
چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔
یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔
ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔
بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا
اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ
اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا
یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا
ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں
جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔
جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے
ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان























