
کراچی میں لوڈشیڈنگ کا بحران: ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے الیکٹرک کے خلاف اکٹھے، پی پی پی کی خاموش حمایت پر تنقید
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے شہریوں پر موسم گرما میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط ہوچکا ہے، جس کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوگئے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کے الیکٹرک (KE) کے انتظامیہ کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
“کے الیکٹرک نے اہل کراچی پر لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل کردیا ہے”
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید امین الحق نے کہا ہے کہ “کے الیکٹرک نے موسم گرما میں اہل کراچی پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب نازل کردیا ہے۔ کے الیکٹرک کی انتظامی نااہلی پر وزراء کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں 8 گھنٹے سے 12 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، جس نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ اور حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھروں میں پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حکمرانوں نے کراچی کے شہریوں کیلئے بنیادی ضرورت کو بھی نایاب ترین شے بناکر رکھ دیا ہے۔”
“کراچی میں اعلانیہ کے ساتھ جبری لوڈشیڈنگ بھی کی جارہی ہے”
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بھی کراچی میں بجلی کے بحران پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “کراچی میں اعلانیہ کے ساتھ جبری لوڈشیڈنگ بھی کی جارہی ہے۔ 17 سال سے شہر کو ایک قطرہ بھی اضافی پانی نہیں دیا گیا۔ 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، مگر حکومت 17 سالوں میں صرف 400 بسیں لا سکی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “بجلی کی ترسیل کا نظام ایک پرائیویٹ کمپنی کے پاس ہے، آج بھی شہر میں 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ کراچی کے تمام ارکان اسمبلی کے ہر حلقے میں لوڈشیڈنگ ہے۔ لوگ اپنے عوامی نمائندوں سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں۔”
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی قرارداد مسترد، پی پی پی نے کے الیکٹرک کا ساتھ دیا
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے کے الیکٹرک کے خلاف ایک قرارداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ “کے الیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف عدالتی کمیشن بنایا جائے۔” تاہم، پی پی پی کی حکومت نے اس قرارداد کو مسترد کردیا۔ پارلیمانی سکریٹری ہیر سوہو نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ “اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ہی ایک کمیٹی موجود ہے۔” جبکہ جماعت اسلامی کی قرارداد، جس میں حکومتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تھا، کو بھی رد کردیا گیا۔
پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا مشترکہ احتجاج، پی پی پی پر الزامات
پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ “پی پی پی کی حکومت کے الیکٹرک کے ساتھ ملی بھگت کررہی ہے اور شہریوں کے مسائل کو نظرانداز کررہی ہے۔” ان کا کہنا ہے کہ “کراچی کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے، جبکہ حکومت نجی کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔”
نتیجہ: شہریوں کا صبر ختم ہورہا ہے
کراچی کے عوام طویل لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت اور حکومتی لاپروہی سے تنگ آچکے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد اس بحران پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے، لیکن پی پی پی کی حکومت کے رویے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف کوئی سخت اقدامات لینے کو تیار نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا شہریوں کی آواز سنی جائے گی یا ان پر لوڈشیڈنگ کا عذاب جاری رہے گا۔























