وہ جس طوطے کی جان پر سب کو ڈراتے تھے آخر میں اسی طوطے کے پیچھے پڑگئے ہر جعلی طاقت رکھنے والا اپنے طاقت دینے والے سے ایک دن لڑتا ہے

ادلے کا بدلہ!
سہیل وڑائچ
16 نومبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
خدا پرستوں کا روز محشر پر پختہ ایمان ہے مگر دنیا پرستوں کے سامنے بھی آئے روز یوم حساب کا منظر رواں دواں رہتا ہے۔ اُس دنیا کے عذاب و ثواب پر تو ایمان غیبی ہے مگر ’’جیسا کروگے ویسا بھرو گے‘‘ کا محشر تو سب کے سامنے ہی بپا رہتا ہے۔ عدلیہ کے بعض جج ادلے کی اسٹیج سیٹ کرگئے تھے۔ بدلہ تو ہونا ہی تھا۔ آخر ہوکر رہا۔ آئین کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض جج خدا بن بیٹھے تھے اور آئین کی جمہوری اور عوامی تشریحات کی بجائے جوڈیشل مارشل لا نافذ کررہے تھے۔ یہ جج نخوت اور تکبر میں آئین حکومت، اداروں، پارلیمان اور عوام سب سے بالاتر ہوچکے تھے۔ دو چار مغرور منصف بیٹھ کر کروڑوں عوام کی منتخب کردہ حکومتوں اور اسمبلیوں کو گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ اصل میں تو ان کی طاقت بعض مہم جو جرنیل تھے اور عدلیہ کے جج ان کے زور پر سارے ملک کو آگے لگائے رکھتے تھے۔ آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ افتخار چوہدری کی عدالت میں پولیس، فوج اور نوکر شاہی کی روزانہ کی بنیاد پر کھچائی ہوتی تھی۔ جھوٹی درخواستوں پر ازخود نوٹس لے کر ہر طبقے کی عزت تار تار کرنے کو جوڈیشل ایکٹو ازم کا سنہرا نام دیا گیا۔ اس زمانے میں زیرک سیاست دان چوہدری شجاعت حسین نے بڑا خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب نہ تو کوئی وزیراعظم ہے اور نہ کوئی وزیراعلیٰ یا گورنر اور نہ ہی فوج کی چل رہی ہے۔ اس وقت تو افتخار چوہدری ہی بلاشرکت غیرے ملک کے حکمران ہیں۔ یہ منظر بھی بھولنے والا نہیں کہ چیف جسٹس سندھ کے دیہی علاقوں کے اسپتالوں کے دورے کررہے تھے تاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی ساکھ خراب کرسکیں۔ یہی فاضل چیف جسٹس وہ پہلے جج تھے جنہوں نے ’’نونی گورننس‘‘ کا سرعام مذاق اُڑایا اور انہی کے ذریعے عمران خان کو صادق و امین قرار دلوایا گیا۔ یہ عدل تھا یا سیاست؟ ان مہم جو ججوں کو خبط عظمت تھا مگر تاریخ کا پہیہ گھومتے دیر نہیں لگتی۔ ان سب کے کردار اور اعمال آہستہ آہستہ سامنے آگئے ہیں یا آتے رہیں گے۔
ایک زمانہ تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے تین ججوں کا شہرہ تھا، ان کی قابلیت، اصول پرستی اور ایمانداری نے ان کے جج بننے کے پیچھے سفارشوں کو بھلا دیا تھا۔ اکثر وکیل ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔ یہ جج، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس کھوسہ اور جسٹس منصور علی شاہ تھے۔ تینوں اچھے خاندانی پس منظر کے حامل تھے۔ عمر عطاء، بندیال قبیلے کے قابل فخر فرزند اور سابق چیف سیکرٹری ایف کے بندیال کے فرزند تھے۔ جسٹس کھوسہ بھی خاندانی طور پر متمول تھے۔ ان کے خاندان کا بیورو کریسی میں ایک نام تھا۔ منصور علی شاہ، لاہور کے صنعت کار سیّد خاندان سے تعلق رکھتے اور انتہائی کامیاب کارپوریٹ وکیل تھے۔ یہ تینوں رائزنگ اسٹار تھے اور اس زمانے میں ان سے توقع باندھی جارہی تھی کہ یہ ملک کی آئینی اور جمہوری تاریخ بدل دیں گے۔ جسٹس کھوسہ نے بطور وکیل آئین میں ترمیم کے خلاف آرٹیکلز لکھے مگر جب جج بن کر فیصلہ کیا تو اپنے پہلے خیالات سے یوٹرن لے لیا۔ سب فیصلوں میں پارلیمان کو سپریم اور وزیراعظم کو ملک کا چیف ایگزیکٹو مانتے رہے۔ بطور جج فیصلہ کیا تو کروڑوں کے منتخب وزیراعظم کی ایک ناقص عدالتی حکم کے ذریعے چھٹی کرا دی۔ جج صاحب نپولین کی طرح چھوٹے قدوقامت کے تھے۔ اُنہوں نے جمہوریت پر بوناپارٹزم کا وہ وار کیا کہ آج تک جمہوریت اس سے سنبھل نہیں سکی۔ ان کی اصول پسندی بروٹس کی طرح تھی جس نے سیزر کو پیچھے سے وار کرکے قتل کردیا۔ بروٹس کی اصل طاقت سیزر ہی تھا۔ قتل سے سیزر تو چلا گیا، اقتدار بروٹس کو پھر بھی نہ ملا اور وہ بے وفائی کی تاریخ کا امام ٹھہرا۔ جسٹس بندیال کی اُڑان بھی بلند تھی مگر وہ نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ جسٹس بندیال اور جسٹس منصور علی شاہ کے درمیان وکیلوں کے تنازعہ پر جو لڑائی ہوئی اس کے بعد کبھی صلح نہ ہوسکی۔ ایک زمانے کے اصول پسند جسٹس بندیال بالآخر جسٹس ثاقب نثار گروپ میں شامل ہوگئے۔ ججوں کا لاہوری گروپ تقسیم تھا، جسٹس منصور علی شاہ، ثاقب نثار اور بندیال کے مخالف گروپ میں جسٹس مقبول باقر کے ہمراہی تھے۔ مگر جب منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کی باری آئی تو یہ شبہ تھا کہ وہ اندر ہی اندر تحریک انصاف کے خیالات کے حامی ہوچکے ہیں اور تاثر یہ تھا کہ وہ چیف جسٹس بنے تو 2024ء کے انتخابات کالعدم قرار دے دیں گے، ان کے دورئہ امریکا کے دوران ایسی انٹیلی جنس رپورٹس بھی آئیں جن میں ان سے کہا گیا کہ ان کے قریبی حلقے تحریک انصاف والوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ اگلے الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ موجودہ الیکشن کو تو کالعدم قرار دیا جانے والا ہے۔
یہی وہ خدشہ تھا کہ حکومت نے سید منصور علی شاہ کو چیف جسٹس سپریم کورٹ نہ بنانے کا فیصلہ کیا حالانکہ وزیر قانون سمیت دو طاقتور وفاقی وزیر پہلے سید منصور علی شاہ کو سب سےبڑا عدالتی عہدہ دلوانا چاہتے تھے اور تو اور بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے زعماء بھی ایسا ہی چاہتے تھے مگر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کی ایک مشترکہ قانونی فرم تھی جس میں یہ تینوں کاروباری پارٹنرز تھے۔ منصور علی شاہ کے بارے میں فیصلہ بدلا تو جسٹس یحیٰی آفریدی کے نام قرعہ فال نکل آیا۔ جسٹس منصور علی شاہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کیلئے یہ فیصلہ انتہائی غیرمتوقع تھا۔ جسٹس منصور جو کبھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اتحادی تھے وہ ججوں کی نئی سیاست میں جسٹس منیب اور جسٹس عائشہ ملک کے ساتھ ایک نئی لابی میں شامل ہوگئے۔ گزشتہ روز جسٹس شمس مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو خدشہ تھا کہ 27؍ویں ترمیم کے بعد ان کا ٹرانسفر کردیا جائیگا۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی مزیدجج گھروں کو جانے کو ترجیح دیں مگر دراصل یہ سارا کیا دھرا عدلیہ کے فاضل جج حضرات کا اپنا ہی ہے۔ وہ جس طوطے کی جان پر سب کو ڈراتے تھے آخر میں اسی طوطے کے پیچھے پڑگئے ہر جعلی طاقت رکھنے والا اپنے طاقت دینے والے سے ایک دن لڑتا ہے ۔عدلیہ مقتدرہ کے سامنے آئی تو پھر ٹھہر نہ سکی اور اب عدلیہ کے اندر جھٹکے لگ رہے ہیں یہ وہی آفٹر شاکس ہیں جو سیاست دانوں، بیورو کریٹس، صحافیوں اور مقتدرہ کے خلاف کیے گئے فیصلوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر آپ آئین میں دیئے گئے اپنے کردار سے بڑھ جائیں یا اپنی حدوں سے متجاوز کرجائیں تو ایک نہ ایک دن آپ کا روز حساب آجاتا ہے۔
