
کراچی (آغاخالد)
علی شیخ میرے دوست فرزند کا ہونہار فنکار بیٹاہے وہ مختلف ڈراموں میں چھوٹے موٹے رول کرکے اپنے شوق کی تکمیل کرتاہے روح کی تازگی کے لیے امنگوں کے تار چھیڑنے سے زندگی کو توانائی فراہم ہوتی ہے جبکہ اس کا مستقل روزگار سلائی کڑھائی کاہے وہ بہترین درزی ہے اور اپنے گاہکوں کی سنگم تراشی اتنے ڈھنگ سے کرتاہے کہ اس کے گاہک عش عش کر اٹھتے ہیں محبت سے لبریز خلوص کا پیکر سادہ لوح یہ نوجواں آج کل کی مادی دنیا میں نعمت خداوندی ہے، مجھے فخر محسوس ہوا اس سے مل کر اپنے دوست فرزند علی پر جسے اللہ نے ایسی فرماں بردار اولاد سے نوازا ہے اور میں دکھی ہوگیا اس کے حالات سے آگاہی پر کہ ایک بڑے چینل نے اس کے 25 ہزار دبائے ہوے ہیں جو ایک ڈرامے میں کام کرنے کا معاوضہ تھا سالوں سے ٹال مٹول سے اسے ٹرخایا جارہاہے یہ فرزند علی کا بیٹاہے وہ فرزند جس نے میرے انتہائی مشکل دنوں میں میرا ساتھ دیا، ہوا کچھ یوں کہ 2007 میں مجھے جگر کا عارضہ (سروسز) ہوگیا تھا پورا جسم سوج گیا اور اس میں بقول ڈاکٹرز کے پانی بھر گیا تھا میں چلنے پھرنے سے
بھی قاصر تھا اور بچے ابھی چھوٹے تھے ڈیفنس ویو میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھا ڈاکٹرز نے جواب دیدیا تھا اور ان کی پیشن گوئی کے مطابق میں 2 ماہ کا مہمان تھا اور بس، جینے کی واحد امید جگر کی پیوند کاری تھی ایسے میں ایک فرشتہ صفت حکیم مل گئے جن کی دوائی سے میں دوبارہ نارمل حالت میں آگیا حکیم صاحب کی شرط تھی کہ دوائی کے ساتھ اونٹنی کا دودھ پیئں جس کے لیے موچکو میں رہائش پذیر فرزند علی نے بندو بست کیا اور ایک سال تک کسی نہ کسی طرح اونٹنی کا دودھ کراچی پریس کلب تک پہنچاتے رہے جہاں سے میں وصول کرکے پیتا رہا میری نئی زندگی میں ان کا بھی حصہ ہے ایسے محسن دوست کو کیسے بھول سکتا ہوں اب اسی فرزند کا بیٹا میرا دروازہ کھٹ کھٹا رہاہے، میں سوچوں میں گم تھا کہ ایک متوسط علاقے میں درزی کا کام کرنے والے فنکار کی کیا آمدنی ہوگی وہ بڑی امید لگا کر مجھ تک پہنچا اور امید بھری نظروں سے بولا، انکل مجھے یہ پیسے دلوادیں عید آرہی ہے ان پیسوں سے قربانی ہی کرلیں گے، یہ کیسے خود پرست لوگ ہیں ہمارے میڈیا مالکان جو چھوٹے ملازمین یا ان کے ادارہ سے وابستہ لوگوں کی کس طرح بوٹیاں نچوڑتے ہیں اللہ اکبر۔۔۔رب انہیں ہدایت دے (آمین)























