
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ججز کے استعفوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت ہوگئی۔
راولپنڈی میں اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، شاہد خاقان عباسی، اختر مینگل، سلمان اکرم راجا، شوکت بسرا و دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کی بیٹھک میں 27ویں آئینی ترمیم اور اس کے اثرات پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ججز کے استعفوں کے بعد حزب اختلاف کی قیادت نے مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت کی ہے۔اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ہم نے ایک عملی پروگرام طے کیا ہے، جو جلد اعلامیہ کی صورت میں پیش کردیا جائے گا۔
==================
عمران کی بشریٰ سے شادی، ذاتی زندگی ہی نہیں انداز حکمرانی پر بھی سوالات
عمران کی بشریٰ سے شادی، ذاتی زندگی ہی نہیں انداز حکمرانی پر بھی سوالات برطانوی جریدے اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تیسری شادی نے محض ذاتی زندگی ہی نہیں، ان کی حکمرانی کے انداز کو بھی گہرے سوالات کے زد میں لاکھڑا کیا ہے۔ حکومتی حلقوں اور سابق معاونین کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بشری بی بی نے اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ”روحانی مشاورت“ کا رنگ غالب ہونے کی شکایات پیدا ہوئیںں ۔وہ اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں ناکام رہے۔۔بعض مبصرین کے مطابق مقتدر حلقوں کے چند افراد مبینہ طور پر ایسے اشارے اور معلومات بشری بی بی تک پہنچاتے رہے جو بعد ازاں عمران خان کے سامنے روحانی ”بصیرت“ کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔
================
ٹرمپ سعودی ولی عہد کیساتھ ایف 35 طیاروں کی ڈیل کے قریب ہیں: بلومبرگ
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آئندہ دنوں امریکا کا دورہ کریں گے جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاملات زیرِ بحث ہیں، جن میں مشرقی وسطیٰ کی سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور حالیہ غزہ بحران کے تناظر میں خطے میں تعلقات کی بحالی سمیت دیگر امور شامل ہیں۔
اس حوالے سے امریکی جریدے بلومبرگ نے کہا ہےکہ امریکی صدر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ایف 35 طیاروں کی فروخت کی ڈیل کے قریب ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور دفاعی معاہدوں پر منگل کو دستخط متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق محمد بن سلمان کی واشنگٹن آمد کا مقصد امریکی دفاعی اور ٹیکنالوجی شعبوں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور سعودی عرب کی سکیورٹی و معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ ملاقات کے دوران اسرائیل سعودی عرب تعلقات کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ ملاقات خطے کی سیاست اور مستقبل کے تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔























