ناسا نے چلی میں برف سے بنی تیسری انٹر اسٹیلر شہاب ثاقب دریافت کرلی

ناسا نے حال ہی میں برف سے بنی ایک تیسری انٹر اسٹیلر شہاب ثاقب دریافت کی ہے، جس کی نشاندہی چلی میں نصب ایک دوربین کے ذریعے کی گئی۔

یہ تیسری ایسی شہاب ثاقب ہے جو ہمارے نظام شمسی سے گزر رہی ہے اور جس کا تعلق کسی دوسرے ستارے یا سیارے کے نظام سے ہے۔ اسے چلی کے ریو ہرٹاڈو میں واقع ایٹلاس سروے ٹیلی اسکوپ نے پکڑا، جو خاص طور پر ممکنہ ٹکراؤ کے حامل خلائی اجسام کی نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ برف اور گیس پر مشتمل “آئسی سنوبال” جیسا جسم ہے، اور خوش قسمتی سے یہ زمین سے محفوظ فاصلے پر گزر رہا ہے، اس لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے دو انٹر اسٹیلر شہاب ثاقب دریافت ہوئے تھے، جن میں سے ایک 2017 اور دوسرا 2019 میں سامنے آیا تھا۔ یہ حالیہ دریافت ان خلائی اجسام کی فہرست میں تیسری ہے جو دوسرے ستاروں سے ہمارے نظام میں داخل ہوئی ہے۔