
وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری کا کہنا ہےکہ برطانوی جریدے کے آرٹیکل میں جو بھی چھپا ہے وہ بالکل درست ہے، شرم ناک ہےکہ وزیراعظم سرکاری فیصلے بیوی سے پوچھ کر کرتے تھے۔
ایک بیان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق قریبی ساتھی اور پولیٹیکل سیکرٹری عون چوہدری کا کہنا تھا کہ 25کروڑ عوام کا مذاق بنایا گیا ہے، اس سے ملک کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانوی جریدے کے آرٹیکل میں جو بھی چھپا ہے وہ بالکل درست ہے، شرم ناک ہےکہ وزیراعظم سرکاری فیصلے بیوی سے پوچھ کر کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں
’مرچیں جلانا، بکرے کے سر قبرستان پھینکوانا‘، بشریٰ کے آنے کے بعد عمران خان کے گھر عجیب رسومات شروع ہوئیں: دی اکانومسٹ
بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہے، برطانوی جریدہ
خیال رہےکہ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے بشری بی بی پر خصوصی رپورٹ جاری کی ہے۔ دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ بشریٰ بی بی سے شادی نے ناصرف عمران خان کی ذاتی زندگی بلکہ اُن کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔
سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ’روحانی مشاورت‘ کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈےکو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے ایک رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالا جادو کرتی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان باتوں کو ناراض ملازمین کی پھیلائی ہوئی بے بنیاد کہانیاں قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ عرصے بعد ایک دعوت میں جہانگیر ترین سے ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے خود جہانگیر ترین سے کہا کہ انہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ آپ مجھے کالے جادو والی عورت نہ سمجھیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے اسی رات سمجھ لیا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل نہیں، اور بعد میں پارٹی چھوڑ دی، جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ تاثر پھیل گیا کہ اگر کسی نے بشریٰ بی بی پر تنقید کی تو وہ پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔
عون چوہدری کو کس وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا؟
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِعتاب آئے، عمران خان نے انہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہےکہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی، اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشریٰ بی بی سے رائے لیتے تھے اور ان کے کہنے پر لوگوں کی تصاویر بھیج کر چہرہ شناسی کرواتے تھے، یہاں تک کہ ایک بار فلائٹ چار گھنٹے تک رکی رہی، کیونکہ بشریٰ بی بی کے مطابق اڑان کا وقت موزوں نہیں تھا۔
واضح رہےکہ عون چوہدری کا شمار عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور وہ بشریٰ بی بی سے عمران خان کے نکاح کی تقریب میں بھی شریک تھے جب کہ اس سے قبل ریحام خان سے عمران کی دوسری شادی میں بھی وہ عمران خان کےگواہ تھے۔























