ریاستی چالاکیوں کے سامنے قومی سچائی

یاسمین چانڈیو

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم پرامن انداز میں اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی ہے، تو حکمران طبقے اُس جدوجہد کو بدنام کرنے، تقسیم کرنے اور دبانے کے لیے منظم سازشوں کا جال بُنتے ہیں۔ ایسے مناظر آج فلسطین، کشمیر، کردستان، بلوچستان، اور اب سندھ جیسے خطوں میں واضح نظر آتے ہیں۔
سندھ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران وسائل پر قبضے کی منصوبہ بندی صاف دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2008 سے 2023 کے درمیان سندھ کی تقریباً 2.3 لاکھ ایکڑ زرعی زمین غیر مقامی کمپنیوں یا وفاقی اداروں کے قبضے میں چلی گئی۔ اس عمل کو “زرعی ترقی”، “ایگرو بزنس”، یا “کارپوریٹ فارمنگ” جیسے خوشنما نعروں سے جوڑ کر، مقامی لوگوں سے ان کی زمین چھین لی گئی۔
یہ قبضہ صرف زمین تک محدود نہیں رہا۔ دریائی پانی کی تقسیم میں بھی وفاقی سطح پر ناانصافی کی گئی۔ سروے کے مطابق سندھ کو پانی کی تقسیم میں 35 فیصد کم حصہ ملتا ہے، جب کہ “چاچڑاں کینال” اور “اَکی کینال” جیسے نئے منصوبے بغیر عوامی مشاورت کے منظور کیے گئے، جو قومی وسائل پر قبضے کی علامت بن چکے ہیں۔
جب سندھ کے عوام نے ان ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی، تو سازشوں کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا: قومی تحریکوں کو بدنام کرنے کا۔ تحریکوں کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے، ان کی کردار کشی سوشل میڈیا پر کی گئی، اور ان کی جدوجہد کو “غیر قانونی سرگرمی”، “وفاق مخالف تحریک”، یا “دہشت گردی کی فنڈنگ” جیسے الزامات سے جوڑا گیا تاکہ اس کی اخلاقی و سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جا سکے۔
میڈیا ہاؤسز کو دھمکیاں دی گئیں، بلیک آؤٹ کیا گیا، اور قومی تحاریک کے بارے میں جعلی خبریں چلانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مثلاً مورو میں ایک پرامن مظاہرے پر پولیس کی سیدھی فائرنگ سے چار قومی کارکن شہید ہوئے، لیکن اردو میڈیا خاموش رہا، اور اس واقعے کو صرف “ناخوشگوار لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال” قرار دے کر چھپانے کی کوشش کی گئی۔
ساتھ ہی، حکمرانوں نے تحریک کے اندر اختلاف پیدا کرنے کے لیے نئی شخصیات کو سامنے لانا، رہنماؤں میں مقابلہ کروانا، اور فنڈنگ کے شکوک و شبہات پیدا کرنے جیسے ہتھکنڈے اختیار کیے۔ پرامن مزاحمت کو اتنا دبایا گیا کہ کئی مواقع پر کارکنان کو تشدد کی طرف دھکیلا گیا، اور پھر اس ردعمل کو “تشدد پسند قوم پرستی” کا نام دیا گیا—ایک ایسا الزام جو خود ریاستی تشدد کے نتیجے میں جنم لیتا ہے۔
یہ منظم سازش صرف تحریک کو ختم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ وسائل پر مکمل قبضے، ثقافتی شناخت کے مٹاؤ، اور قومی شعور کو دبانے کے لیے ہے۔ ایسی صورتحال میں سندھی تحریک کا پرامن رہنا ایک اخلاقی فتح ہے، جو عالمی سطح پر ایک مثال بن سکتی ہے۔ لیکن اس فتح کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سازشی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے۔
