
꧁☬☠بابرستان☬💞꧂
Athar G
کرکٹ کی دنیا میں بعض اوقات ایسے حیران کن اتفاقات سامنے آتے ہیں جو نہ صرف مداحوں کو چونکا دیتے ہیں بلکہ ماہرین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
سینیئر کرکٹ تجزیہ نگار اطہر جی کا تفصیلی تجزیہ
ایسا ہی ایک دلچسپ ریکارڈ اس وقت سامنے آیا جب قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم نے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں شاندار سنچری بنا کر اپنی 83 اننگز کی طویل انتظار گاہ ختم کی۔ بابر اعظم نے گزشتہ دو سال سے زائد عرصے میں مستقل مزاجی کے ساتھ رنز تو بنائے، مگر تین ہندسوں کی اننگ ان سے دور رہی۔ راولپنڈی ٹیسٹ میں ان کی بھرپور واپسی نہ صرف پاکستان کے لیے خوشی کا باعث بنی بلکہ ان کے ناقدین کے لیے بھی واضح جواب تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی بیٹر ویرات کوہلی بھی بالکل اسی نوعیت کی صورتحال سے گزرے تھے۔ 2019 سے 2022 تک کوہلی بھی سنچری کے لیے ترستے رہے اور ان کی بھی سنچریوں کے درمیان وقفہ 83 اننگز ہی کا تھا۔ کوہلی نے یہ سلسلہ افغانستان کے خلاف دبئی میں ایک شاندار سنچری کے ساتھ ختم کیا تھا۔ دونوں عظیم بیٹرز کے درمیان یہ مماثلت کرکٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا باب بن گئی ہے۔
سینیئر تجزیہ نگار اطہر جی کے مطابق یہ اتفاق اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے ٹاپ کلاس بیٹر بھی کبھی کبھار ایسے مرحلوں سے گزرتے ہیں جہاں فارم، حالات اور دباؤ کارکردگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس کے باوجود عظیم کھلاڑیوں کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود اعلیٰ سطح پر واپسی کرتے ہیں۔ بابر اعظم اور ویرات کوہلی کی 83 اننگز کے بعد شاندار سنچریاں ان کی ذہنی مضبوطی، تکنیکی مہارت اور عالمی معیار کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
دونوں کھلاڑی اپنی اپنی ٹیموں کے لیے نہایت اہم اثاثہ ہیں اور ان کی یہ واپسی ثابت کرتی ہے کہ محنت، استقامت اور کلاس کبھی زائل نہیں ہوتی۔ یہ یقینی طور پر کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک یادگار اور منفرد اتفاق ہے۔




31 سالہ بابر اعظم نے 10 سال کے دوران 138 میچز کی 135 اننگز کھیلیں اور 20 سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔
دوسری طرف سعید انور نے 14 سالہ ون ڈے کیرئیر کے دوران 247 میچز کی 244 اننگز کھیلیں اور 20 سنچریاں اور 43 نصف سنچریاں بنائیں۔
بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں 5 بار صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں جبکہ سعید انور 15 مرتبہ بغیر کوئی رنز بنائے پویلین لوٹے۔
بابر اعظم نے 2 دن میں 2 بھارتی بیٹرز کو پیچھے چھوڑ دیا
اسٹار بیٹر نے ایک روزہ کرکٹ میں 2 سال اور 2 ماہ سے زائد کے دورانیے کے بعد یعنی کل 807 دن کے طویل انتظار کے بعد سنچری اسکور کی ہے۔
اس کے ساتھ ہی بابر اعظم سری لنکا کے خلاف 12 ایک روزہ میچز میں 4 سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 666 رنز اسکور کے ہیں، اس طرح انہوں نے عمران خان کا 636 رنز کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
بابر اعظم انضمام الحق اور محمد حفیظ کا لنکن ٹیم کے خلاف سنچریوں کا ریکارڈ بھی برابر کرچکے ہیں، سری لنکا کے خلاف پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ سعید انور کے پاس ہے، انہوں نے 52 میچز میں 7 بار سو رنز اسکور کر رکھے ہیں۔
بابر اعظم پاکستانی میدانوں میں مستقل مزاجی کے ساتھ پرفارمنس دکھا رہے ہیں، وہ ہوم گراؤنڈ پر 5 ہزار بنانے سے مزید 21 رنز دور ہیں، جس کے بعد وہ پاکستان کے جاوید میانداد، انضمام الحق اور محمد یوسف کے بعد چوتھے بیٹر بن جائیں گے۔
پاکستان کے اسٹار بیٹر نے ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین 20 سنچریاں بنانے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، جنوبی افریقا کے ہاشم آملہ نے 108 اننگز جبکہ بھارت کے ویرات کوہلی نے یہ سنگ میل 133 اننگز میں عبور کیا تھا جبکہ اے بی ڈویلیر نے 175 اور روہیت شرما نے 183 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔























