
زرداری، فضل الرحمٰن ملاقات 27 ویں آئینی ترمیم پر مشاورت
09 نومبر ، 2025
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) صدر مملکت آصف علی زرداری سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی زرائع کے مطابق ملاقات میں سیاسی صورتحال اور مجوزہ 27 ویں آئینی ترامیم پر مشاورت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔بلاول بھٹوزرداری نے مولانا فضل الرحمن کو مجوزہ آئینی ترمیم پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ملاقات میں طے کیا گیا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے مجوزہ آئینی ترامیم اتفاق رائے منظور کرائے۔
====================
وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی سے 27ویں ترمیم آئندہ منگل یا بدھ کو منظور ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔ ٹی وی ٹاک شوز میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبوں کی خود مختاری متاثر ہونے کی کوئی بات نہیں، ہوسکتا ہے بعض شقوں پر ہمارے اتحادیوں کو اعتراض ہو، ہوسکتا ہے آرٹیکل 243 کے علاوہ دیگر شقوں پر اتحادیوں کو اعتراضات ہوں لیکن 27 ویں آئینی ترمیم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ جس پر اعتراض کیا جائے، 27 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروالیں گے، قومی اسمبلی سے منگل یا بدھ کو 27ویں ترمیم منظور ہوسکتی ہے، اسمبلی سے ترمیم منظور کروانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ آئینی ترمیم کی منظوری آج کابینہ نے دے دی ہے جس کے بعد اسے قائمہ کمیٹی کو ریفر کیا گیا ہے، ترمیم سے متعلق حکومت کوئی جلدی نہیں کررہی، ترمیم سے متعلق دو ہفتوں سے بحث ہورہی ہے، ممکن ہے کہ کل پارلیمنٹ میں اس پر بحث بھی ہو، ترمیم ایوان میں لے جانے سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت ضروری تھی، حکومت نے اس ترمیم کے حوالے سے اپنے تمام اتحادی جماعتوں، جن میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق شامل ہیں، ان کے ساتھ مشاورت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کی اور اب اس معاملے میں کوئی راز کی بات نہیں رہی کیوں کہ یہ میڈیا اور عوام میں بھی واضح ہو چکی ہے، مولانا فضل الرحمان سے اس معاملے میں رابطہ کیا گیا یا نہیں کیا گیا، تاہم ایسے اہم معاملات میں رابطہ ضرور ہونا چاہیئے، ترمیم کے نتیجے میں ججوں کے ٹرانسفر کرنے سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی فرق نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل ساری دنیا میں تاحیات ہوتا ہے، امریکہ میں فائیو اور سکس سٹارز جنرل بھی تاحیات ہوتے ہیں، یونیفارم پہننے اور عہدہ استعمال کرنے کی تاحیات اجازت ہوتی ہے، نیا عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا ہی نعم البدل ہے، یہ کہنا کہ مدت کو تاحیات کیا جارہا ہے اس پر لوگوں کو غلط فہمی ہورہی ہے، مدت جس طرح پہلے قانون میں موجود ہے ویسے ہی رہے گی، پاور میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا، آئندہ دو سے تین روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی اور افواہیں دم توڑ جائیں گی۔























