عبداللہ مراد کی کہانی صرف قتل کی خبر نہ تھی!

عبداللہ مراد کی کہانی صرف قتل کی خبر نہ تھی!
کراچی کی سڑکیں بہت کچھ بھلا چکی ہیں۔ خون کے دھبے بارش میں بہہ جاتے ہیں، گولیوں کی آوازیں اخباروں میں گم ہوجاتی ہیں، لیکن کچھ نام ہوتے ہیں جو صرف لاش نہیں چھوڑتے — وہ خلا چھوڑتے ہیں۔ عبداللہ مراد بھی ایسا ہی ایک نام تھا۔
کراچی ان دنوں شہر کم، مقتل زیادہ تھا۔ لوگ صبح گھر سے نکلتے تو واپس آنا قسمت پر چھوڑ دیتے۔ سڑکیں تھیں، لیکن ان پر چلنے والا ہر قدم اپنے کفن کا سامان خود ساتھ لے کر چلتا تھا۔ بندرگاہ سے لے کر کیٹی بندر تک ہر سانس، ہر سایہ، ایک مخصوص زبان کا محتاج تھا۔ ہوا بھی اگر چلتی تو پہلے پوچھتی،
“بھائی، اجازت ہے؟”
اور پھر ایک آواز آتی، ٹیلیفون کی ڈوری سے لٹکتی ہوئی، اور یوں سناٹا سڑکوں پر ایسا اترتا جیسے کسی نے پوری بستی کا گلا گھونٹ دیا ہو۔ الطاف حسین بولتا تھا، اور کراچی خاموش ہوجاتا تھا — ایسے جیسے شہر کے ہونٹ سی دیے گئے ہوں۔
کراچی؟
ارے بھائی، وہ شہر نہیں، ایک مذاق تھا۔ ایسا مذاق جو بندوق کی نالی سے شروع ہوتا اور خدمت خلق کمیٹی کی میز پر ختم ہوتا۔
اور بیچ میں؟
بیچ میں الطاف حسین ہوتا تھا۔
اب آپ سوچیں گے، الطاف کون؟
ارے وہی، جو باتیں کرتا تھا تو لوگ سنتے نہیں تھے، برداشت کرتے تھے۔ جو بولتا نہیں تھا، گاتا تھا — قبرستان کے راگ۔
وہ جب فون پر آتا تو کراچی کے سارے ٹیلی فون گھبرا جاتے۔ لائن میں سناٹا آ جاتا، جیسے ڈائل ٹون بھی شرما گئی ہو۔
بولتا کیا تھا؟
“بھائی لوگ…”
بس، یہ دو لفظ، اور کراچی کو لقوہ مار جاتا۔
ایسا تھا وہ — الطاف — ایک ایسا کردار جو گلی کے نکڑ پر بیٹھ کر قلفی کھاتے ہوئے بھی انقلاب کی بات کرتا۔ اور جس کا قہقہہ سنتے ہی بندہ جوتے سیدھے کرنے لگے کہ شاید اب جنازے کی تیاری ہے۔
مارچ کے کسی ادھورے دن، جب موسم کراچی میں خنکی سے گرمی کی طرف جھک رہا تھا، ایک سیاستدان کو قتل کیا گیا۔ آج سے اکیس برس پہلے۔ ایک بلوچ، ایک دوست، ایک قائد — مار دیا گیا۔ میں نے اس وقت ایک قوم پرست دوست سے پوچھا تو اس نے کہا، “قتل اس لیے ہوا کہ وہ بلوچ تھا، اور سیاستدان بھی۔” دوسرے نے کہا، “بدلہ لینے والے آئے ہیں بلوچستان سے، کراچی کی گلیوں میں انصاف ڈھونڈنے۔”
عبداللہ مراد کا چہرہ شاید آج کے نوجوانوں کو یاد نہ ہو، لیکن اُس کی آواز اب بھی کراچی کے بلوچوں کی گلیوں میں گونجتی ہے۔ پی ایس 127 — یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے وہ جنرل مشرف کے بی اے کی شرط پر کامیابی سے اسمبلی پہنچے۔ لیکن اس کامیابی کا راز ڈگری نہیں، وہ خلوص تھا جو اُن کی آنکھوں سے چھلکتا تھا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جب ہاجرہ اور سسی قتل ہوئیں — دو ننھی لڑکیاں جنہیں انصاف کبھی ملا یا نہیں ملا۔ مگر عبداللہ مراد نے آواز بلند کی، مقدمہ درج کروایا۔ اُس دن اس نے صرف ایک سیاستدان ہونے کا ثبوت نہیں دیا، اُس نے بلوچوں کے دل میں رہنما ہونے کا مقام پایا۔
کون تھا عبداللہ مراد؟
وہ جو بی اے کی شرط پوری کرکے اسمبلی پہنچا، مگر دل کی شرط کبھی نہ توڑی۔ سیاستدان تو بہت ہوتے ہیں، مگر وہ سیاستدان جو ماں کے آنسو کو زبان سمجھ لے؟ وہ بہت کم ہوتے ہیں۔ عبداللہ مراد انہی میں سے تھا۔
اس نے ہاجرہ اور سسی کے قتل پر ایف آئی آر درج کروائی — یہ بات سننے میں چھوٹی لگتی ہے، لیکن کراچی میں، بلوچ ہو کر، سچ بولنے کی قیمت گولی ہے۔ وہ گولی اس نے چکائی۔
میں سوچتا ہوں، شاید وہ صرف سیاستدان نہیں تھا۔ وہ بلوچ تھا، اور اس سے پہلے ایک آدمی تھا۔ اُس آدمی کے اندر کوئی گہرا دکھ تھا۔ جیسے وہ جانتا تھا کہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ شاید اسی لیے وہ تیزی سے چلتا تھا، ہنستا تھا، لڑتا تھا کیونکہ وقت تھوڑا تھا
ہم، جو زندگی کی اذیتوں سے سیکھتے ہیں کہ واقعات کی گہرائی میں اترنا کیسا ہوتا ہے — ہم جانتے ہیں کہ عبداللہ مراد کی کہانی صرف ایک قتل کی خبر نہیں تھی۔ یہ وہ المیہ تھا جس نے کراچی کے بلوچوں کو یہ احساس دلوایا کہ ان کا نمائندہ، جو اُن کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا، ان کی زبان بولتا تھا، اب موجود نہیں رہا۔
جب میں کراچی کی کسی گلی سے گزرتا ہوں جہاں عبداللہ مراد نے قدم رکھا تھا، تو سوچتا ہوں: کیا اُس کی جگہ کبھی کوئی اور لے سکا؟ کیا وہ قیادت، وہ قربت، وہ انسانیت — کبھی واپس آئے گی؟
شاید نہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ تاریخ میں خالی جگہ چھوڑ کر جاتے ہیں۔ جگہیں جنہیں نہ الیکشن بھر سکتے ہیں، نہ تقریریں۔ عبداللہ مراد اُنہی میں سے تھا۔ کراچی کا ایک بیٹا — جس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے، ہر اُس لمحے جب کوئی بے زبان انصاف کا طلبگار ہوتا ہے۔