سندھ کی سرزمین سے جڑی قومی تحریکیں آج ایسے دور سے گزر رہی ہیں جہاں صرف حقوق کا سوال نہیں، بلکہ وجود کی حفاظت کی جدوجہد بھی شامل ہے۔ یہ تحاریک صرف اپنے دریاؤں، زمینوں اور وسائل کی ملکیت کے لیے آواز بلند نہیں کر رہیں، بلکہ دنیا بھر میں موجود ان تحریکوں کا حصہ بھی ہیں جو قوموں کی شناخت، خودمختاری، اور وسائل کے تحفظ کے لیے برسرپیکار ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے وسائل پر ملکیت کا حق مانگا، تو حکمرانوں نے اسے دبانے کے لیے یہی حربے استعمال کیے: بدنام کیا گیا، تقسیم کیا گیا، اور بالآخر تشدد سے مجبور کرکے اس تحریک کو بغاوت کا روپ دیا گیا۔ آج سندھ میں بھی یہی طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔
پرامن مظاہرے، جو زمین سے محبت کا اظہار ہیں، ان پر فائرنگ کروانا، کارکنوں پر جھوٹے مقدمے قائم کرنا، یہ سب ایک منظم سازش اور چالاکی کا حصہ ہے تاکہ عوامی تحاریک کی اخلاقی حیثیت کو کمزور کیا جائے۔ ان مظاہروں کو “امن کے لیے خطرہ” قرار دیا جاتا ہے۔ کارکنوں کو “غیر ذمہ دار عناصر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
جب تحریک زمین سے جڑی ہو، اور اس کا محور سچائی، اخلاقیات، اور عوامی جذبات سے جڑا ہو، تو پھر ایسی تحریک کو ختم کرنا صرف وقتی طور پر ممکن ہوتا ہے، دائمی طور پر نہیں۔
سندھ کی تحاریک کی خاص بات یہ ہے کہ وہ آج تک پرامن رہی ہیں۔ ظلم، بندوق، اور سازشوں کے باوجود ان کی مزاحمت پرامن ہے، اور اخلاقی طور پر بلند ترین مقام پر ہے۔ ان تحاریک کے سامنے صرف حکومتی پالیسیاں نہیں، بلکہ کارپوریٹ ایجنڈا، غیر مقامی آبادکاری، اور وسائل پر قبضے کی ایک منظم منصوبہ بندی ہے۔ جب لوگوں کی زراعت تباہ ہو جائے، زمینیں چھین لی جائیں، اور دریاؤں کا پانی موڑ دیا جائے، تو یہ محض سیاسی تحریک نہیں رہتی، بلکہ زندگی کی بقا کی جنگ بن جاتی ہے۔
اس سب کے باوجود، سندھ کا عوام صرف احتجاج نہیں کر رہا بلکہ اپنے سیاسی شعور کے ساتھ حکمرانوں کو للکار رہا ہے۔ عوام واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ پالیسیاں جن کا کوئی جمہوری مینڈیٹ نہیں، قانونی طور پر بھی درست نہیں ہو سکتیں۔ ریاستی اداروں، سرکاری حکمتِ عملیوں، اور بیرونی مفادات کے بیچ پسا ہوا سندھی آج سوال کر رہا ہے کہ زمین کی ملکیت کا حق کس کو ہے؟ کیا فیصلے وفاقی دفاتر میں ہوں گے، یا ان ہاتھوں میں جنہوں نے نسل در نسل اس سرزمین کو سنوارا اور سنبھالا ہے؟
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اگر حکمران طبقے عوام کی آواز نہ سنیں گے، اور اس کے بدلے تحریک کو بدنام کرنے، تقسیم کرنے، اور دبانے کی یہی ریاستی چالاکیاں جاری رکھیں گے، تو پھر یہ جدوجہد بغاوت میں بدل سکتی ہے۔ اور ایسی بغاوت کی تاریخی، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری صرف اسی حکمران طبقے پر عائد ہوگی، جو آج بھی اہلِ زمین سے بات کرنے کے بجائے بندوق اور بیانات کا سہارا لے رہا ہے۔
آج سندھ کے گھنے درختوں، خالی گھروں، اور کارکنوں کے خون سے صرف ایک آواز نکل رہی ہے:
“ہماری زمین، ہمارے وسائل، اور ہماری زندگی پر کوئی سودے بازی قابلِ قبول نہیں۔”
اس آواز کو دبانے سے پہلے، حکمرانوں کو سنجیدگی سے اسے سمجھنا ہوگا، اور زمین سے انصاف کرنا ہوگا۔
ورنہ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، اگر زمین کی پکار بغاوت میں بدل گئی، تو اس کی گونج ریاستوں کے دروازے کھٹکھٹائے گی، اور اقتدار کے محل لرزا دے گی۔