کراچی (پریس ریلیز13نومبر )
چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کےذریعے ممالک اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا سکتے ہیں، جدید سڑکیں، ریلویز، بندرگاہیں اور اقتصادی زون قایم کر کے عالمی تجارت سے براہِ راست فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ مقامی صنعتوں کو فعال اور روزگار کے مواقع بڑھاسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کیا۔ وہ گزشتہ روز ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر کے زیر صدارت منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے اجلاس بہ عنوان’’عالمی امن، فلسطین کی جنگ بندی، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اُمت مسلمہ کا کردار‘‘ سے خطاب کررہی تھیں۔ اجلاس کی میزبان ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد (ہلال امتیاز)تھیں۔ ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہاکہ مغرب کا اقتصادی ماڈل قرضوں پر چلتا ہے جس سے دنیا بھر میں غربت اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ غربت کے شکارترقی پذیر ممالک کے لیےچین کایہ پروگرام پیغامِ خوش حالی اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی لیے استعماری ممالک کی جانب سے اس پروگرام کی شد و مد سے مخالفت جاری ہے۔بی آر آئی کے پہلے حصے یعنی پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کے لیے بھارت سمیت دیگر کی جانب سے دہشت گردوں کی ہر قسم کی معاونت کی جارہی ہے۔ پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری پروگرام کے فیز IIکو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس کے لیے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکورٹی صورت حال بہتر بنانا ہوگی۔ بی آرآئی کو کام یاب بنانے میں ہی پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی بقا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ لسانی اورمذہبی سیاست سے پاکستان کے معاشر ےکو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ سوچ نوآبادیاتی نظام کی باقیات ہے جس کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔سیاست کے ذریعے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔قومی اتحاد اور ایمان دارانہ سیاست سے ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جاسکتا ہے۔ مغربی استعماری قوتیں آج بھی ترقی پذیر ممالک میں لسانی، نسلی اور دیگر تفریق پیدا کرکے بلاواسطہ قابض ہیں۔ ممالک کو جنگوں اور سرحدی تنازعات کی جانب دھکیل رہے ہیں۔قدرتی وسائل سے مالامال ممالک میں تقسیم کی سیاست کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ علیحدگی پسند جماعتوں کی مالی اور بسااوقات عسکری تعاون بھی دیا جاتا ہے۔ ان مسلح گروہوں کے ذریعے ممالک کو کمزور کرکے قدرتی وسائل و معدنیات اونے پونے داموں خرید کے مہنگے داموں اسلحہ بیچا جاتا ہے۔ لیکن اب مغرب کے دانشور اور عوام بھی فکری طور پر بیدار ہورہے ہیں۔جس طرح اُنہوں نے فلسطین کے حق میں بڑے اجتماع کیےوہ یقیناً ایک بڑی مثبت تبدیلی ہے۔ معزز اراکینِ شوریٰ انجینئر انوار الحق صدیقی ، بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل، مبشر میر، ظفر اقبال، انجینئر ابن الحسن رضوی، افضل حمید، سینیٹر عبدالحسیب خان، ڈاکٹر امجد جعفری، جسٹس(ر)ضیا پرویز، پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان ، کرنل(ر)مختار احمد بٹ،ڈاکٹر حنا خان، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق، پروفیسر ڈاکٹر نسرین افضل، سید مظفر اعجاز ، ڈاکٹر عامر طاسین اور دیگر نے کہا کہ فلسطین اور سوڈان میں ظلم و جبر کے خلاف پاکستان نے اصولی سفارتی موقف اپنایا ہے جس کی زیادہ تر ممالک کی تائیدبھی حاصل رہی۔ کشمیر میں مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور افواج پاکستان کی بہترین عسکری حکمت عملی کی بدولت اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔
























