کراچی میں 35ویں نیشنل گیمز کی مشعل روشن، جوش و خروش عروج پر وزیراعلیٰ سندھ نے مشعل بردار تقریب کی صدارت کی، الٹی گنتی کا آغاز

کراچی میں 35ویں نیشنل گیمز کی مشعل روشن، جوش و خروش عروج پر

وزیراعلیٰ سندھ نے مشعل بردار تقریب کی صدارت کی، الٹی گنتی کا آغاز

کراچی کو 18 سال بعد نیشنل گیمز کی میزبانی ملنا تاریخی لمحہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی عظیم اسپورٹس فیسٹیول کی قیادت کےلیے پوری طرح تیار ہے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ نے کوئٹہ اولمپک ایسوسی ایشن سے مشعل وصول کرکے باقاعدہ میزبانی کا آغاز کیا

تاریخ میں پہلی بار مشعل کو بحیرہ عرب کے پانیوں میں بھی لے جایا جائےگا

مشعل پورے ملک کا سفر کرنے کے بعد 6 دسمبر کو افتتاحی تقریب میں واپس آئےگی

کراچی (14 نومبر): کراچی میں جمعہ کے روز اس وقت جوش و خروش اپنی انتہا کو چھونے لگا جب پاکستان کے کھیلوں کی جنم بھومی کہلانے والے اس شہر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 35ویں نیشنل گیمز 2025 کی مشعل روشن کی۔ یہ کھیل 6 سے 13 دسمبر 2025 تک کراچی کے 24 اعلیٰ معیار کے مقامات پر منعقد ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی زیر صدارت یہ شاندار تقریب مزارِ قائد پر منعقد ہوئی جہاں انہوں نے باقاعدہ طور پر گیمز کے لیے الٹی گنتی کا آغاز کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تقریب کے مرکزی مقام پر کھڑے تھے جہاں اس تقریب نے قومی اتحاد اور کھیلوں کے عزم کا مضبوط اظہار کیا۔ امید اور کھیل کی روح کی علامت مشعل بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ہاتھوں سے وزیراعلیٰ کو منتقل کی گئی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو تقریباً دو دہائیوں بعد نیشنل گیمز کی میزبانی کا بے مثال اعزاز ملا ہے لہٰذا اسے شایانِ شان اور یادگار انداز میں منعقد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ کھیلوں کا فروغ نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ 35ویں نیشنل گیمز کی میزبانی نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہوگی۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان، خصوصاً نوجوان لڑکیاں، غیر معمولی ہمت اور عزم رکھتی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں اور ان کی صلاحیتوں پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 سال بعد کراچی میں نیشنل گیمز کی میزبانی ایک اعزاز ہے اور اس مقام کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ آج ہم قائد اعظم کے مزار کے سامنے کھڑے ہیں، جہاں پہلی نیشنل اولمپک تقریب منعقد ہوئی تھی۔

وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ پہلی نیشنل اولمپکس 1948 میں بانیٔ پاکستان نے کراچی میں شروع کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی ٹرافی قائد اعظم محمد علی جناح نے عطیہ کی تھی اور آج تک چیمپئن کو قائد اعظم ٹرافی دی جاتی ہے۔”

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی نے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ نیشنل گیمز کی میزبانی کی ہے۔ انہوں نے آئندہ ایڈیشن کی کامیابی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت سندھ، محکمہ کھیل اور پوری انتظامیہ کی جانب سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ 35ویں نیشنل گیمز ایک شاندار کامیابی حاصل کریں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کراچی کے شہری ہر مقام کو بھر دیں گے۔ یہ گیمز پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب نیشنل گیمز میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ایونٹ سے نمایاں اسپورٹس ٹیلنٹ سامنے آئے گا جیسا کہ حال ہی میں ارشد ندیم نے اولمپکس میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

مشعل بردار روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی ابتدا قدیم یونان کے شہر اولمپیا سے ہوئی تھی۔ 1928 سے ہر جدید اولمپک گیمز کے لیے مشعل جلائی جاتی ہے۔ مشعل روایتی طور پر گزشتہ میزبانوں سے آئندہ میزبانوں کو منتقل کی جاتی ہے۔آج نیشنل گیمز کی مشعل کوئٹہ سے کراچی پہنچی ہے اور یہاں سے یہ پشاور روانہ ہوگی جو آئندہ گیمز کا میزبان ہوگا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نیشنل گیمز کے لیے عالمی معیار کی انتظامات یقینی بنائے گی۔ تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے محفوظ اور منظم ماحول فراہم کرے گی۔ انہوں نے سندھ اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام “پاکستان زندہ باد” کے نعرے سے کیا۔

