
ایک بیوروکریٹ کی کامیابی-

ایک بیوروکریٹ کی کامیابی-
پیپلز پارٹی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے۔
شہید بینظیرآباد (23 مئی 2025): سندھ پیپلز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن (SPHF) کے سی ای او خالد محمود شیخ کی انتھک محنت اور حکمت عملی کی بدولت سندھ کے سیلاب متاثرین کی زندگیاں بدل رہی ہیں۔ ان کی قیادت میں SPHF نے نہ صرف 32 مکانات تعمیر کر کے متاثرین کو پناہ گاہیں فراہم کی ہیں، بلکہ خواتین کو گھروں کی ملکیت کے حقوق دینے کا تاریخی اقدام بھی کیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروگرام ہے، جس نے سندھ کی دیہی خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خالد محمود شیخ کی کاوشیں نہ صرف سرکاری اداروں میں بہترین انتظامی صلاحیتوں کی مثال ہیں، بلکہ یہ پیپلز پارٹی حکومت کے وژن کو عملی شکل دینے کا بھی واضح ثبوت ہیں۔
ایم ڈی ورلڈ بینک Anna Bejerde کا خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ شہید بینظیرآباد میں سیلاب متاثرین کیلئے جاری ریہائشی بحالی منصوبہ کا دورہ
کراچی: (پریس ریلیز) عالمی بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر Anna Bejerde نے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک Najy Benhassine کے ہمراہ ضلعہ شہید بینظیرآباد کے گاؤں نظر محمد لنڈ میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز کا جائزہ لیا، جو کہ سیلاب متاثرین کیلئے تعمیر ہونیوالے گھروں کا منصوبہ ہے۔
ایم ڈی ورلڈ بینک نے خواتین میں نئے گھروں کے مالکانہ حقوق کی اسناد تقسیم کیں اور وی آر سی کی خواتین ارکان سے ملاقات کی، جہاں انہیں دستکاری کا کام بھی دکھایا گیا۔

اس موقع پر ولیج ری کنسٹرکشن کمیٹی کی جانب سے بریفنگ دینے بتایا گیا کہ گاؤں نظر محمد لنڈ، 2022 کی تباہ کن سیلاب کے باعث 32 گھر تباہ ہوگئے تھے، جبکہ تمام گھروں کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈی ورلڈ بینک Anna Bejerde نے سندھ کے سیلاب متاثرین کی بحالی مین عالمی بینک کی جانب سے حکومت سندھ کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس کو حکومت سندھ کے عوام کی صبر، استحکام، مضبوطی اور حکومت سندھ کی بہترین قیادت، تعاون اور بحالی کے عزم کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے باوجود کمیونٹی سطح پر پائیدار بحالی ممکن ہے۔

اس موقع پر خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ایس پی ایچ ایف منصوبہ کے تحت خواتین کو گھروں کے مالکانہ حقوق دینا سندھ حکومت کی خواتین پاکستان کے سماجی و سوشیو اکنامک اقدام ہے، جس سے سندھ کے دیہی علاقوں کی عورتوں کو حقیقی طور پر بااختیار بنایا جا رہا ہے اور یہ خواتین کے حقوق کیلئے سندھ حکومت کا تاریخی اقدام ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں 24 لاکھ گھر تباہ ہوگئے تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متاثرین کی بحالی کا منصوبہ شروع کیا، ابتداء میں ورلڈ بینک نے 500 ملین ڈالرز فراہم کرکے اہم ترین بروقت نتائج حاصل کرنے کا عزم بنایا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ عالمی بینک نے گزشتہ دو برس کے دوران SPHF پروگرام کیلئے اپنی مالی معاونت میں 450 ملین ڈالرز کا اضافہ کیا ہے۔ یہ فنڈنگ 778,000 گھروں کی تعمیر میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ فراہم کی گئی کل رقم میں سے 54.92 ملین ڈالرز پانی، صفائی اور حفظان صحت (WASH) کو ممکن بنانے کیلئے مختص کیے گئے ہیں، جس سے 1,000 گاؤں کے 66,691 خاندانوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔
علاوہ ازیں، ایس پی ایف ایف کے سی ای او خالد محمود شیخ نے ایم ڈی ورلڈ بینک کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبہ پر تفصیل بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعہ شہید بینظیرآباد میں 104822 گھر تباہ ہوئے تھے، جن میں سے 60,000 کو مختلف مراحل میں زیر تعمیر جبکہ تقریباً 40 ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت سندھ بھر میں 111,000 سے زائد معذور افراد محفوظ اور قابل رسائی مکانات حاصل کر رہے ہیں۔ 800,000 سے زائد خواتین زندگی میں پہلی بار اپنے نام پر بینک اکاؤنٹس کھول کر مالیاتی شمولیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ 60 لاکھ سے زائد یہ محفوظ اور مستحکم گھروں میں پرامن چَھت دے رہے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
“سندھ کے سیلاب متاثرین کو نئی امید: آصفہ بھٹو، وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک نے خواتین کو گھروں کی ملکیت کے حقوق سونپے”
شہید بینظیرآباد (23 مئی 2025): خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ شہید بینظیرآباد کے سیلاب متاثرہ گاؤں “نظر محمد لغاری” کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے 32 متاثرہ خواتین کو ان کے نئے گھروں کی ملکیت کی اسناد جاری کیں، جو سندھ پیپلز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن (SPHF) کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں۔
خواتین کو بااختیار بنانے کی تاریخی کاوش
یہ اقدام پاکستان کی تاریخ میں خواتین کو گھروں کی ملکیت دینے والا سب سے بڑا پروگرام ہے، جس کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کو مستحکم زندگی فراہم کرنا ہے۔ SPHF کے سی ای او خالد محمود شیخ نے بتایا کہ یہ منصوبہ نہ صرف مکانات کی تعمیر کر رہا ہے بلکہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔
ورلڈ بینک کا 95 کروڑ ڈالر کا تعاون
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ورلڈ بینک نے سندھ کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 95 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی ہے، جس میں سے 5.5 کروڑ ڈالر صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ فنڈز 7 لاکھ 78 ہزار گھروں کی تعمیر میں استعمال ہوں گے، جبکہ 66691 گھرانوں کو صاف پانی کی سہولت میسر آئے گی۔”
آصفہ بھٹو کا متاثرین سے مکالمہ
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے متاثرہ خواتین سے بات چیت کی اور ان کی دستکاری کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ “پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عورتوں اور بے گھر لوگوں کے حقوق کے لیے کوشاں رہی ہے۔ یہ گھر نہ صرف چھت فراہم کرتے ہیں بلکہ خواتین کو معاشی تحفظ بھی دیتے ہیں۔”
ورلڈ بینک کی تعریف
ورلڈ بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر اینا بیجیرڈ نے سندھ حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ “یہ منصوبہ نہ صرف بحالی کا کام کر رہا ہے بلکہ خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام دلانے کا بھی ذریعہ ہے۔”
مستقبل کے منصوبے
اس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور SPHF کے سی ای او خالد شیخ بھی موجود تھے۔ وفد نے گاؤں میں شجرکاری بھی کی اور بی ایچ یو جام صاحب کے دیگر منصوبوں کا جائزہ لیا۔
اختتامی نوٹ:
سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کا یہ مشترکہ اقدام نہ صرف سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کر رہا ہے، بلکہ خواتین کو معاشی خودمختاری بھی دے رہا ہے، جو پاکستان میں سماجی انقلاب کی ایک نئی کڑی ہے۔
#سندھ_بحالی #ورلڈ_بینک #آصفہ_بھٹو #SPHF #خواتین_کی_بااختیاری