27؍ویں ترمیم سے جہاں ججوں کے سر پر رکھی عزت کی پگڑی پامال ہوئی ہے وہاں ججوں کے (robes)یعنی پیرہن بھی تار تار ہوگئے ہیں۔ نہ صرف عدلیہ کمزور ہوئی ججوں کے جانے سے عدلیہ کا نقصان ہوا ہے بلکہ عدلیہ کی ساکھ اور وقار بھی خاک میں مل گیا ہے۔ ججوں کی ذات کو جو نقصان ہوا سو ہوا عدلیہ کی کمزوری کا نقصان تو ہر فرد تک پہنچے گااور معاشرے پر اس کمزوری کے اثرات تادیر رہیں گے۔
https://e.jang.com.pk/detail/989137
Courtesy to daily jang
=========================

جادو اور ریاست کا گٹھ جوڑ، گوشت مرچیں کٹے ہوئے سر حکومت چلانے میں آلہ کار، بشریٰ خواب اور الہام سے معلومات عمران تک پہنچاتیں، برطانوی جریدہ
16 نومبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (رفیق مانگٹ )دنیا کے معتبر ترین جریدے دی اکانومسٹ نے انکشاف کیا ہے عمران دور حکومت میں جادو اور ریاست کا گٹھ جوڑ رہا،گوشت، مرچیں ، جانوروں کے کٹے ہوئے سر حکومت چلانے میں آلہ کاررہے، بشریٰ بی بی خواب اور الہام سے خفیہ معلومات عمران تک پہنچاتیں ، بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ نے عمران کو وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا،سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی جادو کرتی ہیں اور عمران ان کی بہت سنتے ہیں،میگزین کے مطابق جنرل فیض نے صحافی کوبشریٰ اور عمران کی شادی پر تنقید سے روکا،بشریٰ کیخلاف کرپشن کے ثبوت لانے پر عمران نےاس وقت کے ISI چیف لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیرکو عہدے سے ہٹادیا، جہانگیر ترین اور عون چوہدری بھی بشریٰ بی بی کے عتاب کا شکار ہوئے۔(1843 سے شائع ہونے والے میگزین) دی اکنامسٹ کے مضمون “دی مسٹِک، دی کرکٹر اینڈ دی اسپائی: پاکستانز گیم آف تھرونز” میں پاکستان کی سیاست میں ایک سابق کرکٹر، ایک روحانی شخصیت اور ریاستی طاقتوں کا ایسا منظرنامہ پیش کیا جسے دی اکانومسٹ نے بجا طور پر نیٹ فلکس سیریز قرار دیا ہے۔ اس سیاسی ڈرامے کے مرکز ی کردار عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ، بشریٰ بی بی ہیں جن کے بارے میں میگزین نے شیکسپیئر کے ڈرامے میکبتھ کی مرکزی کردار لیڈی میکبتھ سے تشبیہ دی ہے۔ یاد رہے، وہ اپنے شوہر میکبتھ کو بادشاہ بنانے کی ہوس میں کنگ ڈنکن کا قتل کراتی ہے، بے رحم چالیں چلتی ہے اور آخرکار پچھتاوے اور پاگل پن میں خودکشی کر لیتی ہے۔عمران خان کی اپنی روحانی رہنما سے شادی نے ملک میں تہلکہ مچا دیا تھا، اور اب یہی رشتہ مستقبل کی سیاست کا فیصلہ کر سکتا ہے آیا وہ دوبارہ اقتدار کی دہلیز پر پہنچتے ہیں یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے سابق گھریلو ملازمین، ڈرائیور، قصائی اور قریبی پارٹی رہنماؤں کے انٹرویوز پر مبنی ایک تفصیلی اور بعض جگہ چونکا دینے والی تصویر پیش کی۔