
سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی

سکوامش سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع “سی ٹو اسکائی گونڈولا” کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بادلوں کے اس پار ایک خواب ہے، اور گونڈولا اس خواب گاہ تک لے جانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ آب و تاب سے بھرپور یہ کیبل کاریں سیکڑوں سیاحوں اور کوہ نوردوں کو روزانہ اوپر نیچے لے جانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
میں نے دنیا کے متعدد ممالک—ملیشیا، آذربائیجان، ترکیہ وغیرہ—میں کیبل کاروں کو دیکھا ہے، ان کے ذریعے پہاڑوں اور برف پوش چوٹیوں کی قربت کا لطف لیا، لیکن جو کشش اور خوبصورتی “سی ٹو اسکائی گونڈولا” میں دیکھی، وہ کہیں اور محسوس نہیں ہوئی۔ دیگر ممالک میں کیبل کاریں سرسبز جنگلات اور کھلیانوں سے گزرتی ہیں، مگر “سی ٹو اسکائی گونڈولا” ایک چٹیل پہاڑ پر تقریباً 99 ڈگری کے زاویے سے اوپر چڑھتی ہے۔
“سی ٹو اسکائی ہائی وے” پر سفر کرنے والوں کو دور سے ہی شیشے کی رنگین ڈولیاں کھڑے پہاڑ پر چڑھتی نظر آتی ہیں، تو ماحول ہی رنگین اور سہانا لگنے لگتا ہے۔ جوں جوں بیس اسٹیشن قریب آتا ہے، کیبل کاریں دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ بے شک یہ منظر “سی ٹو اسکائی ہائی وے” پر سفر کرنے والوں کے لیے ایک عجوبہ ہے۔ ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان آسمان کے سفر پر رواں دواں ہے۔
ہر ڈولی میں 8 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہ صرف 10 منٹ میں 885 میٹر کی بلندی تک لے جاتی ہے۔ آن لائن بکنگ نہ صرف سستی ہوتی ہے بلکہ سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ قطار میں کھڑے ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔ صبح 9 سے شام 5 بجے تک ٹکٹ کھڑکی تو کھلی رہتی ہے، مگر یہ آپ کی قسمت ہے کہ اس دن کتنے سیاح آپ سے پہلے لائن میں لگے ہوں—درجنوں یا سینکڑوں۔ آپ کا نمبر کب آئے گا، یہ منٹوں یا گھنٹوں میں بدل سکتا ہے۔
ہم سے بھی یہی کوتاہی ہوئی—یا یوں کہیں کہ ناقص معلومات کا شاخسانہ تھا—کہ ہمارے پاس آن لائن ٹکٹ نہیں تھا۔ جب طویل قطار دیکھی تو ارادہ بدل دیا کہ 19 منٹ کے کیبل کار سفر اور دو گھنٹے کی چوٹی کی سیر کے لیے دو گھنٹے قطار میں کھڑے ہونا دانشمندی نہیں۔ بہتر یہ سمجھا کہ وہ وقت کسی اور وادی، کسی جھرنے، آبشار یا جھیل کے کنارے گزارا جائے۔ احمر بشیر خان نے تو اعلان ہی کر دیا کہ کیبل کار کی سواری ہمارے سفر کا حصہ ہی نہیں، جھولے جھولنا تو بچوں کا مشغلہ ہے ہم اس میں بیٹھ کر کیا کریں گے، انا بی بی نے اس پر کہا کہ انگور کھٹے ہونے کا محاورہ یہاں ہی فٹ آتا ہے، میں نے اس بحث کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ مجھے تو بس اس کی معلومات چاہیے، مجھے پہاڑ پر جا کر کیا کرنا اور کیبل کار میں بیٹھ کر کیا لینا، احمر بشیر خان فورا ہی پلٹا اور بورڈ کی طرف اشارہ کیا کہ مسلہ ہی حل ہو گیا، اس پر سب کچھ درج ہے، اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تو اس کے لیے میں کتابچہ لے آتا ہوں اس میں سب کچھ ہو گا۔ پھر وہ وہاں کاونٹر کے برابر میں ریک میں رکھے پوسٹر میں سے ایک اٹھا کر لے آیا جس پر اس علاقے اور خاس طور پر ” سی ٹو اسکائی گونڈولا ” کے بارے میں تفصیلات درج تھیں ۔
چوٹی پر “اسکائی پائلٹ سسپنشن برج” ہے، جو 100 میٹر طویل ہے۔ سیاح یہاں کھڑے ہو کر یا پل سے گزرتے ہوئے دونوں جانب کے شاندار نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ “چیف اوورلک ویو پوائنٹس” سے ہوو ساؤنڈ کا ساحل، ٹینٹالس رینج، اور اسکائی پائلٹ ماؤنٹین سمیت پورے علاقے کا وسیع نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
