الحمدللہ! ایک اہم سنگِ میل عبور


الحمدللہ! ایک اہم سنگِ میل عبور
القادر اسکولنگ سسٹم لیاری اور پاکستان ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر سندھ) کے یوتھ اور والنٹیئر ڈپارٹمنٹ کے درمیان باہمی تعاون کی مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط ہوگئے۔
اس کا مقصد لیاری کے طلبہ و طالبات کو ہلال احمر یوتھ کلب کے پلیٹ فارم سے بنیادی طبی امداد (First Aid)، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے (Disaster Management)، لیڈرشِپ ٹریننگ اور روڈ سیفٹی جیسے اہم تربیتی کورسز فراہم کرنا ہے۔
تقریب کا انعقاد ہلال احمر سندھ کے ہیڈ کوارٹرز میں کیا گیا، جہاں القادر اسکول کے منتظمِ اعلیٰ دوست محمد دانش اور ہلال احمر کے سیکریٹری کنور وسیم نے چیئرمین ریحان ہاشمی کی موجودگی میں MOU پر دستخط کیے۔
اس موقع پر گورنر سندھ جناب کامران خان ٹیسوری کے ایڈوائزر طارق مصطفی نے بطور مبصر شرکت کی۔
یہ شراکت داری لیاری کے نوجوانوں کے لیے ایک روشن، محفوظ اور بااختیار مستقبل کی طرف اہم قدم ہے۔
Pakistan Red Crescent Voice Of Lyari Al Qadir Lyari Hamara Lyari #YouthPower #youthempowerment #Lyari #TEDxYouth #lyarihamara

======================

سنیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم عجلت میں لائی گئی، جنرلوں کی بھیجی ترمیم من وعن منظور کرنا مناسب نہیں۔ سینیٹ اجلاس میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے مساجد و مدارس سے متعلق بیانات قابلِ افسوس ہیں۔
مسجد ایک بار قائم ہو جائے تو شریعت میں اسے گرایا نہیں جاتا۔ خواجہ آصف کو صرف مساجد غیر قانونی نظر آتی ہیں، سوسائٹیاں اور مارکیٹیں نہیں؟ غیر قانونی سوسائٹیز اور مارکیٹوں پر خاموشی، مساجد پر اعتراض کیوں؟ ستائیسویں آئینی ترمیم عجلت میں لائی گئی، کسی کو متن تک معلوم نہیں۔ مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ارکانِ ایوان بغیر مطالعہ ترمیمات کی منظوری دے رہے ہیں، جنرلوں کی بھیجی ہوئی ہر ترمیم من و عن منظور کرنا مناسب نہیں۔

قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہ کرنے کا وعدہ کہاں گیا؟ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو اعتماد میں لیے بغیر قانون سازی نامناسب ہے، جینڈر بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے۔ قانون سازی میں جلد بازی سے ایوان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ مولانا عطا الرحمان نے خواجہ آصف کو طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ زبان کھولنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔
مزید برآں رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ اختر علی نے وزیردفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بے شمار لوگ آئے اور گئے، لیکن مدارس اور مساجد کل بھی قائم تھیں، آج بھی قائم ہیں، اور قیامت تک قائم و دائم رہیں گی۔ اور اگر کسی کو محراب و منبر کی اہمیت سمجھنی ہے تو علمائے کرام سے سمجھ لے۔ اس طرح کے متنازع بیانات کس کے اشارے پر دیے جا رہے ہیں؟
مزید برآں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ شعر اس وقت یاد نہ آئے جب انصاف کا قتل عام ہو رہا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ججوں کا ایک ٹولہ مل کر آئین اور قانون کے محافظ کے بجائے کسی کے سیاسی مفادات کے محافظ بنے ہوئے تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ججز سیاسی پارٹی کے ورکر بنے تھے، یہ شعر لکھنے سے پہلے اپنا ماضی یاد کر لیتے تو شاید کوئی شرم کوئی حیا آجاتی۔اپنے ایک دوسرے ٹوئٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے اور اسمبلی توڑنے والے ہمیں آئینی ترمیم اور قانون سازی پہ طعنہ دے رہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار کے دوام کے لیے ولدیت کے خانے میں جنرل باجوہ کا نام لکھنے والے اخلاق باختہ لوگ پاک دامنی پہ لیکچر دے رہے ہیں۔
===================

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا کل پارلیمنٹ کی ترمیم کے بعد 2 ججز کی غیرت جاگی، لیکن جب کینگرو کورٹس بنے اور نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، اس وقت کسی جج کی غیرت نہیں جاگی۔ جس دن نواز شریف کیخلاف کیس ہوتا تھا یہ ججز اپنے گھر والوں کو بھی بلالیتے تھے کہ کیسے ہم نواز شریف کیخلاف فیصلہ دیتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنا ماضی بھول گئے اور جمہوریت کے علمبرادار بنے بیٹھے ہیں۔ ماضی میں نواز شریف کو سازش کر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔خواجہ آصف نے اپوزیشن اور عدلیہ کو مخاطب کیا اور کہا کہ اِنہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ آئین کے وفادار ہیں یا ایک شخص کے؟ دہشت گردوں کو تحفظ دینے والے بھی یہی ہیں، اب کسی کو کوئی رعایت نہیں دی جائیگی۔