رپورٹ کے مطابق جب یہ بات پھیلی کہ خان کو پاکپتن میں ایک نئی روحانی پیشوا (پیر) مل گئی ہیں تو یہ موڑ پورے ملک میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ خان کے بارے میں سالوں سے بہت سی خوبصورت خواتین کے ساتھ تعلقات کی افواہیں گردش میں رہی ہیں۔ لازمی طور پر گپ شپ میں یہی چرچا تھا کہ یہ بھی ان کا ایک اور معاشقہ ہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر آکر اصرار کیا کہ ان کا بشریٰ بی بی کے ساتھ تعلق مکمل طور پر روحانی تھا۔ دوست پریشان تھے۔جس لمحے بشریٰ بی بی خان کے گھر آئیں، کھلبلی مچ گئی۔ خان کے ڈرائیور محمد صفیر نے بتایا کہ میں نے خان سے کہا اس بار انہوں نے ’سپر بلنڈر‘ کر دیا ہے۔ خان اسے مذاق سمجھ کر ہنس دیئے۔ صفیر اس کے بعد خان کے گھر کو چھوڑ گئے۔ بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا کے خاندان والوں نے بھی ان کے بارے میں انتباہ جاری کیا۔ ایک رشتہ دار تو جہانگیر ترین تک پہنچے اور کہا کہ بشریٰ بی بی کالے جادو میں ملوث ہیں۔ انہوں نے میگزین کو بتایا: ’’میں نے ترین صاحب سے کہا کہ وہ کچھ روحانی طاقتیں حاصل کرنے کے لیے یہ عمل کر رہی ہیں تاکہ وہ لوگوں پر جادو کر سکیں۔‘‘پاکستان میں جن چیزوں کو کچھ لوگ ’’کالا جادو‘‘ کہتے ہیں وہ غیر معمولی نہیں۔ پی ٹی آئی کے عہدیداروں کا اصرار ہے کہ جادو ٹونے کے یہ قصے
ناراض سابق ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد باتیں ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بشریٰ بی بی کے غیر معمولی اعمال کی زیادہ تر تفصیلات خان کے گھر کے انہی افراد سے ملتی ہیں جنہوں نے ان کی آمد کے بعد اپنے عہدے کھو دیے۔ لیکن جو تصویر بنتی ہے وہ خاصی تفصیلی ہے۔ خان کے ڈرائیور صفیر نے بتایا کہ جلد ہی جب وہ خان کے گھر منتقل ہوئیں تو انہیں 1.25 کلو گائے کا گوشت خریدنے کو کہا گیا، جسے ان کے شوہر کے سر کے گرد تین بار گھمایا گیا جبکہ وہ منتر پڑھ رہی تھیں۔ صفیر کے مطابق، پھر وہ گوشت چھت پر پھینک دیا جاتا تاکہ پرندے کھا لیں۔ اس کے بعد سابق کرکٹر کے سر کے گرد سرخ مرچیں گھمائی جاتی تھیں، جنہیں اس لیے جلایا جاتا کہ پچھلی بیوی (ریحام خان) کی چھوڑی ہوئی بری روحیں دور ہو جائیں۔ڈرائیور نے کہا کہ انہیں روزانہ سیاہ بکروں کے کٹے ہوئے سر لانے کا بھی حکم دیا جاتا تھا،سوائے منگل اور بدھ کے، جب انہیں مردہ سیاہ مرغیاں خریدنی پڑتی تھیں۔ یہ چیزیں وہ صبح 10 یا 11 بجے خادماؤں کے حوالے کرتے۔ دوپہر میں باقیات واپس کر دی جاتیں اور کہا جاتا کہ انہیں قبرستان میں چھوڑ آئیں۔ خان کے گھر کے قریب قصائی عظیم رانا نے بھی یاددلایا کہ اس گھر سے انہیں عجیب و غریب آرڈر ملا کرتے تھے۔ ہر صبح ان سے گوشت، سیاہ جانوروں کے سر اور وقتاً فوقتاً زندہ سیاہ بکرے مانگے جاتے جو وہ ذاتی طور پر پہنچاتے اور بشریٰ بی بی کی فراہم کردہ خاص چھری (چاقو) سے ذبح کرتے۔ترین کی جانب سے کالے جادو کے دعوئوں پر خان سے بات کرنے کے چند ماہ بعد، پی ٹی آئی کے اعلیٰ رہنماؤں کو خان کی شادی کی تقریب میں مدعو کیا گیا۔ ترین نے کہا کہ کھانے کے دوران 18 مرد اور دو خواتین میز کے گرد موجود تھے لیکن بشریٰ بی بی نظر نہ آئیں۔ کھانے کے اختتام کے قریب کسی نے پوچھا کہ وہ خان کی نئی بیوی سے کب ملیں گے۔ خان کمرے سے باہر گئے اور بشریٰ بی بی کو سر سے پاؤں تک سفید لباس میں لے کر واپس آئے۔ انہوں نے ایک ایک کر کے انہیں مہمانوں سے ملوایا۔ جب وہ ترین تک پہنچے تو بشریٰ بی بی خاموشی توڑ کر بولیں: ’’میں نے یہ سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں کہ آپ مجھے کالی جادوگرنی نہ سمجھیں۔‘‘ ترین نے بتایا کہ جب وہ تقریب سے واپسی پر ایک ساتھی سے بات کر رہے تھے تو انہوں نے کہامیرا تو خاتمہ ہو گیا۔انہیں لگا کہ پی ٹی آئی میں ان کا کوئی مستقبل نہیں رہا اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے بشریٰ بی بی پر تنقید کی، انہیں فوراً کہا گیا کہ اگر آپ ان پر تنقید کریں گے تو آپ پارٹی سے باہر ہوں گےاور یہ بات آف دی ریکارڈہے۔بشریٰ بی بی کی ناراضی مول لینے کے بعد نظرانداز ہونے والے ترین واحد شخص نہیںتھے۔ خان کے سیاسی معاون عون چوہدری نے برسوں ان کے ساتھ کام کیا تھا اور توقع تھی کہ وہ وزیر اعظم کی حلف برداری میں موجود ہوں گے۔مگر تقریب سے چند گھنٹے پہلے خان نے انہیں ایک ٹیکسٹ بھیجاجسے انہوں نے میگزین کو دکھایا۔اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ ’’بشریٰ بیگم نے کل رات ایک خواب دیکھا ہے۔ وہ مجھے نہیں بتا رہیں کہ خواب کیا ہے، مگر کہہ رہی ہیں کہ اگر آپ تقریب میں ہوں گے تو وہ نہیں آ سکیں گی۔ مجھے افسوس ہے کیونکہ آپ پچھلے چھ سال سے میرے ساتھ وفاداری سے کام کر رہے ہیں۔” اگلے دن انہیں برطرف کر دیا گیا۔ خان سیاسی اور سرکاری تقرریوں کے فیصلوں میں بھی بشریٰ بی بی کی رائے لیتے تھے۔ اپنی بیوی کے اس دعوے پر یقین کرتے ہوئے کہ وہ چہروں سے پڑھ سکتی ہیں، وہ ممکنہ امیدواروں کی تصاویر منگواتے جو بشریٰ بی بی کے فیصلے کے لئے بھیجی جاتیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی مداخلت کرتی تھیں۔ خان کے ایک رشتہ دار نے ایک موقع کا ذکر کیا جب انہوں نے خان کو بتایا کہ سفر کا وقت سازگار نہیں۔ چنانچہ چار گھنٹے تک طیارہ کھڑا رہا یہاں تک کہ بشریٰ بی بی نے کہا کہ اب پرواز کا وقت مناسب ہے۔ فیصل واوڈا کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی ہر بحث میں ملوث نظر آتی تھیں۔ انہوں نے ایک ملاقات کا حوالہ دیا جس میں خان اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ موجود تھے، مگر گفتگو میں بشریٰ بی بی دونوں سے زیادہ بولتی رہیں۔ پی ٹی آئی نے ان بیانات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اکانومسٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے اثر و رسوخ کے بارے میں ایک اور نظریہ بھی موجود ہے۔ کیا بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ خفیہ اداروں کی ایک حکمتِ عملی تھا؟ اس بات کا پہلا اشارہ تب ملا جب ایجنسی بشریٰ بی بی میں غیر معمولی دلچسپی لینے لگی یہ خان سے ان کی خفیہ شادی کے فوراً بعد ہوا۔ صحافی طلعت حسین نے خان کے اس دعوے پر شک ظاہر کیا تھا کہ شادی نہیں ہوئی۔ انہی دنوں انہیں جنرل فیض حمید کا فون آیا: ’’یہ اچھی بات نہیں کہ آپ بشریٰ اور عمران کی شادی کے بارے میں بات کریں۔‘‘حیران ہو کر صحافی نے پوچھا’’کیا خفیہ ایجنسی نے ان کی شادی کرائی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’نہیں، ہم نے نہیں۔ مگر ہم اس معاملے پر طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا ایسا نہ کریں۔ ایجنسی نے یہ رشتہ نہ بنایا ہو، مگریہ وجوہات موجود ہیں کہ اس نے اس سے فائدہ اٹھایا،کہانی یہ ہے کہ جنرل فیض نے بشریٰ بی بی کو استعمال کیا۔ ایجنسی اپنے ایک افسر کو بشریٰ بی بی کے پیر کے پاس معلومات دے کر بھیجتی، جو انہیں بشریٰ بی بی تک پہنچاتے اور وہ آگے خان تک۔ میگزین نے مثال دی کہ افسر کسی پیر کو پہلے ہی بتا دیتا کہ کون سا سیاستدان گرفتار ہونے والا ہے۔پھر بشریٰ بی بی خان کو بتاتیں کہ انہیں ’’کشف‘‘ ہوا ہے۔ جب یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی تو خان حیران رہ جاتے اور سمجھتے کہ ان کا خدا سے خاص تعلق ہے۔ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خان کے قریبی لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ایسا ہوا تھا۔ فیض معلومات حاصل کر رہے تھے، وہ تفصیلات بشریٰ بی بی کو بھیجتے اور وہ خان کو بتاتیں کہ انہیں روحانی طریقوں سے خواب میں یہ معلومات ملتی ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ان بیانات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ بشریٰ بی بی کو علم تھا کہ وہ استعمال ہو رہی ہیں یا نہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں حقیقت کا علم نہ ہو۔پی ٹی آئی کے ترجمان حسن نے طنزیہ کہا یہ جاسوسی ناول نگار’’ایگاتھا کرسٹی‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔‘‘ جنرلوں کا جوش و خروش جلد ختم ہو گیا اور ان کا صبر جزوی طور پر بشریٰ بی بی کی ہر جگہ موجودگی سے آزمائش میں پڑا۔ جنرل باجوہ انہیں تکلیف دہ اور رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ایک سابق وزیر نے کہاباجوہ ہمیشہ غصے میں کہتے تھے کہ وہ جادو ٹونا کرتی ہیں۔انہیں لگتا تھا کہ خان ان سے زیادہ بیوی کی سنتے ہیں۔2019 میں اس وقت آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر عمران خان کے پاس ثبوت لے کر آئے کہ بشریٰ بی بی اپنے دوستوں کی کرپشن میں مدد کر رہی ہیں۔ خان نے اس کے فوراً بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا۔بشریٰ بی بی بچپن میں بشریٰ رئیس وٹوسے جانی جاتی تھیں ہمیشہ اتنی متقی نہیں تھیں۔ ان کے دادا زمیندار تھے۔ والد نے زمین فروخت کر کے چینی ریستوران کھول لیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بشریٰ بی بی اور ان کی بہن مریم کو لاہور میں رشتہ داروں کے پاس بھیج دیا گیا۔ مریم کے مطابق وہ دونوں کوئین میری کالج میں پڑھیں، مگر کالج کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ان کے پڑھنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ بشریٰ بی بی کا خاندان اشرافیہ سے ایک درجہ نیچے تھا۔ نوجوانی میں جاننے والوں کے مطابق وہ آزاد خیال محفلوں میں شریک ہوتی تھیں، تاہم مریم نے اس کی تردید کی۔ دیہات میں رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہوئے وہ دوپٹہ پہننے سے بھی انکار کر دیتی تھیں۔ سابق دیہاتی ہمسائے نے مکمل تصدیق تو نہ کی مگر کہا کہ وہ ’’انتہائی جدید خیالات‘‘ کی حامل تھیں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بشریٰ بی بی کی شادی مانیکا سے ہوئی۔ لاہور کے ایک مشاہدہ کار کے مطابق یہ جوڑا ان کے لئے بڑی کامیابی تھا۔