
سینیٹ میں گزشتہ روز بھی ستائیسویں آئینی ترمیمی بل پر بحث جاری رہی ، پی ٹی آئی کے سنیٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو سپریم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیا ہے ،جعلی پارلیمنٹ ترمیم کرنے کے لئے با اختیار نہیں ،یہ بل عجلت میں بنا ہے ، سینیٹر پرویز رشید نے کہا علی ظفر نے تصویر کا وہ رخ دکھایا جو انھیں پسند ہے تصویر کا وہ رخ نہیں دکھایا جس نے عدلیہ کو پارٹی کا آلہ کار میں بدلنے کی کوشش کی،پی ٹی آئی کے نور الحق قادری نے کہا ترامیم 1973کے آئین پر بدترین حملہ ہے، اعظم سواتی نے ہم آئین اور قانون کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کرنے جا رہے ہیں، یہ کالا بل ہے، یہ بل عجلت میں بنا ہے ، یہ قومی مفاد میں نہیں، پی پی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہمارا بڑا مسئلہ سیکورٹی ہے، یہ ترامیم وقت کی ضرورت ہے، سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ اپوزیشن والوں کو کہتا ہوں تم میں ہمت ہے تو بغاوت کر دو ،ورنہ جہاں ماں باپ کہتے ہیں شادی کر لو ۔اتوار کو ایوان بالا میں ستائیسویں آئینی ترمیمی بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سنیٹر علی ظفر نے کہا کہ اتفاق رائے اور کثرت رائے علیحدہ چیز یں ہیں، اتفاق رائے نہ ہو تو آئینی ترمیم کوئی مانے گا نہیں، پی ٹی آئی کروڑوں لوگوں کی نمائندہ ہے ،قوم کا اتفاق رائے اس ترمیم پر نہیں ہے، آئینی ترمیم کرنے والے وہ ہونے چاہئیں جو جائز انداز سے منتخب ہوں ، جن کا ذاتی مفاد نہ ہو ، الیکشن چرایا گیا ، جو جیتے وہ پارلیمنٹ میں نہیں، یہ جعلی پارلیمنٹ ترمیم کرنے کے لئے با اختیار نہیں ، ن لیگ اور اتحادیوں نے ترمیم کے حوالے سے پہلے فیصلہ کر لیا ہے، این ایف سی یا صوبائی خودمختاری کا خاتمہ پی پی پی کے لئے فیس سیونگ تھی کہ کہا جائے ہم نے صوبائی خود مختاری کو بچا لیا، یہ سب نورا کشتی ہے ،انہوں نے کہا سپریم کورٹ کو سپریم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیا ہے ، ساری طاقت ایک وفاقی آئینی عدالت کو دی جا رہی ہے، یہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے ، آپ سپریم کورٹ کو ختم کرکے نئی عدالت بنا رہے ہیں، صدر فیصلہ کرے گا کہ عدالت کے کتنے جج لگانے ہیں، صدر اپنے سلیکٹیڈجج کو لیکر جج لگا دیں گے ، حکومت خود ہی آئینی عدالت کے ججز تعینات کرے گی اور خود ہی اپنے حق میں فیصلے لے گی، ستائیسویں ترمیم کا سب سے بڑا زہر ٹرانسفر آف ججز ہےاگر ججز ٹرانسفر سے انکار کریں گے تو وہ ریٹائر ہو جائیں گے، یہ عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کنٹرول میں لے جائے گی ، پاکستان میں جتنے کیسز زیر التوا ہیں ان میں سے صرف دو فیصد سپریم کورٹ میں ہیں، باقی98فیصد کیسز دیگر کورٹس میں زیر التوا ہیں انکے لئے کوئی بات نہیں کر رہا، سب کچھ استثنی کے لیے ہو رہاہے ، صدر اور گورنر کو کہا گیا آپ جو بھی جرم کریں آپ کو کوئی ساری عمر کے لئے نہیں چھو سکتا، ان آئینی ترمیم کو مسترد کریں۔
اسلام آباد (فاروق اقدس) 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد منظوری کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت اسکی منظوری کیلئے انتہائی پراعتماد دکھائی دے رہی ہے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے رواں ہفتے منظور ہو جائیگی ، عوام کے سامنے سرخرو ہونے کیلئے ا اپوزیشن اور غیر حکومتی ارکان کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے روایتی مناظر بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں ،صدارتی استثنیٰ کے مقابلے فیلڈ مارشل کو حاصل استثنیٰ تاحیات ہو گا‘ عدلیہ کو اس سے پہلے کبھی ایگزیکٹو کے اتنے تابع نہیں کیا گیا ،یہ آئینی ترامیم نہیں بلکہ آئینی مارشل لاء ہے‘ ایسا لگتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اب تینوں سروسز کو کنٹرول کرینگے ،حسین حقانی‘ محمد زبیر‘ ریما عمر‘ مصطفیٰ نواز کھوکھر اور عائشہ صدیقہ کے 27ویں ترمیم کے بارے میں سوشل میڈیا پر ریمارکس، چند معروف نام جنہوں نے ترمیم کے مسودے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ریمارکس میں خاصے دلچسپ اور فکر انگیز جملے لکھے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ 1962ء کے پاکستان کے آئین کے ابتدایئے میں یہ جملہ پڑھا جا سکتا ہے کہ یہ آئین فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم کو عطا کیا تاہم اس مرتبہ اسکی کسر باقی رہ گئی ہے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے لکھا ہے کہ اب وزیراعظم خود وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف کو تعینات کرینگے اور آئینی عدالت میں ججز کا پہلا بیج بھی وزیراعظم کی ایڈوائس اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد صدر مملکت کی جانب سے طے کیا جائیگا۔ جبکہ اس سے قبل عدلیہ کو کبھی ایگزیکٹو کے اتنے تابع نہیں کیا گیا۔ سابق سنیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے آئینی ترمیم کو آئینی مارشل لاء سے تعبیر کیا۔ قانونی ماہر ریما عمر لکھتی ہیں کہ صدارتی استثنیٰ کے مقابلے میں فیلڈ مارشل کو حاصل استثنیٰ تاحیات ہو گا۔ دفاعی امور کی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ نے تحریر کیا ہے کہ وزارت قانون کے مسودے سے ایسا لگتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اب تینوں سروسز کو کنٹرول کرینگے‘ تاہم اس طرح آپریشنل اور بیورو کریٹک پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔ یہ آئینی ترمیم وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد سینٹ میں پیش کی گئی اور دونوں ایوانوں میں قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹیوں میں زیر بحث بھی آئی۔ گوکہ آئینی ترمیم کی منظوری میں قانونی اور پارلیمانی امور کی پیچیدگیوں اور مشکلات اور کسی حد تک سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنے والے وزیر قانون اعظم تارڑ کا کہنا ہے کہ ترمیم پر بحث اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اتفاق رائے پیدا نہیں ہو جاتا۔ خواہ اس کیلئے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے لیکن قرائن اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ اس اہم آئینی ترمیم کی منظوری جس کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اس پر عملدرآمد سے ملکی‘ عدالتی‘ آئینی اور کسی حد تک عسکری ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلیوں سے ایسے دوررس نتائج سامنے آئیں گے جو ان اداروں کے نظام کی سمت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم منظوری کیلئے دو تہائی اکثریت میں زیادہ تاخیر کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جو اہم مصروفیات کے باعث باکو میں تھے‘ انہوں نے آئینی ترمیم کے مسودے پر مشاورت کرنے کیلئے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا اور باکو سے ہی وڈیو لنک پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی۔ اسلئے نہ صرف ترمیم کی منظوری میں زیادہ وقت نہیں لگے گا بلکہ منظوری کے بعد عمل درآمد پر بھی کسی تاخیر کا امکان نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق منظوری کا تمام عمل رواں ہفتے ہی مکمل ہو جائیگا۔ البتہ اس دوران عوام کے سامنے سرخرو ہونے کیلئے اپوزیشن اور غیر حکومتی سیاسی جماعتوں کے ارکان ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے روایتی منظر پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم آئینی ترمیم کا مسودہ محض پارلیمان میں ہی نہیں بلکہ ملک کے سیاسی‘ جمہوری اور انتظامی اقدامات کے بارے میں دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ افراد نجی محفلوں اور دفاتر کے بند کمروں میں اس حوالے سے دھیمی آوازوں میں بحث و تمحیص‘ خوش گمانیوں اور اندیشوں پر گفتگو کر رہے ہیں۔ جبکہ سوشل میڈیا کے صارفین بھی اعلانیہ طور پر خوشگوار توقعات‘ امکانات اور تنقید کا اظہار کر رہے ہیں۔























