میٹرو پولیٹن سٹی کراچی کے ضلع کورنگی واقع ملیر کھوکھراپار کا وہ بدقسمت علاقہ ہے جسے ڈی اور ڈی ون ایریا کہتے ہیں

Abid Hussain
یہ کسی صوبے کے گاؤں یا دیہات کا منظر نہیں ہے بلکہ میٹرو پولیٹن سٹی کراچی کے ضلع کورنگی واقع ملیر کھوکھراپار کا وہ بدقسمت علاقہ ہے جسے ڈی اور ڈی ون ایریا کہتے ہیں۔ یہاں گٹر ابلتے رہنا ۔سڑکیں کھنڈرات بنی رہنا ۔پانی نہ ہونے کے برابر اڑتالیس گھنٹے بعد صرف نصف گھنٹے آنا اور بجلی کا کئی کئی گھنٹے مجموعی طور پر اٹھارہ گھنٹے غائب رہنا معمول ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی کامیابی یقینی بنانے کے لیے ضلع شرقی واقع ملیر کے اس علاقے کھوکھراپار کو ضلع ملیر کا حصہ بنانے کے بجائے ضلع کورنگی میں شامل کردیا تھا۔ آج تک یہ علاقہ ضلع کورنگی اور ضلع ملیر کی انتظامیہ اور کورنگی اور ملیر ٹاؤن کی بلدیاتی انتظامیہ کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس علاقے کے یوسی چیئرمین وسیم مرزا صاحب ہیں جن کی توجہ درکار ہے کیونکہ علاقہ مکینوں کے مطابق اس مرتبہ ان کی توجہ صرف کوثر ٹاؤن ۔انڈس مہران پر ہے
کوئی بات نہیں وہاں بھی انسان رہتے ہیں لیکن انہیں دیکھنا چاہیئے کہ یہاں بھی انسان رہتے ہیں۔
۔ پیپلز پارٹی نے پندرہ سال سے یہ سڑک نہیں بنائی۔حالانکہ یہ ّعثمان بڈھا مرحوم کی رہائش گاہ والا علاقہ ہے۔ ایک تصویر میں ان کا وہ گھر بھی نظر آرہا ہے جہاں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی آچکی ہیں۔ رکن قومی اسمبلی عبدالحفیظ پیر زادہ۔۔سید قائم علی شاہ اور پروفیسر این ڈی خان تو اکثر اس علاقے میں آتے تھے کیونکہ یہ حفیظ پیر زادہ مرحوم کا حلقہ انتخاب تھا۔
اس علاقے سے ایم کیو ایم بھی بار بار جیت چکی ہے۔ آج کل اس علاقے کے ایم پی اے شارق جمال صاحب ہیں اور رکن قومی اسمبلی ایم کیو ایم کی محترمہ آسیہ اسحق صاحبہ ہیں۔ایک سروے کے مطابق لوگ کہتے ہیں کہ ڈی اور ڈی ون ایریا کے درمیان واقع اس روڈ کو کھنڈر بنانے میں تینوں بڑی جماعتوں کا کردار برابر ہے کیونکہ سب جماعتیں یہاں سے ووٹ لے کر غائب ہوتی رہی ہیں۔ یہ روڈ سبحانیہ مسجد سے کھنڈرات اور گٹر کے پانی کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور کھوکھراپار چار نمبر کے قریب مشہور بی مارکیٹ(B Market) پر اسی حالت میں ختم ہوتا ہے۔ بی مارکیٹ سے ضلع ملیر شروع ہوتا ہے جہاں کی اکثر سڑکیں نئے سرے سے بنادی گئی ہیں جس کا سہرا پیپلز پارٹی کے سرپر باندھا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔میمن گوٹھ کو بھی شہر کی سڑکوں کی طرح بہتر کردیا گیا ہے ۔ مسلسل نظر انداز ہونے کی وجہ سے اس روڈ پر اب تجاوزات مافیا کا قبضہ شروع ہوچکا ہے۔۔۔روڈ ناقابل استتعمال ہونے سے ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں پارک کرلیتے ہیں کچرا کنڈی بھی خوب پھل پھول رہی ہے۔۔۔۔
دیکھتے ہیں کہ اب اس علاقے کو کون درست کرتا ہے۔۔ہمیں امید ہے کہ ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد خصوصی توجہ دیں گے کیونکہ ان کے شہید والد عبداللہ مراد بھی اس علاقے میں عثمان بڈھا مرحوم کے گھر آیا کرتے تھے۔۔۔ذمہ داری تو ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی بنتی ہے لیکن اگر یہ تینوں جماعتیں اس علاقے کے مکینوں کو انسان سمجھ لیں تو کوئی بھی پہل کرسکتا ہے۔۔ووٹ کا فیصلہ خود ہوجائے گا۔۔۔۔۔