مانیکا خاندان زمیندار اور وہ نچلے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔شادی نے آسائش اور وقار دیا مگر پابندیاں بھی ساتھ لائیں۔ ایک دولت مند گھرانے کی بیوی ہونے کے ناطے ان سے توقع تھی کہ وہ بچوں کی پیدائش، رشتہ داروں سے ملاقات اور فیملی ہاؤسز کے عملے کی نگرانی میں مصروف رہیں۔ ان کے پانچ بچے تھے۔ مریم کے مطابق بشریٰ بی بی کی شادی خوشگوار نہیں تھی۔ لگتا ہے کہ انہیں صوفی اسلام کے فلسفے میں پناہ ملی۔ 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد عمران خان قومی ہیرو بنے۔ 1996 میںعمران خان سیاست میں آئے اور تحریک انصاف قائم کی اور طویل سیاسی تنہائی دیکھی۔ 2014 میں نواز شریف کے خلاف احتجاج نے انہیں موقع دیا مگر تحریک کمزور پڑ گئی۔ 2016 میں پاناما لیکس نے نئی گنجائش پیدا کی مگر مارچ دارالحکومت تک نہ پہنچ سکا۔ سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی کہ کیا عمران خان کا سیاسی عروج ختم ہو چکا ہے۔ریحام خان سے ناکام ازدواجی زندگی کے بعد عمران خان شدید بے سکونی کا شکار تھے۔ اسی دوران خان کا تعارف بشریٰ بی بی سے ان کی بڑی بہن مریم نے کرایا۔ بشریٰ بی بی نے ابتدا میں بات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ خاندان سے باہر کسی مرد سے نہیں ملتیں۔ مگر آخرکار فون پر مشورہ دینے پر راضی ہو گئیںاور تب ہی سب کچھ شروع ہوا۔ راتوں رات گھنٹوں فون پر باتیں ہوتیں، پھر ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ بشریٰ بی بی کے شوہر خاور مانیکا ابتدا میں خوش تھے کہ ایسی مشہور شخصیت ان کے گھر آتی ہے۔ مگر جیسے جیسے قربت بڑھی وہ پریشان ہو گئے۔ مانیکا نے کہا کہ وہ اکیلے بیٹھ کر خان سے بات کرنا چاہتی تھیں۔ ’’میں کہتا تھا کہ ہم سب اکٹھے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟‘‘ بعض اوقات وہ اچانک کمرے میں داخل ہوتے تو ہر بار جب وہ قدم رکھتے، خاموشی چھا جاتی۔ مانیکا کے مطابق ان کی بیوی نے خان کو بتایا کہ انہوں نے مستقبل دیکھ لیا ہے،اگر وہ دونوں شادی کر لیں تو خان کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہو گی۔بشریٰ بی بی نے اس کہانی کی تردید کی۔ 2017 کے آخر میں انہوں نے شوہر سے طلاق لی اور یکم جنوری 2018 کو خان سے خفیہ تقریب میں شادی کر لی۔ خان کا دعویٰ ہے کہ شادی سے پہلے انہوں نے اپنی دلہن کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا۔ اکانومسٹ کے الفاظ میں: ’’سابق پلے بوائے کے لئے اب حسن (لُک) کی کوئی اہمیت نہیں رہی تھی۔‘‘ ان کے دل میں روحانی طاقت پر اعتماد عروج پر پہنچ گیا ہوگا جب شادی کے چند ماہ بعد ہی عام انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی۔ خان وزیر اعظم بن گئے۔ان کی یہ کامیابی جزوی طور پر فوج کی حمایت کا نتیجہ تھی۔ وزیر اعظم بننے کے بعد خان عوامی وعدے پورے نہ کر سکے جن میں اسلامی فلاحی ریاست اور ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ شامل تھا۔ سیاسی و فوجی اشرافیہ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اہلیہ نے اہم دوستوں اور اتحادیوں کو ناراض کر دیا۔ وزراء اور گھریلو عملے نے شکایت کی کہ ’’غیر معمولی فرسٹ لیڈی‘‘ کو بہت زیادہ اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ ان کی مداخلت ’’مکمل‘‘ تھی۔