آسٹریلیا کے ماہرین فلکیات نے ایک ایسا طاقتور اور پراسرار ریڈیو سگنل دریافت کیا جس نے پہلے پہل انہیں خلا کے کسی انوکھے راز کی امید دلائی، لیکن تحقیقات کے بعد حقیقت بالکل الگ نکلی۔
گزشتہ سال 13 جون 2024 کو آسٹریلوی ریسرچرز نے یہ ریڈیو برسٹ پکڑا، جو اتنا طاقتور تھا کہ لمحہ بھر کے لیے آسمان کی ہر روشنی اس کے سامنے مدھم پڑ گئی۔ پہلے ماہرین نے اسے کسی دور دراز کہکشاں سے آنے والا انوکھا سگنل سمجھا، لیکن تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ سگنل خلا کی گہرائی سے نہیں بلکہ زمین کے قریب سے آیا تھا۔
بعد میں پتا چلا کہ یہ سگنل کسی نئی خلائی مخلوق کا نہیں بلکہ ایک پرانے امریکی سیٹلائٹ کا ’پیغام‘ تھا۔ یہ سگنل 1964 میں بھیجے گئے ریلے 2 سیٹلائٹ سے آیا، جو 1967 سے ناکارہ ہو کر زمین کے مدار میں بے مقصد گردش کر رہا ہے۔ سگنل کی شناخت آسٹریلیا کے ’اسکوائر کلومیٹر اری پاتھ فائنڈر (ASKAP)‘ نے کی۔
یہ سگنل اس لیے بھی خاص تھا کہ یہ صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے نمودار ہوا، لیکن اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آسمان کے دوسرے سگنل اس کے سامنے دب گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی ملبہ اب سائنس دانوں کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اب تک ہزاروں سیٹلائٹس مدار میں چھوڑے جا چکے ہیں، اور مستقبل میں مردہ سیٹلائٹس اور حقیقی خلا کے سگنلز میں فرق کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔























