
خضدار حملے میں ” فتنہ الہندستان ” نامی گروہ حملے میں ملوث قرار پایا
خضدار میں بھارتی سرپرستی میں اسکول وین پر دہشتگرد حملہ کیا گیا۔، بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بےنقاب ہو چکا ہے، دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانے کا عزم۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کوئٹہ کا دورہ
خضدار حملے میں ” فتنہ الہندستان ” نامی گروہ حملے میں ملوث قرار پایا
اسلام آباد – وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانے کا عزم کیا، خضدار حملے میں ” فتنہ الہندستان ” نامی گروہ حملے میں ملوث قرار پایا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے زخمی بچوں کی عیادت اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی۔
وزیراعظم اور آرمی چیف نے حملے کو شرمناک اور انسانیت سوز قرار دیا۔ خضدار میں بھارتی سرپرستی میں اسکول وین پر دہشتگرد حملہ کیا گیا۔ حملے میں 3 بچے اور 2 سیکیورٹی اہلکار شہید، 53 افراد زخمی ہوئے۔ جن میں 39 بچے زخمی، 8 کی حالت تشویشناک ہے۔
حملے میں ” فتنہ الہندستان ” نامی گروہ حملے میں ملوث قرار پایا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف نے حملے کو شرمناک اور انسانیت سوز قرار دیا۔
بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانے کا عزم کیا گیا، قوم اور افواج دہشتگردی کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔ مزید برآں وزیردفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی ایل اے مکمل طور بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کررہی ہے ،بی ایل اے اور ٹی ٹی پی دونوں بھارت کی پراکسیز ہیں ، ہندوستان ان کو پیسا دیتا ہے اور وہ یہاں خون ریزی کرتے ہیں، ہم خضدار واقعے پر جو بھی کہہ رہے ہیں اس کے ثبوت پیش کریں گے، اس سے زیادہ بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ بھارت چھوٹے بچوں کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیاکے سامنے رکھ سکتے ہیں، ہم جو کہہ رہے ہیں وہ ثابت کریں گے یہ کوئی خالی بات نہیں ہے۔ہم دہشتگردوں کو پوری طاقت کے ساتھ کچل دیں گے۔ مزید برآں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت سے جب بھی بات ہوگی تو پانی اور دہشتگردی سمیت 4 معاملات پر ہوگی، جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ فوج کا نہیں حکومت کا ہے۔
انہوں نے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت زمانہ امن کی پوزیشن پر واپس آ رہے ہیں، جنگ میں کسی کی جیت ہوتی ہے اور کسی کی ہار ہوتی ہے، جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ دیرپا امن ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ جنگ میں اسرائیل نے بھارت کی بہت زیادہ مدد کی، بھارت نے سری نگر اور دیگر مقامات پر اسرائیلی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
=======================
بلوچستان میں اسکول بس پر بمبار حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے-ایس ایف جے
اظہر جاوید
لندن-بلوچستان میں اسکول بس پر بمبار حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے-ایس ایف جے نے مودی حکومت کو پاکستان میں بچوں کو نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا
سکھس فار جسٹس (SFJ) نے اسکول کے معصوم بچوں کو ہلاک کرنے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ”بلوچستان میں پاکستان آرمی اسکول کی بس پر بے رحمانہ بمبار حملہ ہندوستان کی مودی حکومت کے تمام نشانات کو ظاہر کرتی ہے۔”
سکھس فار جسٹس SFJ کے قانونی مشیر، گروپتون سنگھ پنن نے اعلان کی :
“انڈیا کا ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) پاکستان بھر میں بین الاقوامی دہشت گردی کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی پراکسیز کو مسلح اور مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اس حملے سے متعلق شواہد براہ راست اس “گندی جنگ ” کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مودی دہشت گردی کی خفیہ کارروائیوں کے ذریعے چھیڑ رہا ہے۔”
پنون نے مزید نکتہ اٹھاتے ہوئی کہا کہ “اگر ہندوتوا کی دہشت گردی ایودھیا میں پیدا ہوئی اور ناگپور میں پروان چڑھی، تو کیا یہ بھارتی شہر پاکستان کی طرف سے حملے کے لیے” جائز اہداف ” قرار پاتے ہیں؟ ایودھیا اب صرف ایک مندر کا منصوبہ نہیں ہے – یہ بنیاد پرست ہندوتوا نظریے کی افزائش گاہ ہے جو ہندوستان کی سرحدوں سے باہر تشدد اور دہشت گردی کو برآمد کرتا ہے۔”
پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت پر زور دیتے ہوئے پنون نے مزید کہا:
“ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ہم ہندوستانی افواج کو پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے پنجاب کو لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”
ایس ایف جے نے متاثرین کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا:
“ہم اس بزدلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے اسکولی بچوں کے خاندانوں کے دکھ میں شریک ہیں اور ان ساتھ غمزدہ ہیں۔ پاکستان میں کوئی بچہ مودی کے ہندوتوا دہشت گردی کے جنون کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔”























