پاکستان کا روشن چہرہ اُجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا انتخاب کیا ۔ ہندو برادری کی پہلی خاتون براڈکاسٹ جرنلسٹ جیوتی شِری مہیشوری سے گفتگو


پاکستان کا روشن چہرہ اُجاگر کرنے کے لیے میڈیا کا انتخاب کیا ۔
ہندو برادری کی پہلی خاتون براڈکاسٹ جرنلسٹ جیوتی شِری مہیشوری سے گفتگو
غزالہ فصیح

بعض اوقات کوئی ایک شخص خواب دیکھتا ہے ، اُس کی تعبیر پانے کے لیے جدوجہد کرتا ہےاور منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے، اُس کی پیش قدمی دوسروں کے لیے ایک تحریک بن جاتی ہے۔ جیوتی شری مہیشوری اپنی کمیونٹی کے لئے ایک ایسی ہی رحجان ساز شخصیت ثابت ہوئی ہیں جن کی پیروی لڑکیاں کرنا چاہتی ہیں ۔ جیوتی شری ہندو،مہیشوری کمیونٹی کی پہلی براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں، جو پاکستان کے معروف چینلز ، جیو نیوز، ہم نیوز اور چینل 24 کے لیے کام کر چکی ہیں۔

والدین نے بیٹے بیٹی میں فرق نہیں کیا
مہیشوری، ہندو برادری کی ایک ذات ہے۔۔کمیونٹی زیادہ تر کاروباری طبقے پر مشتمل ہوتی ہے۔ تعلیم پر خصوصاً لڑکیوں کے لئے پہلے بالکل توجہ نہیں دی جاتی تھی البتہ اب اس کمیونٹی میں بھی تعلیم کی اہمیت کو سمجھ لیا گیا ہے۔ جیوتی خود کو خوش قسمت قرار دیتی ہیں کہ وہ کراچی میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں ماں اور باپ دونوں تعلیم یافتہ تھے۔جیوتی کہتی ہیں ‘میری امی نے میٹرک کیا ، یہ انکے دور کے لحاظ سے اچھی تعلیم تھی جبکہ میرے والد نے بھی کاروبار کی بجائے تعلیم حاصل کر کے سرکاری ملازمت کی ۔وہ پاکستان اسٹیل ملز میں فیڈرل گورنمنٹ افیسر تھے۔ والد ہماری کمیونٹی کے پہلے فرد تھے جو 1979 میں تعلیم کے لیے روس گئے تھے ۔ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں والدین نے بیٹے اور بیٹی میں کبھی فرق نہیں رکھا ہم سب کو تعلیم دلوائی اور بہترین تربیت کی ۔میں چونکہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی تو بڑی بہن اور بھائیوں نے بھی تعلیمی شعبے میں میری رہنمائی کی ۔اسی طرح والدہ بھی ہماری تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں ، ایک پڑھی لکھی ماں کا گھرانے پر بڑا اثر ہوتا ہے۔
‘لڑکی کو میڈیا میں بھیجو گے ! ‘