مزارِ قائد سے ساحل تک مشعل کا سفر

تقریب کا آغاز قومی ترانے اور تلاوتِ قرآنِ پاک کی روح پرور فضا سے ہوا جس نے ماحول کو وطن دوستی کے جذبے سے بھر دیا۔ طلبہ، اولمپک نمائندوں اور معزز مہمانوں کی موجودگی میں بلوچستان اولمپک ایسوسی ایشن نے باقاعدہ طور پر مشعل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے حوالے کی جس کے ساتھ ہی میزبانی کی ذمہ داری بھی سندھ کے سپرد ہوگئی۔
ایک پُرجوش لمحے میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مشعل صوبائی وزیرِ کھیل محمد بخش خان مہر کے حوالے کی، جس کے ساتھ ہی مشعل نے اپنے شاندار سفر کا آغاز کیا۔ یہ مشعل کراچی کی اہم ترین شاہراہوں سے گزرتی ہوئی “روشنیوں کے شہر” میں امید اور روشنی کی علامت بنے گی اور تاریخ میں پہلی بار اسے بحری جہاز کے ذریعے بحیرۂ عرب کے پانیوں پر بھی لے جایا جائے گا جس کے بعد یہ اپنی قومی ریلی کا آغاز کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں تک پہنچے گی۔
وزیراعلیٰ نے 35ویں نیشنل گیمز کا رنگا رنگ لوگو بھی متعارف کرایا جس نے اس تاریخی ایونٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا جو پہلی بار 1948 میں—آزادی کے بعد ہونے والے پہلے نیشنل گیمز—کے طور پر کراچی میں منعقد ہوا تھا۔

میگا ایونٹ کی آمد: 11 ہزار خواب

کراچی ایک بار پھر ملک کے کھیلوں کے مرکز کے طور پر اپنی حیثیت بحال کرنے جا رہا ہے۔ 18 سال بعد سندھ اس عظیم ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ نیشنل گیمز میں ملک کے تمام صوبوں ، پاک فوج، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، واپڈا، پولیس اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت تمام بڑے محکموں سے 11 ہزار سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز شرکت کریں گے۔

مقابلے

کُل 34 کھیل جن میں اولمپک اور نان اولمپک دونوں شامل ہیں، مثلاً تیر اندازی، ایتھلیٹکس، روئنگ اور رگبی۔
سندھ حکومت نے اس ایونٹ کو عالمی معیار کے مطابق منعقد کرنے کے لیے جامع کمیٹیاں قائم کر دی ہیں، جن میں لوجسٹکس، رہائش، اینٹی ہراسمنٹ اور میڈیا کوریج شامل ہیں تاکہ مقابلوں کا یہ ہفتہ منظم اور یادگار ثابت ہو۔

گرینڈ فائنل: مشعل کی واپسی

ملک بھر کا سفر مکمل کرنے کے بعد یہ تاریخی مشعل 6 دسمبر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والی شاندار افتتاحی تقریب کے لیے واپس پہنچے گی جس کی صدارت صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کریں گے۔ 13 دسمبر کو اختتامی تقریب وزیرِ اعظم شہباز شریف کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت کے ساتھ منعقد ہوگی۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ مشعل بردار محض ایک علامتی آغاز نہیں بلکہ قومی وحدت اور مسابقت کی ناقابلِ تسخیر روح کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اس عظیم اسپورٹس فیسٹیول کی قیادت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبائی محکمۂ کھیل نوجوانوں کے لیے ہر دو سال بعد یوتھ اولمپکس کا اہتمام کرے گا۔
اس موقع پر صوبائی وزیرِ کھیل سردار محمد بخش خان مہر اور صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے بھی خطاب کیا۔ سیکریٹری اسپورٹس منور مہیسّر سمیت محکمۂ کھیل اور سندھ اولمپکس کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔

عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے کئی سفیروں کی ملاقاتیں، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

ہنگری، فرانس ، ہالینڈ اور یورپی یونین کے سفیروں کی وزیراعلیٰ ہاوس میں الگ الگ ملاقاتیں

سرمایہ کاری، ورثے کے تحفظ، ثقافت، قابلِ تجدید توانائی میں تعاون پر گفتگو

زراعت، تعلیم، پانی کے انتظام اور معاشی ترقی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق

سندھ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو مکمل سہولت دینے کو تیار ہے، وزیراعلیٰ

کراچی (14 نومبر): وزیراعلیٰ ہاؤس میں جمعہ کے روز اعلیٰ سطح کی سفارتی ملاقاتوں کا سلسلہ ہوا جہاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہنگری، فرانس، ہالینڈ اور یورپی یونین کے سفراء سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں باہمی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع، ورثے کے تحفظ اور صوبے میں سماجی ترقی کی مختلف منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔

ملاقاتوں میں وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید، سیکریٹری وزیراعلیٰ عبدالرحیم شیخ، سینئر سفارتکار، قونصل جنرل اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

ہنگری کے سفیر کی ملاقات

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہنگری کے سفیر ڈاکٹر زولتان ورگا سے پانی کی صفائی، ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے، ماحولیات اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر بات چیت کی۔ ڈپٹی ہیڈ آف مشن ڈورا گنزبرگر اور اعزازی قونصل جنرل مخدوم عمر شہریار بھی موجود تھے۔

