· گجرات سے تعلق رکھنے والے چار سیاح گزشتہ چند دنوں سے لاپتہ ہے ۔۔ جن کی تلاش کےلئے پورے گلگت بلتستان میں سرچ آپریشن جاری ہے

TO THE NORTH
خوش باز غمگین · گجرات سے تعلق رکھنے والے چار سیاح گزشتہ چند دنوں سے لاپتہ ہے ۔۔ جن کی تلاش کےلئے پورے گلگت بلتستان میں سرچ آپریشن جاری ہے ۔۔ الخدمت فاونڈیشن گلگت بلتستان کی سرچ ٹیم نے بھی اج مختلف مقامات پر سرچ آپریشن میں حصہ لیا ،،،
واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔۔
گجرات کے چار دوست
سلمان
واصف شہزاد
عمر احسان
عثمان
گلگت بلتستان کی سیر کو نکلے بروز جمعرات 15-05-2025 کو عطاء آباد جھیل سے واپس آکر وہ دنیور میں محسن لاج میں نائیٹ اسٹے کیا-
اس کے بعد سے ان چاروں لڑکوں کا فیملی سے رابطہ منقطع ہوگیا- انہوں نے والدین کو جو میسج میں پلان شئیر کیا تھا وہ سکردو کا تھا-
16-05-2025 سے آج بتاریخ 22-05-2025 تک کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں ہے-
ہمارے پاس جو لاسٹ لوکیشن ان کی آئی وہ پڑی بنگلہ کی آرہی ہے 16-05-2025 کی 09:57 صبح کی ہے- اس کے بعد کسی بھی قسم کی لوکیشن نہیں آرہی ان کی
پولیس اسٹیشن جگلوٹ میں مسنگ فیملی کے ایک لڑکا جو صبح سکردو پہنچا سرچنگ کرتے رہے اداروں کے ساتھ مل کر شام کو گلگت آیا پھر جگلوٹ پہنچا اور تھانہ جگلوٹ میں درخواست دائر کی۔
کل پڑی بنگلہ سمیت جے ایس آر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ہوا ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام سیاح خیر وعافیت سے مل جائے آمین
===================

تربیلہ ڈیم میں پانی کی سطح سے متعلق بڑی خبر
تربیلہ ڈیم
ہری پور : شمالی علاقہ جات میں گلیشئر پگھلنے اور بارشوں سے تربیلہ ڈیم میں پانی کی آمد بڑھنے لگی اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ترجمان تربیلہ ڈیم کا کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈ لیول سے 67 فٹ بلند ہوگیا۔

ڈیم میں پانی کی سطح1469.73فٹ ریکارڈ کی گئی، ڈیم کا ڈیڈ لیول1402فٹ اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش1550فٹ ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی آمد 151800 کیوسک ریکارڈ کی گی ہے جبکہ ڈیم سے پانی کا اخراج140000کیوسک ہے۔

مزید پڑھیں : منگلہ اور تربیلہ ڈیم 85 فیصد سے زائد پانی سے بھرگئے
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بجلی کے17پیداواری یونٹ کام کررہے ہیں، جن سے2694میگاواٹ بجلی بنائی جارہی ہے، ڈیم کے پاور ہاؤس میں لگے17پیداواری یونٹ4888میگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
==========

بھارتی پروازوں کیلیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع
پاکستانی فضائی حدود پر بھارتی طیاروں کی پرواز پر پابندی 24 جون 2025 صبح 4:59 بجے تک بڑھا دی گئی۔

پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ، آپریٹڈ، ملکیت یا لیز پر لئے گئے تمام طیارے پابندی کی زد میں رہیں گے۔

یہ پابندی بھارتی فوجی طیاروں پر بھی لاگو ہو گی۔

بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کے زیر انتظام کوئی بھی پرواز پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکے گی۔

بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کو ایک ماہ مکمل ہو گیا، پاکستان نے فضائی حدود بھارت کی جانب سے دریا کا پانی بند کرنے کے بعد بند کر دی تھیں۔

فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئر لائنز کو اب تک 8 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، بوئنگ 777 اور ایئر بس طیاروں کی 150 پروازوں کو یومیہ 2 سے 4 گھنٹے کے اضافی سفر کا سامنا ہے۔

بھارتی ایئر لائنز کو 1 ماہ میں ایندھن کی مد میں 5 ارب روپے کے اضافی اخراجات کرنے پڑے، طویل دورانیے کی بھارتی پروازوں کو اسٹاپ اوور کی مد میں 3 ارب کے الگ اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ وفاقی حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ بھی کر چکی ہے، ایئر لائن نے ایک اندازہ لگایا ہے کہ اگر بندش برقرار رہتی ہے تو اسے ہر سال 50 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے، ایئر لائن نے اپنے نقصانات کے تناسب سے ’’سبسڈی ماڈل‘‘ مانگا ہے۔