حق پرست ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور رکنِ سندھ اسمبلی طحہ احمد خان کی جانب سے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کیلئے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع

حق پرست ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور رکنِ سندھ اسمبلی طحہ احمد خان کی جانب سے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کیلئے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی قرارداد سندھ اسمبلی میں جمع
قرارداد کا مقصد بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرنا،طہٰ احمد خان
بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات لازمی قرار دیے جائیں، قرارداد کا متن
کراچی۔۔۔03نومبر2025ء
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور رکنِ سندھ اسمبلی طحہ احمد خان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 140-A میں کلیدی ترامیم کے لیے سندھ اسمبلی میں ایک اہم قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔ قرارداد کا بنیادی مقصد ملک میں مقامی حکومتوں کو مضبوط آئینی، مالی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی تسلسل اور جمہوری استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ حق پرست رکن اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی جمہوریت کے حقیقی استحکام کی ضامن ہے۔ قرارداد میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے مطابق ہر صوبے کو بااختیار مقامی حکومتی نظام قائم کرنا ہے جو منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے دائرہ اختیار میں بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے کی پابند ہیں، کیونکہ یہ ادارے بامعنیٰ جمہوری حکمرانی کے لیے ناگزیر ہیں۔ قرارداد میں یہ مشاہدہ پیش کیا گیا ہے کہ پورے پاکستان میں منتخب بلدیاتی کونسلوں کے تسلسل کو اکثر درہم برہم کیا جاتا رہا ہے، اور نئے انتخابات ایک معقول وقت کے اندر منعقد نہیں کیے جاتے۔ طہٰ احمد خان نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مشاہدات کے مطابق، بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے قبل تمام قانونی و انتظامی انتظامات (بشمول حلقہ بندیاں اور قوانین میں ترامیم) مکمل کیے جائیں تاکہ مدت ختم ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی ہو سکے۔ قرارداد میں آئین کے آرٹیکل 140-A(1) کو تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مقامی حکومتوں کی مدت، مالی خودمختاری، انتظامی ذمہ داریوں اور آئینی تحفظ کی واضح تعریف کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، آرٹیکل 140-A میں ایک نئی شق شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ یہ آئینی ضمانت دی جائے کہ مقامی حکومتوں کو ان کے تفویض کردہ افعال پر مکمل مالی اور انتظامی خودمختاری حاصل ہو، اور صوبائی حکومتیں انہیں قانون کے مطابق مناسب وسائل اور فیصلہ سازی کا اختیار تفویض کریں۔ قرارداد میں ایک ایسی غالب شق شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جو اس ترمیم شدہ آرٹیکل 140-A کے مقاصد سے متصادم کسی بھی قانون، قاعدے یا کارروائی کو کالعدم قرار دے، بشمول بنیادی شہری افعال کو صوبائی ایجنسیوں کو منتقل کرنے کی کوشش، تاکہ بلدیاتی ادارے اپنے تفویض کردہ مضامین پر خصوصی اختیار برقرار رکھیں۔ ایک انتہائی اہم سفارش یہ ہے کہ آئین میں “مقامی حکومتیں” کے عنوان سے ایک نیا باب شامل کیا جائے، جو مقامی حکومتوں کی مدت، اختیارات، مالی خودمختاری، ذمہ داریوں اور آئینی تحفظ کی ضمانت دے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایم کیو ایم بلدیاتی حکومتوں کو آئینی تحفظ کے لئے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم کے مسودے قرارداد کی صورت پیش کر چکی ہے تاہم پنجاب اسمبلی کی گزشتہ ہفتے پیش کی گئی قرارداد کے تناظر میں سندھ اسمبلی میں جمع کروائی گئی قرارداد اہمیت کی حامل ہے۔
#MQMPakistan