دونوں جانب قدیم آثار اور ثقافتی ورثے کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی جن میں موہن جودڑو، مکلی، چوکنڈی کے قبرستان اور وادیٔ سندھ کی دیگر قدیم تہذیبی مقامات شامل تھے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے لوگ پانچ ہزار سالہ قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کے وارث ہیں۔ ہمارا ورثہ انسانی تاریخ کی جڑوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے سندھ کی شناخت کو امن کی سرزمین قرار دیا جو صوفی بزرگوں کی تعلیمات سے تشکیل پائی جنہوں نے محبت، ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے احترام اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔

دونوں جانب سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر بات چیت ہوئی اور تعلیم، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تعاون میں مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے پر غور کیا گیا۔ ہنگری کے سفیر نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

فرانس کے سفیر کی ملاقات

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے فرانس کے سفیر نکولا گیلی سے بھی ملاقات کی جن کے ہمراہ قونصل جنرل الیکسس شاہتنسکی موجود تھے۔ دونوں جانب آثارِ قدیمہ، ثقافت، سرمایہ کاری اور استعدادکار میں اضافے سے متعلق تعاون پر گفتگو ہوئی۔ فریقین نے پیرس میں قائم ایشین سولائزیشن میوزیم پر تبادلۂ خیال کیا اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ فرانسیسی سفیر نے سندھ کے قدیم آثار کے تحفظ میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ نے سندھ میں فرانسیسی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں خصوصاً قابلِ تجدید توانائی اور شہری ترقی کے شعبوں میں فرانسیسی کمپنیوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ مراد علی شاہ نے فرانسیسی سرمایہ کاروں کو مکمل سرکاری تعاون کی یقین دہانی کرائی اور زراعت و ڈیری کے شعبوں میں مشترکہ کام کی اہمیت پر زور دیا۔
فرانسیسی سفیر نے کہا کہ فرانسیسی کمپنیاں سندھ میں معدنیات و کان کنی کے شعبے میں امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سرمایہ کاری کے محکمے کو ہدایت کی کہ ترجیحی منصوبوں کی تفصیلی فہرست فرانسیسی سفارتخانے کے ساتھ شیئر کی جائے تاکہ مستقبل کے روابط کو آسان بنایا جا سکے۔

ہالینڈ کے سفیر کی ملاقات

بعد ازاں وزیراعلیٰ نے ہالینڈ کے سفیر رابرٹ۔جان سیگرٹ سے ملاقات کی جن کے ہمراہ فرسٹ سیکریٹری الیگزینڈر آکر بوم اور اعزازی قونصل جنرل طارق خان موجود تھے۔ ملاقات میں دو طرفہ اقتصادی خصوصاً پانی کے انتظام، زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی ایک اہم بندرگاہی شہر ہونے کے باعث سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل دنیا کے بہترین ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے ڈچ کمپنیوں کو مویشی پال، ڈیری پیداوار اور قابلِ تجدید توانائی میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی اور مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ڈچ سفیر نے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور سندھ کے کاروباری ماحول کو سراہا۔

یورپی یونین کے سفیر کی ملاقات

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یورپی یونین کے سفیر ریموندس کاروبلس سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور جاری ترقیاتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔

یورپی یونین کے سفیر نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ یورپی سرمایہ کاروں کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم یورپی سرمایہ کاروں کے منتظر ہیں۔ ان کا دورہ سندھ میں نئی سرمایہ کاری کے معاہدوں کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔ دونوں جانب ماربل، گرینائٹ، معدنیات اور دیگر قیمتی شعبوں میں مواقع پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے سفیر کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں جاری بحالی کے کام سے آگاہ کیا اور یورپی یونین کی مضبوط مدد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے سندھ میں سیلاب متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لاقات میں تعلیم، صحت اور مہارتوں کے فروغ کے پروگراموں میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی اور عوامی روابط کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے سندھ کی مذہبی رواداری کی قدیم روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں مذہب، فرقے یا قومیت کی بنیاد پر تقسیم پیدا ہوتی ہے لیکن سندھ ہمیشہ برداشت اور ہم آہنگی کی سرزمین رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں اقلیتی برادریوں کے اراکین عام نشستوں پر انتخابات لڑتے ہیں۔

یورپی یونین کے سفیر نے سندھ کی جاری ترقیاتی حکمت عملی میں گہری دلچسپی ظاہر کی جبکہ دونوں جانب تعاون کے مزید فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ان ملاقاتوں کے ذریعے سندھ اور اس کے بین الاقوامی شراکت دارہنگری، فرانس، ہالینڈ اور یورپی یونین نے سرمایہ کاری، ورثے کے تحفظ، ثقافت، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، تعلیم، پانی کے انتظام اور معاشی ترقی میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے تمام وفود کو یقین دلایا کہ سندھ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے لیے مکمل سہولت، شفافیت اور سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