چوٹی پر ایک خوبصورت ریستوران، بار اور گفٹ شاپ بھی موجود ہے جسے “سمٹ لاج” کہتے ہیں، اور یہ مقامی ڈگلس فر لکڑی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں یادگار کے طور پر “سی ٹو اسکائی گونڈولا” کے لوگو والی ٹی شرٹس، کتابچے اور تحائف دستیاب ہیں۔ یہ معلومات ہمیں نصب بورڈز اور گفٹ شاپ سے حاصل ہوئیں، کیونکہ ہم تو صرف کیبل کار کو اوپر جاتے ہی دیکھتے رہے، حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے ہی کیبل کار چڑھنا شروع کرے، وہ بادلوں میں چھپ جاتی ہے—یہ منظر خواب سا لگتا ہے۔
ہمارے سفر کی سب سے زیادہ دلچسپ اور جملہ باز ساتھی خدیجہ بے بی کی ضد تھی کہ وہ “اڑن ڈولی” میں بیٹھیں گی، مگر ہم نے انھیں تسلی دی کہ اگلی منزل پر ان سے بھی اچھے جھولے ہیں۔ خدیجہ بے بی اگر کھانا پینا بند بھی کر دیں تو کوئی بات نہیں، بس جھولے تک پہنچا دیں، بلکہ کھانے پر جھولوں کو ترجیح دیں گی اور گھنٹوں خوش رہیں گی۔ ہم نے ان سے کیا گیا وعدہ وِسلر میں پورا کیا، جہاں اولمپکس چوک پر جھولوں کا انتظام تھا۔
ہم یہاں سے وِسلر کے لیے روانہ ہوئے، جو “سی ٹو اسکائی ہائی وے” کا آخری سرا ہے۔ اس کے آگے یہ شاہراہ اپنے اصل نام “99 ہائی وے” سے پہچانی جاتی ہے۔ اس سڑک پر ہر موسم کا سفر اپنا الگ لطف رکھتا ہے۔ آج ہمیں سبزہ اور نیلا آسمان دیکھنے کو ملا، جبکہ سردیوں میں یہاں برفیلے پہاڑ اور دھند چھائے ہوتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں موسم بھی بے اعتبار سا ہے—دھوپ کے ساتھ ہی بارش، اور سورج کے ہوتے ہوئے بھی سردی۔
برفباری کے بعد سڑک یوں چمکتی ہے جیسے کاغذ پر سیاہی سے لکیر کھینچ دی گئی ہو، اور درخت دھل کر نکھر جاتے ہیں۔
اس شاہراہ کی خوب صورتی صرف فطری مناظر تک محدود نہیں، بلکہ 2010ء کے سرمائی اولمپکس نے اسے بین الاقوامی شہرت بخشی۔ وینکوور اور وِسلر کے درمیان رابطے کے لیے اس سڑک کو عالمی معیار کے مطابق جدید کیا گیا، جس کے بعد یہ “سی ٹو اسکائی ہائی وے” کے نام سے جانی جانے لگی۔
یہ راستہ صرف جسمانی سفر نہیں، روح کی تازگی کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر آپ کینیڈا کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو برٹش کولمبیا کو ضرور اپنی فہرست میں شامل کریں۔ یہ شاہراہ ایک نظم کی مانند ہے، جس کا ہر بند ایک نیا منظر پیش کرتا ہے۔
اب شام کے پانچ بج رہے ہیں اور ہم وِسلر کے ایک شاندار ہوٹل میں قیام کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ وینکوور سے تقریباً 120 کلومیٹر شمال میں واقع وِسلر مشہور پہاڑی سیاحتی مقام ہے۔ جو قدرتی خوب صورتی، سہانے موسم، بہار کی خوشبو اور سرما میں برفباری کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ شمالی امریکہ کا سب سے بڑا سکی ریزورٹ ہے، جو دو پہاڑوں، وِسلر اور بلیک کامب، (Whistler Blackcomb): پر مشتمل ہے۔ یہاں سردیوں میں برفانی کھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ وِسلر نے 2010 کے سرمائی اولمپکس میں کئی ایونٹس کی میزبانی کی، جس کی وجہ سے اس کی عالمی شہرت میں اضافہ ہوا۔ وِسلر میں فائیو اسٹار ہوٹلز، لگژری ریزورٹس، ریسٹورینٹس، خریداری کے مقامات اور سپا مراکز موجود ہیں، جو سیاحوں کو بہترین تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ پییک 2 پییک گونڈولا (Peak 2 Peak Gondola): یہ دنیا کی سب سے طویل اور اونچائی پر چلنے والی کیبل کار ہے جو وِسلر اور بلیک کامب کے درمیان سفر کرتی ہے۔
سامان کمرے میں رکھ کر ڈنر کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس کا احوال اور وِسلر میں سرگرمیاں ان شاء اللہ آئندہ قسط میں…
ہمارے ساتھ رہیے گا!
Load/Hide Comments























