
کراچی
مور خہ 22مئی 2025
صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی کمیشن کا اجلاس
سندھ پولیس کی طرف سے کمیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد نا کرنے کا سخت نوٹس
سکھر ڈویزن میں صحافیوں کی کیسز کی بابت بریفنگ دینے کے لیے پولیس کے نمائندے کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار
محکمہ داخلہ اور سندھ پولیس سے کمیشن کے لیے ایک ایک فوکل پرسن مقرر کیے جائیں: فیصلہ

کراچی22 مئی .سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرس کا اجلاس آج کمیشن کے چیئرمین اعجاز احمد میمن کی سربراہی میں سندھ آرکائیوز میں منعقد ہوا.اجلاس میں سیکریٹری انفارمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈائریکٹر انفارمیشن ماجد خان, کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرس (سی پی این ای) کے نمائندہ ڈاکٹر جبار خٹک, پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) سے مظہر عباس, سندھ ھیومن رائٹس کمیشن کے نمائندہ ڈاکٹر توصیف احمد خان, آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے نمائندہ قاضی اسد عابد, آل پاکستان نیوزپیپر امپلائیز کنفیڈریشن (اے پی این ای سی) کے نمائندہ عبیداللہ خان, محمکہ قانون سے ایڈیشنل سیکریٹری اسداللہ بھٹی, محکمہ انسانی حقوق سے ڈپٹی سیکریٹری نظیر احمد خاصخیلی اور کمیشن کے سیکریٹری سعید میمن نے شرکت کی. اجلاس میں سندھ صوبے میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل اور بالخصوص سکھر ڈویزن کے صحافی نصراللہ گڈانی, جان محمد مہر اور حیدر مستوئی اور خیرپور کے صحافی اللہ ڈنو (اے ڈی)شر کے کیسز سمیت مختلف ایجنڈاز پر گفتگو کی گئی. کمیشن نے اپنی پچھلے اجلاس میں سکھر پولیس کی طرف سے جان محمد مہر اور حیدر مستوئی کے کیسز کی رپورٹ غیرتسلی بخش قرار دیا تھا اور کمیشن کی طرف سے آئی جی سندھ پولیس کو خط لکھا گیا تھا کہ ان کیسز کی بریفنگ دینے کے لیے سکھر ڈویزن کے کسی نمائندہ پولیس افسر کو آئندہ کمیشن اجلاس میں نامزد کیا جائے, تاہم آئی جی سندھ پولیس کی طرف سے کوئی نمائندہ پیش نہیں ہوا, جس پر کمیشن نے تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ کمیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا سندھ پولیس سمیت ہر ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے. کمیشن نے فیصلہ کیا کہ سندھ پولیس اور محکمہ داخلہ سے بہتر روابط کے لیے ان دونوں محکموں کی طرف سے ایک ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے. اس کے علاوہ کمیشن اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام میڈیا مالکان کو دوبارہ خط لکھ کر یہ باور کرایا جائے گا کہ سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس ایکٹ 2021 کے آرٹیکل 15 کے تحت تمام میڈیا مالکان اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے صحافیوں کی نہ صرف انشورنس کروائیں گے بلکہ ان کو سیفٹی ٹریننگس بھی کروائینگے جس کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے تاکہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون پر عمدرآمد ہوسکے. کمیشن ممبران نے سالانہ رپورٹ کا بھی لیا اور اس میں مزید بہتری کے لیے تجاویز دیں.کمیشن ممبران نے سندھ آرکائیوز میں زیر تعمیر کمیشن آفس کا دورہ کیا اور چیئرمین اور سیکریٹری کی طرف سے کمیشن کے آفیس کی تعمیرات کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا.























