہ تر ہیکس سائبر کرمنلز کی جانب سے کیے جاتے ہیں جو مختلف طریقوں کا مجموعہ استعمال کر کے معلومات حاصل کرتے ہیں۔























