11 اراکین خریدے گئے-مہینہ ہنگامہ خیز ہوگا- جی ایچ کیو بلایا تھا-انہیں یہ نام واپس لینے کا کہا،.

سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے ستائیسویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم آنی ہی نہیں چاہئے تھی۔ صوبوں کا حق کم کرنے کا فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے۔ 26 ویں ترمیم کیلئے 11 اراکین خریدے گئے تھے، 26 ویں ترمیم کے وقت حکومت35 نکات سے دستبردار ہوگئی تھی۔ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کا شیئربڑھایا تو جاسکتاہے۔ اس میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو دیئےگئے اختیارات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے۔میڈیا پرگفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ”میری نظر میں نومبر کا مہینہ ہنگامہ خیز ہوگا،“ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ”ملک کو ہنگامے کے حوالے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ جنرل ضیاء الحق اور ان کے مارشل لاء کے مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جمہوری قوتیں اور ادارے بتدریج کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فوجی ادوار، سیاسی اتحادوں، آئینی ترامیم اور موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ انہیں جنرل اسلم بیگ نے جی ایچ کیو بلایا تھا، جہاں جنرل حمید گل بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق جنرل حمید گل سے ان کے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے اس وقت نوابزادہ نصراللہ خان کے نام کی تائید کی تھی مگر جنرل اسلم بیگ نے انہیں یہ نام واپس لینے کا کہا، جس پر اختلافِ رائے ہوا اور مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔سیاست میں موروثیت کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ”لفظ موروثیت یورپ کی اصطلاح ہے، اسے سیاست میں فخر کی بجائے جرم کیوں سمجھا جاتا ہے؟“ ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف اور چوہدری شجاعت ایک صفحے پر تھے اور مشرف نے عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر ایل ایف او (LFO) کو آئین کا حصہ بنایا، تاہم بعد ازاں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو آئین سے نکال دیا گیا۔

https://e.jang.com.pk/detail/986401

آئینی عدالت کے لیے ججوں کے نام شارٹ لسٹ‘ جسٹس امین الدین خان کو چیف جسٹس مقررکرنے پر غور
حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے تیاریاں شروع کردیں‘ جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی کے علاوہ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بریچ کے نام نئی عدالت کے ابتدائی ارکان کے طور پر زیرغور ہیں.رپورٹ

آئینی عدالت کے لیے ججوں کے نام شارٹ لسٹ‘ جسٹس امین الدین خان کو چیف ..

اسلام آباد۔10 نومبر ۔2025 ) حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلہ میںاعلیٰ عدلیہ کی ازسرنو تشکیل کا عمل شروع کر تے ہوئے مجوزہ وفاقی آئینی عدالت (ایف ایف سی) کے لیے 7 جج صاحبان کے نام شارٹ لسٹ کر لیے ہیں ڈان نیوز کے مطابق یہ عدالت آئین کی تشریح اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کے تصفیے کے لیے قائم کی جا رہی ہے سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے اس نئی عدالت کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے اور جسٹس امین الدین خان، جو اس وقت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ ہیں، انہیں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے.

سپریم کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی کے ناموں کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بریچ کے نام بھی اس نئی عدالت کے ابتدائی ارکان کے طور پر زیرغور ہیں. ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کی ابتدائی تعداد ایک صدارتی حکم کے ذریعے متعین کی جائے گی جب کہ ججوں کی تعداد میں آئندہ کوئی اضافہ پارلیمان کی منظوری سے قانون سازی کے ذریعے کیا جا سکے گا وزارتِ قانون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدرِ مملکت، وزیرِاعظم کی سفارش پر، مجوزہ ترمیم کے تحت عدالت کے ججوں کی تقرری کریں گے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز کو دوبارہ پیش کیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منظم کیا جا سکے اور آئینی مقدمات کے فیصلوں میں تیزی اور شفافیت لائی جا سکے.
حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہوگا، آئینی فیصلوں میں تیزی آئے گی اور عدلیہ کی خودمختاری و وقار میں اضافہ ہوگا ایک علیحدہ آئینی عدالت کا تصور سب سے پہلے 2006 کے چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاقِ جمہوریت) میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے پیش کیا تھا، اس میں تجویز دی گئی تھی کہ آئینی معاملات کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے تاکہ سپریم کورٹ اپیلوں پر توجہ دے سکے یہ تجویز بعد میں 26ویں ترمیم کے مسودے میں بھی شامل کی گئی تھی مگر جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتوں کی مخالفت کے باعث اسے واپس لے لیا گیا.
مجوزہ منصوبے کے مطابق آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہوگی جو سپریم کورٹ کے ججوں کی عمر (65 سال) سے 3 سال زیادہ ہے، تاکہ تجربہ کار جج زیادہ مدت تک خدمات انجام دے سکیں نئی عدالت کو اسلام آباد میں وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں قائم کیا جائے گا، جب کہ وفاقی شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں منتقل کیا جائے گا، یہ انتظامی اور علامتی طور پر آئینی عدالت کو دیگر عدالتوں سے الگ کرے گا.
وفاقی آئینی عدالت کو آئین کی تشریح، وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات، اور آئینی دفعات سے متعلق معاملات میں اختصاصی دائرہ اختیار حاصل ہوگا، اسے صدارتی احکامات، آئینی ترامیم اور پارلیمان یا صدر کی جانب سے بھیجے گئے سوالات پر بھی فیصلہ دینے کا اختیار حاصل ہوگا.

=====================