وِسلر کی شام محض ایک وقت نہیں، ایک کیفیت ہے۔

سچ تو یہ ہے،

— بشیر سدوزئی

جب ہم وینکوور پہنچے تو مرزا یاسین بیگ نے فون پر مشورہ دیا کہ “برٹش کولمبیا گئے ہو تو لگے ہاتھ وِسلر کو بھی ضرور دیکھتے آئیے گا۔” میں نے یاسین سے کہا کہ وِسلر میں تو ایک رات قیام کا پروگرام ہے۔ بولا، “بس بس، آپ کو اس سفر میں لطف آئے گا، ٹور گائیڈ سمجھ دار معلوم ہوتا ہے۔” وِسلر میں رات رکنے کا پروگرام پہلے سے ہی تھا، لیکن یاسین کی توجہ دلانے کے بعد قیام کے دورانیے میں اضافہ کر دیا۔
اگر موسم خوشگوار اور ٹریفک رواں رہے تو وینکوور سے وِسلر تک “سی ٹو اسکائی ہائی وے” پر 121 کلومیٹر طے کرنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں۔ ہمارا ارادہ تھا کہ یہ فاصلہ سات سے آٹھ گھنٹوں میں طے کریں گے، لیکن ہم نے راستے میں کچھ ویو پوائنٹس چھوڑ کر سفر کو چار سے پانچ گھنٹے تک محدود رکھا۔ اگر اس ہائی وے پر سیاحت کے ساتھ انصاف کیا جائے تو یہ فاصلہ چار پانچ دن یا اس سے بھی زیادہ وقت مانگتا ہے، لیکن ہمارا سفر بھی ہوا کے گھوڑے پر ہی تھا—”چل سو چل” کے مصداق، آگے ہی بڑھنا تھا، پیچھے مڑنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ ہمیں 18 مئی کو واپس اونٹاریو پہنچنا ہے، اور پاکستان واپسی کا دن بھی قریب آ رہا ہے۔ آج 13 مئی ہے، ابھی برٹش کولمبیا کی شروعات ہیں؛ البرٹا میں کب داخل ہوں گے اور کب نکلیں گے—کچھ اندازہ نہیں۔ لہٰذا ہمیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دیکھنا تھا۔ چلنا تھا اور سوچنا تھا لیکن وِسلر کی شہرت نے جیسے قدموں میں زنجیر ڈال دی ہوں ۔


بہت سارے ویو پوائنٹس نظرانداز کرنے کے باوجود ہم شام پانچ بجے تک وِسلر پہنچ چکے تھے، جو “سی ٹو اسکائی ہائی وے” کا آخری کونا ہے۔
وِسلر میں داخل ہوتے ہی منظر ہی کچھ اور ہو گیا۔ پہاڑوں کے درمیان بسے اس قصبے نے جیسے مجھے بازو کھول کر خوش آمدید کہا ہو۔ گلیاں، جن پر سیاحوں کے قدموں کی چاپ گونج رہی تھی، پھولوں سے سجی تھیں۔ دکانوں کے شوکیسز میں برفانی جوتے اور رنگ برنگے کوٹ تھے، اور کیفے کے باہر رکھی کرسیوں پر لوگ سورج کی نرم روشنی کو پی رہے تھے۔
وِسلر خوبصورت اور جدید ٹاؤن ہی نہیں، فرسٹ نیشنز کی ثقافت اور تاریخ، فطری حسن، سکون، مہم جوئی، عالمی کھیلوں کا مرکز اور علاقائی تہذیب کا امتزاج ہے۔ جدید سہولیات نے قدرتی حسن کو نکھارا دیا، جب کہ مقامی ثقافت نے اس قصبے کو ایک نیا روپ دیا ہے۔ ہم نے لاکھ جلدی کی، پھر بھی وِسلر پہنچتے پہنچتے سورج ڈھلنے لگا اور درختوں کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ مئی کا وسط تھا، لیکن وِسلر کے اطراف کے پہاڑوں پر برف یوں نمایاں تھی جیسے برفیلے پہاڑ ہمیں ڈرا رہے ہوں۔
برف کے پہاڑ اتنے قریب ہونے کے باوجود وِسلر میں سردی نہیں۔ اس کی وجہ میں سوچتا رہا، اور یہ راز سمجھ میں آ گیا کہ وِسلر دراصل دو پہاڑوں—وِسلر اور بلیک کامب—کے درمیان بند وادی ہے۔ چونکہ ہواؤں کو تیز چلنے کے لیے کھلا ماحول نہیں، لہٰذا دونوں پہاڑوں پر جمی گلیشیئرز بھی وِسلر کے مہمانوں کو تنگ نہیں کرتے۔
ہمارا قیام پِنیکل انٹرنیشنل ہوٹل میں تھا، جو ولیج کے مرکز اور مین اسٹریٹ پر واقع ایک خوبصورت، چھوٹے درجے کا بوتیک ہوٹل ہے، وِسلر ولیج نارتھ کے وسط میں ہے۔ اُن مسافروں کے لیے جو سکون، سہولت اور معیاری خدمات کی تلاش میں ہوں، یہ بہترین رہائش گاہ ہے۔
ہوٹل کی انڈرگراؤنڈ پارکنگ میں گاڑی لگا کر جب ہم چوتھی منزل پر اپنے کمرے میں پہنچے تو خوشی ہوئی کہ میرے کمرے کی ایک دیوار کی کھڑکی سے پہاڑ اور دوسری سے ولیج کا منظر صاف نظر آتا تھا۔ ہم نے کافی مشین سے ایک کپ نکالی، اور کھڑکی بدل بدل کر نئے ویو کا نظارہ کرتے چسکیاں لیتے رہے۔ کبھی ایک کھڑکی کے پاس کرسی لگا کر برف پوش پہاڑ کا نظارہ اور کبھی دوسری کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر ولیج کا۔ چائے یا کافی پینے میں مجھے عمومی طور پر جلدی ہوتی ہے، لیکن اس دن نہ جانے کتنا وقت گزر گیا، منگ میں ابھی بھی کافی باقی تھی کہ خدیجہ بی بی اپنے بابا کے ساتھ دروازہ پیٹنے لگی:

