عبد المجید 2015 سے گمشدہ ہے۔ عدالتی حکم پر گمشدہ شہری کی تنخواہ جاری کی گئی۔ لاپتہ عبد المجید کی بیوی کو تنخواہ کی ادائیگی روک دی گئی

سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ تعلیم کے گمشدہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست پر سرکاری وکیل سے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرلیں۔ ہائیکورٹ میں محکمہ تعلیم کے گمشدہ ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا عبد المجید 2015 سے گمشدہ ہے۔ عدالتی حکم پر گمشدہ شہری کی تنخواہ جاری کی گئی۔ لاپتہ عبد المجید کی بیوی کو تنخواہ کی ادائیگی روک دی گئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ عبد المجید کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے تنخواہ بند ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے برس بعد گمشدہ شخص کو مردہ تصور کیا جاتا ہے؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ قانون شہادت کے مطابق 7 برس بعد گمشدہ شخص کو مردہ تصور کرلیا جاتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مطلوبہ وقت تو گزر گیا ہے، بیوہ کو پینشن جاری کردیں، کیا مسئلہ ہے؟ طریقہ کار کے مطابق دستاویزات مکمل کرکے عدالت نے مردہ قرار دینا ہوتا ہے؟ عدالت نے سرکاری وکیل سے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے درخواست کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
==================

سندھ ہائیکورٹ نے بیرون ملک سے ڈیپورٹ ہونے والے شخص پر سفری پابندیوں کیخلاف درخواست پر ڈی جی پاسپورٹ اور ڈائریکٹر امیگریشن کو نوٹس جاری کردیئے۔ ہائیکورٹ میں بیرون ملک سے ڈیپورٹ ہونے والے شخص پر سفری پابندیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار اللہ ڈنو کو کوویڈ کے دوران زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ وبا کے دوران ڈی پورٹ کئے جانے والے شہریوں کیخلاف ضابطے کے مطابق واپسی پر مقدمات درج نہیں کئے گئے۔ پاسپورٹ حکام نے درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا ہے۔ پاسپورٹ حکام کو ڈی پورٹ ہونے کی صورت میں سفری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے ڈی جی پاسپورٹ اور ڈائریکٹر امیگریشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
==================

سندھ ہائیکورٹ نے ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے قائم سینٹر غیر فعال ہونے اور سروے نا کرنے سے متعلق درخواست پر حکام کو ایک ماہ کے اندر سروے کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ میں ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے قائم سینٹر غیر فعال ہونے اور سروے نا کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 2020 میں ملک بھر میں ٹڈی دل نے تباہی مچا دی تھی۔ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد 200 آسامیوں کی منظوری دی گئی۔ ان میں 100 کے قریب افسران کو ٹڈی دل کے سروے، ان کی روک تھام کیلئے تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن 2021 کے بعد ان افسران نے ایک سروے تک نہیں کیا۔ ان افسران کو قاسم پورٹ، ایئرپورٹ و دیگر پورٹ پر تعینات کیا گیا۔ وہاں پر افسران ملک سے باہر جانے والی کھانے پینے کی اشیاء کی معیار چیک کرتے ہیں۔ ٹڈی دل کی روم تھام کیلئے ملک بھر میں 12 سینٹر قائم کیئے گئے۔ 8 بلوچستان میں، 2 سندھ اور 2 پنجاب میں ہیں۔ ٹڈی دل کیلئے بنایا گیا سینٹر غیر فعال ہیں۔ کنٹریکٹ پر تعینات افسران کی کے کنٹریکٹ پر توسیع پر توسیع کرتے جا رہے ہیں۔ عدالت نے حکام کو ایک ماہ کے اندر سروے کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
==================

سندھ ہائیکورٹ نے وفاق میں ارسا کے سندھ کے نمائندے کی تقرری نہ کرنے اور پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ کیخلاف درخواست پر 3 ہفتوں میں سندھ کا نمائندہ مقرر کرنے کا حکم دیدیا۔ ہائیکورٹ وفاق میں ارسا کے سندھ کے نمائندے کی تقرری نہ کرنے اور پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ نمائندہ ارسا نے بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت ارسا قانون میں ترمیم کے بعد سندھ سے ارسا کا وفاقی نمائندہ مقرر کرے گی۔ عدالت نے ریمارلس دیئے کہ ارسا قانون میں ترمیم کرتے ہوئے سندھ کے حقوق کا پورا خیال کیا جائے۔ جسٹس فیصل کمال عالم وفاقی حکومت عدالتی حکم کے باوجود سندھ سے ارسا کا رکن مقرر نہیں کیا۔ 3 ہفتوں میں سندھ سے ارسا کے لیے وفاقی نمائندہ مقرر کیا جائے۔ اگر وفاقی حکومت نے 3 ہفتوں میں ارسا کا نمائندہ تعینات نہ کیا تو اعلی افسران کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔ عدالت نے سماعت 25 جون تک ملتوی کردی۔