
وفاقی حکومت نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اپنا قرض ایک ہزار283ارب روپے کم کردیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق حکومت نے ستمبر میں اپنا قرضہ مزید852ارب روپے کم کیاہے، حکومت کا قرض ستمبر 2025کے اختتام پر 76 ہزار 605 ارب روپے تھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کا مقامی قرض ستمبر میں 649ارب روپے کم ہوا، جبکہ حکومت کا بیرونی قرض ستمبر میں 203ارب روپے کم ہوا ہے۔
================
امید ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امید ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس وَن میں صحافیوں سے گفتگو کی۔
اس دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آپ آئندہ ہفتے سعودی ولی عہد سے ملاقات کرنے والے ہیں؟ ملاقات کے مقاصد کیا ہیں؟ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ یہ ملاقات سے بڑھ کر ہے۔
صحافی نے سوال پوچھا کہ کیا ابراہیمی معاہدے اس بات چیت کا حصہ ہوں گے؟اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے بھی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔
ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ایف 35 طیاروں کی ڈیل جلد متوقع
صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے سعودی عرب کو ایف 35 طیارے فروخت کا فیصلہ کیا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ سعودی عرب بہت سے طیارے خریدنا چاہتے ہیں، ہم بہترین طیارے بناتے ہیں، بہترین میزائل بناتے ہیں، آپ نے دیکھا جب ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب بہت سارے لڑاکا طیارے خریدنا چاہتا ہے۔
=====================
ٹرمپ سعودی ولی عہد کیساتھ ایف 35 طیاروں کی ڈیل کے قریب ہیں: بلومبرگ
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آئندہ دنوں امریکا کا دورہ کریں گے جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاملات زیرِ بحث ہیں، جن میں مشرقی وسطیٰ کی سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور حالیہ غزہ بحران کے تناظر میں خطے میں تعلقات کی بحالی سمیت دیگر امور شامل ہیں۔
اس حوالے سے امریکی جریدے بلومبرگ نے کہا ہےکہ امریکی صدر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ایف 35 طیاروں کی فروخت کی ڈیل کے قریب ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور دفاعی معاہدوں پر منگل کو دستخط متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق محمد بن سلمان کی واشنگٹن آمد کا مقصد امریکی دفاعی اور ٹیکنالوجی شعبوں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور سعودی عرب کی سکیورٹی و معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ ملاقات کے دوران اسرائیل سعودی عرب تعلقات کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ ملاقات خطے کی سیاست اور مستقبل کے تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
=======================























