جنگ کی گھڑی میں LOC کے پیچھے کی کہانی | مجاہد بریلوی کی زبانی وہ مناظر جو انہوں نے دیکھے

جنگ کی گھڑی میں LOC کے پیچھے کی کہانی | مجاہد بریلوی کی زبانی وہ مناظر جو انہوں نے دیکھے

السلام علیکم!

آج ہم آپ کے لیے ایک ایسی کہانی لے کر آئے ہیں جو نہ صرف حوصلہ بڑھاتی ہے بلکہ صحافت کے شعبے میں جرأت اور ایمانداری کی ایک زندہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی ہے “جنگ کی گھڑی میں LOC کے پیچھے”، جسے مشہور اینکر مجاہد بریلوی نے GTV پوڈکاسٹ پر اشتراک کیا۔

وہ واحد اینکر جو LOC پر موجود تھا
جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھا تو مجاہد بریلوی واحد اینکر تھے جو لائن آف کنٹرول (LOC) پر براہِ راست رپورٹنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے وہاں کے تناؤ، خوف اور جذبے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دنیا کے سامنے پیش کیا۔

“جب موڈی نے دھمکی دی، ہم سب کو لگا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے”
مجاہد بریلوی نے بتایا کہ جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جارحانہ بیان دیا، تو سب کو اندازہ ہو گیا کہ کشمیر میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہم نے دیکھا کہ کابل تک جانے والے راستے پر کیا ہو رہا ہے۔ سرینگر تک کے حالات دیکھے۔ وہاں سے میزائل بھی داغے جا سکتے ہیں۔”

زندہ رپورٹنگ کے خطرناک لمحات
مجاہد صاحب نے دریائے نیلم کے کنارے سے براہِ راست رپورٹنگ کی، جہاں بھارتی فوج کی گولہ باری جاری تھی۔ ان کے کیمرے کے سامنے ہی میزائل گرے، لیکن وہ اپنی ڈیوٹی پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے بتایا:
“سیکورٹی افسران نے مجھے خبردار کیا کہ ‘آپ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے’، لیکن میں نے کہا کہ اگر آپ اپنا فرض نبھا رہے ہیں تو میں بھی اپنا کام کروں گا۔”

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا غیر متوقع دورہ
سب سے حیرت انگیز لمحہ تب آیا جب آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اچانک رپورٹنگ کے دوران LOC پر پہنچ گئے۔ بغیر کسی سیکورٹی یا پروٹوکول کے، انہوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ مجاہد صاحب نے کہا:
“یہ پیغام تھا کہ ان کا لیڈر ان کے ساتھ ہے۔ یہ منظر پورے کشمیر اور دنیا کے لیے ایک پیغام تھا۔”

کشمیری عوام کا جذبہ
جنگ کے باوجود، کشمیری عوام نے اپنی روایتی مہمان نوازی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ مجاہد صاحب نے ایک واقعہ بتایا:
“میں ایک پھل والے کی دکان کے پاس کھڑا تھا کہ کچھ خواتین گزریں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے ‘بائے بائے’ کہا۔ یہ ان کا جذبہ تھا جو ہر خوف پر غالب تھا۔”

صحافت کا حقیقی کردار
مجاہد بریلوی نے زور دے کر کہا کہ “ایک صحافی کا کام صرف واقعات بیان کرنا نہیں، بلکہ مستقبل کو بھی بھانپنا ہوتا ہے۔” ان کی یہ رپورٹنگ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھی گئی اور اس نے صحافت کے معیار کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا۔

آج کی یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی ہیرو وہ ہوتے ہیں جو خطرے کے لمحات میں بھی اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ مجاہد بریلوی اور ان کی ٹیم کی بہادری کو ہم سلام پیش کرتے ہیں!

اللہ حافظ!

(یہ کہانی GTV پوڈکاسٹ پر مجاہد بریلوی کے انٹرویو پر مبنی ہے۔ مکمل انٹرویو دیکھنے کے لیے لنک پر جائیں: Behind The Scenes at LOC During War | Mujahid Barelvi Reveals What He Witnessed | GTV Podcast)