
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم کو فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی ترمیمی شق واپس لینے کی ہدایت کردی۔
سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ ان کی پارٹی کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ کے حوالے سے ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی، جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں شامل نہیں تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یہ ترمیم فی الفور واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم کو فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی ترمیمی شق، شہباز شریف کی شق واپس لینے کی ہدایت
ان کا کہنا ہے کہ منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔
=========================
حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم میں شامل وزیراعظم کو استثنیٰ کی شق واپس لے لی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 27ویں ترمیم کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سینیٹر انوشہ رحمان نے استثنیٰ سے متعلق سینیٹ میں پیش کردہ ترمیم واپس لے لی ہے تاہم صدر کے تاحیات استثنیٰ کے بارے میں معاملہ ابھی زیر غور ہے۔
اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر مجھے بتایا گیا میری پارٹی کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ کے حوالے سے ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی جو کابینہ سے منظور شدہ مسودے میں شامل نہیں تھی، معزز سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، میں نے انہیں یہ ترمیم فی الفور واپس لینے کی ہدایت کی کیوں کہ منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں آئینی ترامیم پر شق بہ شق غور کر رہی ہے، کمیٹی کی رپورٹ کل سینیٹ میں پیش کی جائے گی اور امکان ہے اسی دن ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے، دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیاں تمام شقوں پر حتمی غور و فکر کر رہی ہیں تاکہ ترمیم کے تمام نکات ایوان میں مکمل وضاحت کے ساتھ پیش کیے جائیں۔
سینیٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بل کو آج حتمی شکل دے دی جائے گی، بل پر تمام سیاسی جماعتوں کی آراء لی جا رہی ہیں، اور فیصلہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جائے گا، امید ہے معاملہ شام پانچ بجے تک فائنل کر لیا جائے گا، جس کیلئے اجلاس میں بل کی تمام شقوں پر تفصیلی غور کیا جائے گا، ہر جماعت کو اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے، ن لیگ اور ایم کیو ایم کی تجاویز کو بھی دیکھا جائے گا اور تمام فیصلے بعد ازاں ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹیوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی کئی اہم شقوں پر اختلاف رائے موجود ہے، گزشتہ روز جے یو آئی ف کے ارکان نے کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا جس سے حکومتی رابطوں میں مزید تیزی آئی، حکومت کی جانب سے ترمیم کی منظوری یقینی بنانے کے لیے اتحادیوں سے مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔























