پی ٹی وی کے شاہکار ڈرامے “دھواں”: ایک ایسی آگ جس کا دھواں آج بھی نظر آتا ہے

پی ٹی وی کے شاہکار ڈرامے “دھواں”: ایک ایسی آگ جس کا دھواں آج بھی نظر آتا ہے

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے سنہری دور میں پیش کئے گئے ڈراموں کی بات کی جائے تو ان میں سے بیشتر نے نہ صرف عوام کے دلوں پر گہری چھاپ چھوڑی بلکہ معاشرے کو ایک آئینہ دکھانے کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیا۔ ایسا ہی ایک شاہکار ڈراما تھا “دھواں”۔ یہ ڈراما کسی ایک پہلو تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے اپنے اندر سماجی، سیاسی، اخلاقی اور انسانی نفسیات کے گہرے رنگ سمو رکھے تھے۔ اسے صرف ایک ڈراما کہنا اس کی عظمت کو کم کرنا ہوگا، بلکہ یہ ایک ایسی تحریر تھی جس نے پاکستانی معاشرے کے ایک ایسے زنگ آلود پہلو کو بے نقاب کیا جس پر تب بھی کم ہی بات ہوتی تھی اور آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک المیہ بنا ہوا ہے۔

کہانی کا اجمالی جائزہ:

“دھواں” کی کہانی ایک متوسط طبقے کے خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ ڈرامے کے مرکزی کردار “سلیم” (جسے عظمت حسن نے اپنے فنی جوہر سے زندہ کیا) ایک عام سا نوجوان ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں سے معاشرے میں ایک باعزت مقام بنانے کا خواہش مند ہے۔ اس کی ملاقات “نازیہ” (بدر خلیل) سے ہوتی ہے، جو ایک خوبصورت اور معصوم لڑکی ہے۔ دونوں میں محبت ہو جاتی ہے اور وہ ایک نئے اور خوبصورت مستقبل کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔

لیکن یہی وہ موڑ ہے جہاں سے کہانی ایک نئی اور المناک جہت کی طرف مڑ جاتی ہے۔ سلیم کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے ساتھ پیشہ ورانہ دھوکہ ہوا ہے اور اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ روزگار کے بحران، گھریلو ذمہ داریوں اور معاشرے کے دباؤ نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے کوئی مختصر راستہ اختیار کرے۔ یہ مختصر راستہ اسے سماج کی ایک ایسی گہری کھائی میں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

=============================

===============

اب سلیم کی زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوتا ہے۔ اس کا رشتہ نازیہ سے ٹوٹ جاتا ہے، خاندان میں اس کی عزت ختم ہو جاتی ہے، اور وہ ایک ایسی دنیا میں کھو جاتا ہے جہاں جرائم، لالچ اور دھوکہ ایک عام سی بات ہے۔ ڈراما بینائیوں کے سامنے ایک روشن چہرے کے اندھیرے میں تبدیل ہونے کے المیے کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ ناظرین خود کو سلیم کے ساتھ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

معاشرتی شعور اور پیغام:

“دھواں” کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ اس نے ایک انتہائی حساس موضوع کو بے حد خوبصورتی اور بے باکی سے اٹھایا۔ اس ڈرامے نے معاشرے کے سامنے منشیات کے عفریت کو بے نقاب کیا۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے پورے خاندان کے ٹوٹنے، ماں باپ کی محنت کو ضائع ہوتے، اور ایک نوجوان کی تباہی کو دکھایا گیا۔ ڈرامے نے واضح کیا کہ منشیات صرف ایک “بری عادت” نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو نہ صرف فرد کو بلکہ اس کے پورے خاندان اور آخر کار پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اس ڈرامے کا ایک اہم پیغام یہ بھی تھا کہ معاشرے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعوں کی کمی اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی انہیں مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل سکتی ہے، جہاں وہ غلط راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سلیم کا کردار دراصل ہمارے معاشرے کے ہر اس نوجوان کی کہانی ہے جو صلاحیتوں کے باوجود مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہو کر برے راستے پر چل پڑتا ہے۔

=========

===================

فنی محاسن:

“دھواں” کی کامیابی میں اس کے ہدایت کار،编剧 (اسکرین رائٹر) اور اداکاروں کا یکساں کردار تھا۔

ادکاری: عظمت حسن نے سلیم کے کردار میں وہ جان ڈالی کہ وہ ہمیشہ کے لیے یادگار ہو گیا۔ انہوں نے سلیم کی معصومیت، اس کی جدوجہد، اس کی مایوسی، اور پھر اس کے اندر پیدا ہونے والی شیطانی خصلتوں کو اس مہارت سے پیش کیا کہ ہر ناظر کو سلیم سے نفرت بھی ہوتی تھی اور اس پر ترس بھی آتا تھا۔ بدر خلیل نے نازیہ کے کردار کو معصومیت اور درد کی ایک ایسی تصویر بنا دیا جسے دیکھ کر ہر دل دکھی ہو جاتا تھا۔

موسیقی: ڈرامے کا ٹائٹل سانگ “دھواں بن کے اڑ گیا، زندگی کی رسومیں” آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ یہ گانا نہ صرف دل کو چھو لینے والا تھا بلکہ یہ پورے ڈرامے کے المیے کو سمیٹے ہوئے تھا۔

ہدایت کاری: ڈرامے کی ہدایت کاری میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ کہانی کی گہرائی اور اس کے پیغام کو مؤثر طریقے سے پیش کیا جائے۔ ہر منظر، ہر ڈائیلاگ معنی خیز تھا اور کہانی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔

آج کے دور میں “دھواں” کی معنویت:

آج کا دور 1980 کے دہائی سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ میڈیا کی کثرت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی، اور نئے قسم کے مسائل موجود ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر “دھواں” آج بھی اتنے ہی متعلقہ (relevant) ہے جتنا کہ اس وقت تھا۔ آج بھی نوجوان ناانصافی، بیروزگاری اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں۔ آج بھی منشیات کا عفریت نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ آج بھی خاندان ٹوٹ رہے ہیں اور والدین اپنے بچوں کو بری صحبت اور برے راستے پر جاتے ہوئے دیکھ کر بے بس ہیں۔

==================

==============

اس لحاظ سے “دھواں” کوئی پرانی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی المناک داستان ہے جو آج بھی ہمارے معاشرے میں جاری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج کے دور میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کے استعمال کے طریقے زیادہ مہذب اور خفیہ ہو گئے ہیں، لیکن اس کی تباہیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔

“دھواں” پی ٹی وی کا وہ شاہکار ڈراما تھا جس نے تفریح کے ساتھ ساتھ معاشرے کو سوچنے پر مجبور کیا۔ یہ ڈراما اپنے وقت سے بہت آگے تھا۔ اس نے نہ صرف ایک زبردست کہانی پیش کی بلکہ ایک ایسا آئینہ دکھایا جس میں ہر طبقہ فکر اپنا عکس دیکھ سکتا تھا۔ یہ ڈراما آج بھی ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو درپیش مسائل کو سنجیدگی سے لیں، ان کے لیے مثبت سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں، اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ “دھواں” کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ معاشرے کی تبدیلی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس “دھوئیں” کو پھیلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے، جو ہماری نئی نسل اور ہمارے مستقبل کو جلا کر راکھ کر سکتا ہے۔