“دادا ابو تلو، دادا ابو تلو، جھولے جھولنا ہے۔”
بابا نے کہا: “نہیں، پہلے ڈنر پھر جھولے۔”
خدیجہ بی بی نے کہا: “نو، نو، پہلے جھولے۔”
ہم نے دروازہ بند کیا اور دونوں باپ بیٹی کے پیچھے ہو لیے—دیکھتے ہیں اپنی بات منوانے میں کون کامیاب ہوتا ہے۔ یقین تو یہی ہے کہ بیٹی ہی جیتے گی۔ اگر بیٹی باپ سے بات نہیں منواتی تو پھر مان کیسا؟
وِسلر مارکیٹ (خریداری اور کھانے پینے کی جگہیں) ہمارے ہوٹل سے پیدل چلنے کے فاصلے پر ہیں۔ مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا۔ آسمان نارنجی، سرخ اور سنہری رنگوں میں گھل رہا تھا، اور پہاڑ کے دامن کی وادیوں میں اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ جب ہم ہوٹل سے نکل کر مین روڈ پر پہنچے تو سات، ساڑھے سات بج چکے تھے، چہل پہل کم ہو رہی تھی۔ دکانیں بند ہونے اور کلب و ہوٹل کھلنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ مجھے لگا جیسے وقت نے اپنا چلنا ترک کر دیا ہو۔ ہر شے، ہر سایہ، ہر آواز ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
شام کی یہ ساعت وِسلر میں کچھ اور ہی معنی رکھتی ہے۔ یہاں شام صرف روشنی کا اختتام نہیں، ایک نئی دنیا کی ابتدا ہے۔ اس دنیا میں کچھ ڈوب جاتے ہیں کچھ تیرتے ہیں اور ایک بڑی تعداد تمائش بین کی بھی ہے، جو صرف مسکراتے ہیں، آج وِسلر میں مسکرانے والوں میں ہم بھی تھے، جو وِسلر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھوم گھوم کر خوش ہو رہے تھے مسکرا رہے تھے،
برف پوش پہاڑوں کے درمیان چھپے لاجز، جن کی کھڑکیوں سے زرد بتیوں کی مدھم روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی، جیسے کسی قدیم افسانے کے کردار جاگ اٹھے ہوں۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی، مگر نہ کاٹ کھانے والی، نہ بہت نرم — بس اتنی کہ وجود کو جگائے رکھے، اور یہ احساس بھی دلائے کہ “یہ وِسلر ہے”، برٹش کولمبیا کی سب سے حسین وادی۔ یہاں کبھی کبھی سردی کا احساس ہوتا ہے تب ہی میں نے فل کورٹ پہن رکھا تھا، جو واقعی میں کچھ دن کا ہی مہمان تھا۔
میرے کوٹ نے جب تک وہ میرے پاس رہا، میرا خوب ساتھ نبھایا۔ جب سے بے گھر افراد کے شکنجے میں گیا، اسی کا افسوس ہو رہا ہے۔ بے قدروں نے اس کی کیا حالت بنا رکھی ہو گی! دس ڈالر میں بکا ہو گا یا پندرہ میں۔ بے گھر افراد اور بھی بہت سامان لے گئے، لیکن مجھے تو اپنے کوٹ کا ہی افسوس ہے۔ جب سے جدا ہوا، تنہائی سی لگتی ہے۔ بہرحال، اب تو یہ قصہ پارینہ ہو چکا۔ سردست ہم وِسلر ولیج کی مین اسٹریٹ پر ٹہلنے کی بات کر رہے ہیں۔
وِسلر کی گلیوں میں چلتے ہوئے، میں نے پہاڑوں کی طرف دیکھا۔ ان کی اونچائی، ان کی خاموشی، ان کی موجودگی… جیسے کہہ رہے ہوں: “یہاں رک جا، کچھ دیر اور رہ کر خود کو پہچان لے۔” چوک میں کچھ بچے کھیل رہے تھے، جہاں ان کے لیے اہتمام کیا گیا ہے۔ پس منظر میں برف پوش چوٹیاں اور پیش منظر میں بہار کی نرم گھاس پر دوڑتے چھوٹے قدم، چیختے چلاتے اور ہنستے ہنساتے۔ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے تھے، مگر یہاں سب شیر و شکر تھے۔ میں ان بچوں کو دیکھ کر سوچنے لگا: کاش دنیا کے حکمران ان بچوں سے کچھ سیکھ لیں۔ انسانوں میں کیوں تفریق کی ہوئی ہے؟ سارے ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔ اور زمین کو کیوں تقسیم کر دیا—”تم یہاں داخل نہیں ہو سکتے، تم وہاں داخل نہیں ہو سکتے”۔ پہاڑوں اور بچوں کی یہ تصویر شاید پوری زندگی کی بہترین تعریف تھی: بلندیاں اور معصومیاں ساتھ ساتھ۔( وِسلر کا بقیہ دوسری قسط میں )