رات دیر سے کھانا بلڈ شوگر میں بے ترتیبی اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات سے جڑا ہو سکتا ہے

شام 5 بجے کے بعد کھانا یا رات کے وقت بھاری غذائیں استعمال کرنا بلڈ شوگر لیول میں بے ترتیبی اور مستقبل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرات سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔

طبی جرنل نیوٹریشن اینڈ ڈائیبیٹس میں شائع تحقیق کے مطابق انسان کا میٹابولزم دن کے وقت زیادہ فعال ہوتا ہے، جبکہ شام کے بعد انسولین کی حساسیت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس کے باعث دیر سے کھایا گیا کھانا جسم میں مؤثر طریقے سے استعمال نہیں ہو پاتا، اس صورتِ حال میں شوگر لیول زیادہ دیر تک بلند رہ سکتا ہے، جو انسولین ریزسٹنس کا سبب بن کر ذیابیطس کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دیر سے کھانا خاص طور پر ان افراد کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے جن کا وزن زیادہ ہے، جن کے خاندان میں ذیابیطس کی ہسٹری موجود ہے، یا وہ لوگ جو کم جسمانی سرگرمی رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رات کو بھاری غذائیں استعمال کرنے والوں میں بلڈ شوگر کے اتار چڑھاؤ زیادہ واضح دیکھے گئے۔

ماہرین کے مطابق شام کا کھانا ممکنہ حد تک جلد کر لیا جائے۔ ان کے مطابق شام 5 سے 7 بجے کے درمیان کھانے سے میٹابولزم بہتر رہتا ہے، شوگر لیول مستحکم ہوتا ہے اور جسم اضافی کیلوریز کو چربی کی صورت میں ذخیرہ کرنے سے بچ جاتا ہے۔

رات کے وقت بھاری، میٹھی اور زیادہ کیلوریز پر مشتمل غذاؤں کا استعمال میٹابولک صحت پر طویل المدت منفی اثرات ڈال سکتا ہے، جبکہ سونے سے چند گھنٹے پہلے کھانے سے گریز کرنا صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔

ماہرین کے مطابق کھانے کے وقت میں معمولی سی تبدیلی بھی ذیابیطس کے خطرات میں نمایاں کمی کر سکتی ہے، لہٰذا عوام کو تجویز کیا گیا ہے کہ دیر سے کھانا کھانے کی عادت کو ترک کر کے جلدی کھانے کو معمول بنایا جائے۔