آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 14ویں روز میوزیکل و تھیٹر پلے ”بہروپیا“پیش کیا گیا


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 14ویں روز میوزیکل و تھیٹر پلے ”بہروپیا“پیش کیا گیا
صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ملکی و بین الاقوامی مصوروں کے فن پاروں پر مبنی آرٹ نمائش PIECE & PIECES۔والیم 3 کا افتتاح کیا
ایران، برازیل اور کیوبا کی جانب سے 3 مختصر فلمیں پیش ،پرانے آرکائیو کے مناظر شائقین کے دل کو چھو گئے
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 14ویں روز کا آغاز فلم اسکریننگ ”میموری اینڈ مائیگریشن“ سے آڈیٹوریم II میں کیاگیا جس میں ایران، برازیل اور کیوبا کی جانب سے 3 مختصر فلمیں پیش کی گئیں جس ایران نے Mockumentary فلم Zapata پیش کی جس کے ڈائریکٹر Danesh Eghbashaviتھے فلم مزاح اور جاسوسی پر مبنی کہانی کا پرجوش امتزاج تھی، فلم میں پرانے آرکائیو مناظر کو بھی شامل کیا گیا تھا جس کو شائقین نے بہت پسند کیا۔ برازیل کی جانب سے Kris Kardeal کی دستاویزی فلم The Dream Peddlers پیش کی جو سرکس کی جادوئی دنیا، فنکاروں کی محنت اور ان کے عزم و استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتی نظر آئی، فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سرکس کے فنکار مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جبکہ کیوبا کی جانب سے La Lata پر مختصر فلم دکھائی گئی جس کی دلچسپ کہانی نوجوانی، تجسس، اور انسانی ردعمل کو نہایت مو ¿ثر انداز میں پیش کرتی ہے، مختصر دورانیے کے باوجود La Lataنے دیکھنے والوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ فیسٹیول میں ملکی و بین الاقوامی مصوروں کے فن پاروں پر مبنی آرٹ نمائش PIECE & PIECES۔والیم 3 کا انعقاد احمد پرویز آرٹ گیلری، احمد شاہ بلڈنگ میں کیاگیا جس کا افتتاح صوبائی وزیر بلدیات ، جنگلات و مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کیا، صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ اور خانہ فرہنگِ اسلامی جمہوریہ ایران ، کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعید طالبی نیابھی ان کے ہمراہ تھے، بین الاقوامی مصوروں میں کینیا سےOnesmus Okamar، Sinenkosi Msomi (اسواتینی ) اور ایران کے M.Reza Ferdowsi Fard کے علاوہ نمائش میں پاکستان کے مایہ ناز استادوں کا کام بھی پیش کیاگیا جن میں معروف مصور شاہد رسام، فرخ شہاب، محمد ذیشان، مسعود اے خان، عبید سید، نذر

السلام، نعمان صدیقی، سید فراز، سلیم رضا، فہیم راﺅ اور کاشف خان شامل ہیں۔ فن پاروں کی نمائش میں فن مصوری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے علاوہ طلباءکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمائش میں ملکی و بین الاقوامی فنکاروں نے اپنے احساسات اور تخیلات کو کینوس پر بہت خوبصورتی سے پیش کیا جس کو شرکاءکی جانب سے بے حد پذیرائی ملی۔ فیسٹیول کے 14ویں روز کا اختتام تحریک نسواں کی جانب سے تیار کردہ میوزیکل، مزاحیہ اردو تھیٹر پلے ”بہروپیا“پر کیاگیا جس کے مصنف اور ہدایت کار انور جعفری تھے جبکہ تھیٹر کی کوریو گرافی معروف رقاصہ شیما کرمانی نے کی۔ ”بہروپیا“ فرانسیسی ڈرامہ نگار مولیئر کے مشہور کھیل Tartuffe یا The Imposter / The Hypocrite)) سے ماخوذ تھا۔ تھیٹر جھوٹی پارسائی اور مذہبی منافقت کو ایک دلچسپ اور چونکا دینے والے مزاحیہ انداز میں بے نقاب کرتا ہے، اس میں انسانی کمزوریوں اور دکھاوے پر ایسی ہنسی پیش کی گئی ہے جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، تھیٹر میں دکھایا گیا کہ طنز کا نشانہ نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی حقیقی پرہیزگار لوگ، بلکہ وہ افراد ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مفادات اور برائیوں کو چھپاتے ہیں، یہ ڈرامہ ناظرین کو نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ سبق آموز بھی تھا۔ یہ دکھاتا ہے کہ حقیقت، جھوٹ ،سچ،بناوٹ اور اصلیت میں کیا فرق ہے اور آخر میں منافقانہ مذہبی جنون کے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