جیوتی بتاتی ہیں ‘ میرے گھر والے کہتے تھے کہ مجھے بچپن سے ہی باتیں کرنے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔ میٹرک ، انٹر کی پڑھائی کے بعد جب بی۔ایس کرنے کا مرحلہ آیا تو ہمارے سامنے دو سبجیکٹ تھے ، ایجوکیشن اور ماس کمیونیکیشن ۔ خاندان میں جس سے بھی مشورہ کیا سب نے کہا ایجوکیشن’ پڑھیں اور ٹیچر بنیں ، لڑکیوں کے لئے یہ ہی بہتر ہے جبکہ مجھے ہمیشہ نیا اور چیلنجنگ کام کرنا پسند رہا ہے۔ ہماراگھر آئی- آئی- چندریگر روڈ پر ہے ، میں جب گھر کی بالکونی میں کھڑی ہوتی تھی تو وہاں سے ‘معروف چینل(جیو) ‘ کی بلڈنگ نظر آتی تھی ، اسے دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ میں بھی نیوز میں آکر کچھ نیا کام کروں۔ اس طرح میں نے ماس کمیونیکیشن پڑھنے کی خواہش ظاہر کی ۔
یہ 2010 کی بات ہے تب لوگوں کو زیادہ معلوم نہیں تھا کہ کمیونیکیشن کی فیلڈ ، نیوز میڈیا کیا ہے، ہمارے ہاں لوگ اسے بھی ماڈلنگ ، ایکٹنگ کی طرح سمجھتے تھے۔ کمیونٹی میں اس پر تنقید ہونے لگی کہ ‘لڑکی ذات ہے ، اب شوبزنس میں جائے گی ‘ میرے والد کو لوگ مشورہ دیتے کہ اسے میڈیا میں نہ بھیجو لیکن انہوں نے کسی کی باتوں پر دھیان نہیں دیا اور میری خواہش کے مطابق بی۔ایس ماس کمیونیکیشن میں میرا داخلہ کروا دیا۔
‘ ایک جُملہ جو تیر کی طرح لگا ‘
جیوتی بتاتی ہیں ‘ 2013 میں ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ بیرون ملک ‘یاترا’ کے لیے گئے تھے ۔ وہاں ایک تقریب میں جب میں نے بتایا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو انہوں نے حیرت سے پوچھا ‘ کیا پاکستان میں ہندو رہتے ہیں ؟ ہم نے انھیں بتایا کہ پاکستان میں ہندو سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہیں، پھر سوال ہوا کہ کیا وہاں مندر ہیں، آپ لوگوں کو پوجا پاٹھ کرنے دیتے ہیں ؟ ہم نے انھیں بتایا کہ سندھ میں سب سے زیادہ اور قدیم ترین مندر موجود ہیں ، حکومت ان کی بہترین دیکھ بھال کرتی ہے ۔ ہم نے انھیں بتایا کہ پاکستان میں سب غیر مسلم اقلیتیں اپنی عبادت کرتی ہیں ، مندر ، گرجا گھر ، گوردوارے سب موجود ہیں ۔ وہاں مجھ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہاں تو لڑکیوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا، آپ ویسٹرن ڈریس پہن کر گھر سے نکل سکتی ہیں ؟ میں نے انھیں بتایا کہ لڑکیاں یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں، خواتین ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں اور یہ کہ موقع محل کے لحاظ سے لڑکیاں ہر طرح کی ڈریسنگ کرتی ہیں۔
جیوتی کہتی ہیں’ پاکستان کے متعلق پوچھے گئے ان سوالات سے مُجھے بہت تکلیف پہنچی ، افسوس کی بات یہ کہ لوگ میڈیا کے حوالے سے بات کر رہے تھے، میڈیا کے ذریعے دکھائی گئی معاشرے کی نیگیٹو باتوں کا ذکر کر رہے تھے ‘. جیوتی کہتی ہیں’ میں نے اُسی وقت دل میں یہ بات ٹھان لی کہ میں جب تعلیم مکمل کر کے میڈیا میں آؤں گی تو پاکستان کا مثبت تاثر اور خوبصورتی اُجاگر کروں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا کلچر اتنا رنگا رنگ اور اس میں اتنی ورائٹی ہے۔ باہر ممالک سے کبھی ہمارے دوست ، عزیز پاکستان آتے ہیں تو وہ ہمارے کھانے ، ہمارے تاریخی مقامات ، ملبوسات دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔

