
پردہ اٹھتا ہے ۔
کراچی میں پانی کے سب سے بڑے چور کا نام ہے سائٹ انڈسٹریل ایریا کراچی ۔
جی ہاں تقریبا ڈھائی ہزار سے زیادہ انڈسٹریز پر مشتمل یہ وسیع و عریض صنعتی علاقہ جسے سائٹ انڈسٹریل ایریا کے نام سے جانا جاتا ہے کراچی کے عوام کا پانی چوری کرنے میں سب سے نمایاں ہے یہاں ایک بہت منظم گروہ اور ایک مافیا کی شکل اختیار کر جانے والا طاقتور طبقہ ہے جو شہر میں انے والا میٹھا پانی اور زیر زمین پانی بے دریغ استعمال کر رہا ہے اور حکومت کو نہ ٹیکس دیتا ہے نہ پانی کا بل ۔ چونکہ یہ انڈسٹریز بہت سی اہم اشیاء تیار کرتی ہیں جن سے پاکستان کو زر مبادلہ کمانے میں بھی مدد ملتی ہے اور لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے اس لیے حکومت اور ادارے ان کے خلاف ایکشن لینے سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے اور پانی چوری کیا جاتا ہے جس میں دونوں طرح کا پانی ہے جو زیر زمین پانی بھی ہے اور فریش واٹر بھی ہے ۔ صرف اس صنعتی علاقے کو ہی لے لیں تو یہاں پر اربوں روپے کا پانی چوری کیا جاتا ہے اور اس بارے میں جب میئر کراچی مرتضی وہاب نے چیئرمین واٹر بورڈ کی حیثیت سے چارج لیا تھا تو ان کو بریفنگ دی گئی تھی اس میں بھی بتایا گیا تھا کہ صرف سائٹ کے علاقے میں اربوں روپے کا پانی چوری ہوتا ہے اور یہ صنعت کار پانی کا بل نہیں دیتے لیکن مرتضی وہاب بھی تقریبا دو سال ہونے کو ائے ہیں وہ واٹر بورڈ کے چیئرمین ہیں لیکن انہوں نے بھی صنعت کاروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اور خاموشی اختیار کیے رکھی ہے وہ اور حکومت کے دیگر لوگ بھی جانتے ہیں کہ صنعتی علاقوں میں کتنے بڑے پیمانے پر پانی چوری ہوتا ہے اور واٹر کارپوریشن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یہ نقصان صرف واٹر کارپوریشن کا نہیں بلکہ سرکاری خزانے کا بھی ہے اور شہریوں کا بھی ہے کیونکہ یہ پانی شہریوں کے پینے کے لیے ہے جو انڈسٹری میں استعمال ہو جاتا ہے واٹر کارپوریشن کئی مرتبہ کہہ چکا ہے کہ انڈسٹری کے لیے پانی دینے کے لیے تیار ہیں لیکن جو پانی استعمال کیا جائے اس کا اعتراف کیا جائے اور اس کا بل بھی ادا کیا جائے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے صنعت کار کافی طاقتور بااثر لوگ ہیں اس لیے وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے ہمیشہ واٹر کارپوریشن کے کسی بھی جال میں انے سے بچ جاتے ہیں نقصان نہ صرف واٹر کارپوریشن کا ہو رہا ہے بلکہ عوام کا بھی ہو رہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق سائٹ انڈسٹریل ایریا کو 42 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہوتا ہے جبکہ انڈسٹریز کی بات کریں تو پورے کراچی میں 100 ملین گیلن پانی صرف انڈسٹریز یعنی صنعتوں کو درکار ہے جبکہ واٹر کارپوریشن صنعتوں کو یا انڈسٹریل ایریا کو بمشکل 15 سے 20 ملین گیلن پانی دیتا ہے اب ہمیشہ سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انڈسٹریز باقی 80 سے 85 ملین گیلن پانی کہاں سے لیتی ہیں ایک رپورٹ کے مطابق انڈسٹریل ویسٹ یا انڈسٹریل سیوریج ہے وہ 48 ملین گیلن یومیہ ہے جو سائٹ سے نکلتا ہے اب اگر اتنا پانی انڈسٹری سے نکل رہا ہے تو یقینی طور پر اس سے زیادہ پانی ہی وہاں پر پہنچتا ہوگا انڈسٹریز میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور انڈسٹریز میں اگر 48 ملین گیلن پانی یومیہ اخراج ہو رہا ہے تو وہاں پر پانی کا استعمال بھی اتنا ہی ہونا چاہیے ماضی میں ایک اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ 13 اپریٹرز ہیں جو شہر میں 200 بور چلا رہے ہیں اور انہوں نے سارا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے اور وہ بمشکل 30 ہزار روپے فی بور فی مہینہ سرکار کو دیتے ہیں جو تقریبا ساڑھے پانچ سے چھ کروڑ روپے بنتا ہے اور یہ رقم استعمال ہونے والے پانی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے اس حوالے سے ماضی میں جب بلنگ چیک کرنے کا ایک نظام وضع کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ بات سامنے ائی تھی کہ صرف انڈسٹریل ایریا ہے کہ بل پانچ ارب روپے کے بننے چاہیے اپریٹرز کو چیک کیا تو چوری بہت زیادہ تھی جتنا پانی لے رہے تھے اس سے بہت کم کی بلنگ کر رہے تھے اور اس کی ادائیگی بھی پوری نہیں ہو رہی تھی ۔ باخبر ذرائع نے جیوے پاکستان کو بتایا کہ ایک اعلی سطحی اجلاس میں بند کمرے میں شہر کے معزز صنعت کار اور انڈسٹریل لسٹ شخصیات نے یہ اعتراف کیا کہ 15 ملین گیلن پانی چوری ہو رہا ہے جس کے بعد انڈسٹریل ایریاز کو فراہم ہونے والے پانی اور وہاں استعمال ہونے والے پانی پر میٹرز لگانے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن بعد میں پتہ چل رہا ہے کہ 200 بور نہیں ہیں بلکہ 400 سے زیادہ بور ہیں اور ان کے لوگوں نے جگہ جگہ واٹر کارپوریشن کی مین لائنز بند کر رکھی ہیں یا ان میں رکاوٹیں لگا کر پانی کا رخ اپنی طرف موڑا ہوا ہے یا پانی کو اپنی مرضی سے چھوڑتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں یہ ایک بہت بڑی غیر قانونی کاروائی تھی لیکن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر ایکشن کی ضرورت تھی وہ ایکشن اج تک تو نہیں ہوا ایک مرتبہ 2022 کے جو جاری کردہ 34 لائسنس تھے ان کو کینسل کیا گیا تھا اور یہ معاملہ ایپیکس کمیٹی تک گیا تھا اور وہاں پر بھی اس کی منظوری ملی تھی بعد میں کچھ کمپنیاں جن میں پانی بیچنے والی کمپنی بھی نمایاں تھی وہ عدالت میں چلے گئے اور وہاں پر بھی کافی بحث ہونے کے بعد ایک تفصیلی فیصلہ ایا ہے جوواٹر کارپوریشن کے حق میں تھا لیکن واٹر کارپوریشن کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر صنعت کاروں اور صنعتی علاقوں کو باقاعدہ بلنگ کی جائے اور جو پانی سنتوں میں استعمال ہو رہا ہے اس کا موجودہ یا مجوزہ ریٹ کے مطابق و صول کر لیا جائے تو واٹر کارپوریشن کی ماہانہ امدنی میں ایک ارب روپے کا اضافہ باسانی ہو سکتا ہے بلکہ ایک ارب 80 کروڑ روپے تک اضافہ ممکن ہے اور اگر باقاعدہ میٹر لگا لیے جائیں اور سختی کی جائے اور کوئی رعایت نہ برتی جائے اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے تو یہ بلنگ پانچ ارب روپے تک بڑھ سکتی ہے اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انڈسٹریل ریٹ نو پیسے فی گیلن طے کیا گیا تھا لیکن انڈسٹری میں چوری کی عادت اتنی بڑے پیمانے پر ہے کہ لوگ نو پیسے فی گیلن کے حساب سے بھی صنعتوں کا پانی استعمال کرنے پر بل ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور مسلسل واٹر کارپوریشن کو کروڑوں نہیں اربوں روپے کا نقصان ہر مہینے برداشت کرنا پڑ رہا ہےطاقتور اور با اثر لوگوں پر ہاتھ کون ڈالے ؟ ؟
کراچی: شہر قائد میں پانی کی شدید قلت کے پیچھے کارفرما بڑے پانی چوروں کا ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔ KWSC (کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن) اجلاس میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف صنعتی ایریا میں ہر سال 4 ارب روپے مالیت کا پانی چوری کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہر کے لاکھوں شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
پانی چوری کا بڑا کاروبار
تفصیلات کے مطابق، شہر بھر میں غیر قانونی ہائڈرنٹس کام کر رہے ہیں، جو KWSC کی لائنیں کاٹ کر پانی چوری کرتے ہیں اور اسے ٹینکر مافیا کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اس غیر قانونی کاروبار میں کچھ بااثر افراد اور صنعتی یونٹس بھی ملوث ہیں، جو زیر زمین پانی کی غیرقانونی نکاسی کر کے اربوں کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
میئر کراچی کا اہم بیان
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ “یہ صرف پانی چوری نہیں، بلکہ عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے۔ ہم نے عزم کر لیا ہے کہ کسی بھی بااثر گروہ کو بچائے بغیر، پانی چوری کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “صرف ایریا میں 13 MGD پانی چوری ہو رہا ہے، جو 4 ارب روپے سالانہ کے نقصان کے برابر ہے۔”
اگلے اقدامات
KWSC بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ:
غیر قانونی ہائڈرنٹس کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
پانی کی غیر قانونی نکاسی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
شہریوں کو پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید بہتر کیا جائے گا۔
عوام سے اپیل
میئر کراچی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی چوری کی کسی بھی شکایت کو فوری طور پر KWSC ہیلپ لائن یا متعلقہ اداروں تک پہنچائیں، تاکہ اس بڑے المیے کو روکا جا سکے۔
یہ واضح ہو چکا ہے کہ کراچی کی پانی کی بحران کی ایک بڑی وجہ یہ منظم چوری ہے، جس کے خلاف اب حکومتی سطح پر سخت اقدامات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ کیا واقعی پانی چوروں کے خلاف کارروائی ہوگی، یا پھر یہ معاملہ بھی دبے پاؤں رفع دفع ہو جائے گا؟ آنے والے دن اس سوال کا جواب دیں گے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔ اگلی قسط بہت جلد ۔۔۔۔۔صرف جیوے پاکستان پر جیوے پاکستان کے ساتھ جڑے رہیے
==================
Note-ref………..https://www.dawn.com/news/1781698























