
18، مئی 2025 جنگ کراچی
ابھی کل کی بات ہے, 2024 کے امتحانات میں دھاندلی، جان بوجھ کر فیل کرنے اور پاس ہونے والوں کے نتائج میں بہت زیادہ کمی کرنے پر کراچی کے طلباء سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے تو بورڈ نے ایک احمقانہ حل طے کرتے ہوئے 20 نمبر اضافی دینے کا فیصلہ دیا تھا جو کسی بھی صورت میں حق دار کی داد رسی کے لیے نا کافی تھا۔
آج انہی متنازع جوابی کاپیوں کو ردی میں بیچنے کا اشتہار آیا ہے۔

عام طور پر سرکاری ریکارڈ تین سال یا اہمیت کے اعتبار سے زیادہ مدت کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے، لیکن یہ تو اپنی اہمیت کے لحاظ سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنا تھا اور چیئرمین بورڈ اور ناظم امتحانات کے دور میں فارنسک آڈٹ سے گزارا جانا چاہیے تھا۔
اتنی جلدی ٹھکانے لگانے کی کوشش پر شکوک وشبہات مزید مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔
طلباء اور ان کے متعلقین کو اس سلسلے میں اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔























