نکتہ سے 37 ملازمین کی برخاست کردیا گیا

========================
حکومت نے 24 سرکاری ادارے بیچنے کا فیصلہ کیا ہے: وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے 24 سرکاری ادارے بیچنے کا فیصلہ کیا ہے، پی آئی اے کی نجکاری اس سال سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔
کراچی میں فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت میں نجی شعبے کا کردار نہایت اہم ہے اور پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، پیداوار پر مبنی معاشی ترقی ہی پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہے، پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی نے بھی پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف کیا ہے، دنیا بھر میں معاشی نظام بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے اور کئی ممالک اپنے معاشی ڈھانچے میں اصلاحات لا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں کارپوریٹ منافع میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، حکومت عالمی سفارتی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مضبوط ایکو سسٹم فراہم کرتی رہے گی۔
معاشی استحکام کیلئے ڈھائی سال میں ٹھوس اقدامات کیے گئے، وفاقی وزیر خزانہ
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گوگل پاکستان کو ایکسپورٹ حب بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے، جب کہ حکومت کا فوکس آئی ٹی اور میری ٹائم سیکٹر پر ہوگا تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو برآمدات کا مرکز بنانا ہے، پائیدار معاشی ترقی کیلئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، ڈیجیٹلائزیشن سے معیشت میں شفافیت آئے گی، قومی آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھایا ہے، 9 لاکھ نئے فائلرز کا اضافہ ہوا ہے، مصر نے ایف بی آر اصلاحات سے سیکھنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، اے آئی پر مبنی ترقی کے لئے ایکو سسٹم تشکیل دینا ہوگا، بلیو اکانومی کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
=======================
وفاقی محتسب نے بیوہ خاتون کو جائیداد کا حق دلوا دیا
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپا) نے بیوہ خاتون کو جائیداد کا حق دلوا دیا۔
فوسپا کی مدد سے خاتون کو ایسی جائیداد واپس ملی جس کے بارے میں وہ لاعلم تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد رشتہ دار نے خاتون کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ جائیداد کا علم ہونے پر مہوش طاہر نے فوسپا سے رجوع کیا تھا۔
اس حوالے سے ترجمان فوسپا کا کہنا ہے کہ قبضہ کی گئی جائیداد کا کرایہ بھی رشتہ دار وصول کر رہا تھا، مہوش طاہر کے پاس جائیداد سے متعلق کوئی دستاویز یا معلومات نہیں تھیں۔
ترجمان نے کہا کہ خاتون کو معلوم نہیں تھا کہ جائیداد کہاں واقع ہے، فوسپا نے سرکاری اداروں کے تعاون سے جائیداد کی دستاویزات تک خاتون کی رسائی ممکن بنائی، بیوہ خاتون کو اُس کا جائز اور شرعی حق دلوایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی خواتین بالخصوص بیوائیں اپنی جائیداد یا وراثت کی مکمل معلومات نہیں رکھتیں، جائیدادوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل اور آسان بنایا جائے تاکہ خواتین اپنے حقوق خود حاصل کرسکیں۔























