اداکار یوسف علی

اداکار یوسف علی
اداکار یوسف علی کو اس جہاں سے گۓبتیس سال بیت گۓآج22.10.25 کوانکی بتیسویں برسی ھے۔پروردگار انکی مغفرت فرماۓ۔آمین
یوسف علی بنیادی طور پر سندھی زبان کے فنکار تھے ۔یہ ٹیلیویژن کے منجھے ھوۓ اداکار تھے۔یوسف علی ضلع تھرپارکر کے ایک گاؤں جھڈو میں پیدا ھوۓ۔والدین کے انتقال کے بعد حیدرآباد منتقل ھوگۓ۔اداکاری کاشوق ابتداء سے تھا۔انھوں نے اپنے فنی سفر کا آغازاسٹیج ڈراموں سے کیا۔حیدرآباد میں کچھ ڈرامے کرنے کے بعد اپنے شوق کی جلاء کیلے کراچی آگۓ۔یہ 1971 کا زمانہ تھاایک دن ابراھیم نفیس کے توسط سےیہ کراچی ٹیلیویژن سینٹر پر پہنچ گۓ ۔استقبالیہ پرپاس بنوانےکےدوران، اتفاق سےاسسٹنٹ پروڈیوسر ذوالفقار نقوی کی نظر ان کی سرخ سفیدرنگت پر پڑی وہ متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکے اور انھوں نے یوسف علی کو ڈرامے میں کام کرنے کی آفر کی جسے یوسف علی نے خوشی خوشی قبول کرلیا۔پرڈیوسر قطب آفتاب نے انھیں اپنے تاریخی ڈرامے”قطب الدین ایبک میں ایک چھوٹا ساکردار دے دیدیا اس ڈرامے کو ذوالفقار نقوی اسسٹ کر رھے تھے،اس کے بعد انھیں سندھی اور اردو ڈراموں میں کام ملنے لگا۔یوسف علی نے فلم تک رسائ کے لۓ فلمی بورڈ پینٹ کرنا سیکھا تاکہ کوئ اداکار انھیں فلمی دنیا تک لے جا جاۓ۔انھوں نے فلموں میں اداکاری کے بجاۓ ڈپلیکیٹ اور فائٹر کے کام کو ترجیع دی۔یوسف علی نے بہت سی فلموں میں ڈپلیکیٹ اور فائٹر کے کردار ادا کۓ لیکن دوران شوٹنگ ایک حادثے سے بچنے کے بعدانھوں یہ کام کرنا بند کردیا۔بعدِ اذاں انھوں نے فلموں میں سائیڈ ولن کے کردار بھی ادا کۓ جن میں . مٹھڑا شال ملن،جیجل ماں ،غیرت،انسان اور گدھا،روپ بہروپ،دل والے اورآخری حملہ وغیرہ شامل ھیں۔فلموں میں کوئ خاص کردار نہ ملنے کیوجہ سے یہ واپس ٹی وی کی طرف آگۓ۔پروڈیوسر منظور قریشی نے انھیں سندھی سیریل “بینسر ادل جی”میں مرکزی کردار میں کاسٹ کیا۔یہ سیریل 7 بجے علاقائ وقت میں پیش کۓ جانے والے سندھی پروگرام”ناٹک سبا” میں پیش ھوا۔ اس ڈرامے نے انھیں شہرت دوام بخشی اور انکا شمار علاقائ ڈراموں کے مشہور اداکاروں میں ھونے لگا۔اس کےبعد ھارون رند نےانھیں اپنی سیریل “خان صاحب”میں ٹائٹل رول میں لیا۔یہ ایک ایسےلندن پلٹ دیہاتی کاکردارتھاجوبات بات پر انگریزی بول کر گاؤں کےلوگوں کو متاثر کرتا ھےیہ کردار انھوں نے اتنے احسن طریقے سے ادا کیا کہ اس ڈرامہ سیریل نے دھوم مچادی ۔اس سیریل کی کامیابی کو دیکھتے ھوۓ اسے اردو زبان میں “چھوٹی سی دنیا “کے نام سے پرائم ٹائم میں پیش کیاگیایہ سیریل سندھی سے زیادہ اردو میں پسند کی گئ ۔انکی پہچان علاقائ سطح سےنکل کرملکی سطح پر ھوئ اورانکا شمارسندھی کےساتھ اردو ڈراموں کے مشہور فنکاروں میں ھونے لگا۔یہ دھوم ایوانِ صدر تک بھی گئ اور صدر ضیاءالحق نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کودعوت دیکر اسلام آباد بلایا اور انعام و اکرام سے نواز۔یوسف علی نےاس کردار میں اپنی آواز کا استعمال سندھی زبان میں پیش کۓ جانےوالےسیریل”خان صاحب” میں اونچا اور اردو میں پیش کۓجانےوالےسیریل “چھوٹی سی دنیا”میں دھیما رکھا جو زبان کے حساب سے ضروری تھااور وہ کامیاب رھے۔۔ھارون رند کی ہی سندھی زبان میں پیش کی جانے والی سیریل “رانی جی کہانی” نے بھی بڑی شہرت حاصل کی بعدِ ازاں اس کو بھی اردو میں “دیواریں” کے نام سے پرائم ٹائم میں پیش کیا گیا اور اس نے بھی ملکی سطح پر بڑی شہرت حاصل کی۔یوسف علی اب سندھی اور اردو کے ڈراموں کے یکساں مقبول اداکار بن چلے تھے۔انکا ڈرامے میں ھونا کامیابی کی دلیل تھا۔ان ڈراموں کےعلاوہ ان کےمشہور ڈراموں میں شامل ھیں گلن واری چھوکری تماشہ تلاش قہقہوں کاشہر پگھلتی ھوئ برف اور انتہا وغیرہ۔
تحریر ۔۔ فخرالحسن سعید