میڈیا کے چیلنج
جیوتی بتاتی ہیں کہ وہ فائنل ائیر میں تھیں جب معروف چینل میں انٹرن شپ کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں ، انھوں نے درخواست دی اور اُن کی سلیکشن ہوگئی اس طرح جس بلڈنگ کو وہ دور سے دیکھتی تھیں اُس کے اندر جاکر کام کرنے کا خواب پورا ہوگیا۔
۔جیوتی بتاتی ہیں انھیں ماحولیات ، کلچر اور تعلیم کے شعبوں میں سینیئرز کے ساتھ کام کرکے سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ کہتی ہیں نیوز میں جرنلسٹس کے لیے چیلنجز کا بھی اندازہ ہوا ۔ اس میں آپ کو بہت وقت دینا پڑتا ہے نیز کسی وقت بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جیوتی نے بتایا ‘ایک روز میں اپنی ‘سوفٹ بیٹ ‘ (نیوز کے ایسے شعبے جن میں عموماً ہنگامی حالات کا سامنا نہیں ہوتا)کی ایک معمول کی اسائنمنٹ کے لیے نکل رہی تھی کہ نیوز آگئی ‘ اینکر حامد میر پر فائرنگ ہوئی اور وہ اسپتال لے جائے گئے ہیں ‘ ۔ اسائنمنٹ ایڈیٹر نے سینئر رپورٹرز کے ساتھ میری بھی ڈیوٹی لگائی ، میں رات دیر تک اسپتال میں موجود رہی اور سینئرز کو صورتحال سے آگاہ کرتی رہی۔
جیوتی نے کہا ‘ اپنے براڈ کاسٹنگ کیرئیر کے دوران ، مجھے مظاہرے ، احتجاجی جلسے جلوس بھی کور کرنے کا موقعہ ملا۔ اس دوران ہمیں اپنی حفاظت یقینی بنانے کو کہا جاتا تھا تاہم مُجھے تجربہ ہوا کہ خاتون اینکر سے لوگ عزت سے پیش آتے ہیں اور اُن کا خیال کیا جاتا ہے۔
ہولی دیوالی سانجھے عید رمضان
جیوتی کہتی ہیں ‘مجھے تعلیم اور کیرئیر کے دوران اپنے مذہب کی بناء پر کبھی روکاوٹ یا تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ یہ ضرور ہے کہ بعض لوگ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں لیکن مجموعی طور پر دوستوں ساتھیوں کی جانب سے کبھی امتیازی برتاؤ نہیں کیا جاتا’۔
جیوتی نے کہا ‘ نیوز کوریج کے دوران انچارج انھیں خاص طور پر ہندو کمیونٹی کے تہوار اور ثقافتی رسومات کی کوریج کی اسائنمنٹ دیتے تھے ۔ ساتھی رپورٹرز بھی اکثر اُن سے اقلیت یا مذہبی حوالے سے نیوز کے سلسلے میں رابطے میں رہتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ایسا نہیں کہ بحیثیت اقلیت ان کی کمیونٹی کو کوئی بھی مسئلہ نہیں ، جبری شادی، مذہب کی تبدیلی اور دیگر مسائل ہیں ، اُن کے حل کے لئے کام بھی ہو رہا ہے ۔ ہر معاشرے میں چند عناصر ایسے ہوتے ہیں جو ہر چیز کا منفی پہلو اُجاگر کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی آزادی بھی ہے اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام بھی کیا جاتا ہے ۔ میرے کولیگس، دوست ہماری ہولی ، دیوالی کی رسومات میں شریک ہوتے ہیں ، میں گھر کی بنی مٹھائیاں دفتر لے کر جاتی تھی ، سب بہت شوق سے کھاتے تھے۔اسی طرح رمضان کے دوران میرا روزہ نہیں ہوتا تھا لیکن احترام میں نہیں کھاتی تھی اورآفس کے دوستوں کے ساتھ افطار کرتی تھی ۔
جیوتی اپنی ذاتی وجوہات کی بناء پر کچھ عرصہ ملک سے باہر رہیں، واپس آنے کے بعد انہوں نے ایک ڈیجیٹل چینل کے ساتھ کام شروع کیا ہے ، وہ بتاتی ہیں دوبارہ کسی معروف اور انٹرنیشنل چینل سے وابستہ ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔
تنقید کرنے والے پیروی پرتیار
جیوتی نے بتایا ‘ نیوز کوریج کے دوران کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ انھیں آفس میں دیر تک رُکنا پڑا ،اس دوران کوئی گھریلو تقریب ہوتی تو وہ اس میں شریک نہ ہو پاتیں تو اُن کے گھر والوں کو طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتیں، لوگ کہتے ‘ یہ کیسا آفس ہے جو رات تک کھلا رہتا ہے ‘ کوئی کہتا کہ ‘ لڑکی ذات اتنی دیر تک اکیلی باہر رہتی ہے، اس قسم کی باتوں سے گھر والے شروع میں پریشان تو ہوتے تھے لیکن انھیں مُجھ پر پورا اعتماد تھا اور وہ لوگوں کو بتاتے کہ آپ جس وقت بھی ٹی۔وی آن کریں خبریں آرہی ہوتی ہیں ، ان کے پیچھے رپورٹر ہی کام کرتے ہیں ۔بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ اب لوگوں میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ، شوبز اور نیوز میڈیا کے متعلق شعور آگیا ہے، خصوصاً ہماری کمیونٹی میں جب لوگوں نے مُجھے مائیک پکڑے ہوئے مختلف حالات و واقعات اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تو انھیں میرے کام کی نوعیت بھی سمجھ میں آئی اور مجھ پر فخر بھی کرنے لگے ۔

https://www.facebook.com/share/v/1Jp5JeDB2x/

جیوتی کہتی ہیں
سندھ کی ہندو برادری میں اب لڑکیوں کی تعلیم پر بہت توجّہ دی جارہی ہے ۔شیڈولڈ کاسٹ کی لڑکیاں بھی پوزیشنز حاصل کر رہی ہیں ، ہماری مہیشوری کمیونٹی میں لڑکے لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ جیوتی نے کہا اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی یا کمیونٹی کی دیگر تقریبات میں مجھے خاص طور پر بلایا جاتاہے ، انعامات اور شیلڈز سے نوازا جاتا ہے ۔ وہ ہی لوگ جو پہلے ہم پر تنقید کرتے تھے اب وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور کیرئیر کے بارے میں ہم سے مشورہ کرتے ہیں۔
جیوتی اپنی آنکھوں میں چمک لئے خوشی سے یہ بتاتی ہیں کہ والدین نے ان کا نام ‘جیوتی’ رکھا جس کا مطلب دئیے کی صورت میں اندھیرے دور کر کے روشنی پھیلانا ہے، وہ اپنے کام کو اپنے نام کے مطابق سمجھتی ہیں۔