
سچ تو یہ ہے،
وینکوور، شیشے اور پانیوں کا شہر،
بشیر سدوزئی،
برنابی ماؤنٹین پارک سے ہم وینکوور کے لیے روانہ ہوئے تو دن کا ایک بج چکا تھا۔ انا کو بچوں کے کھانے کی زیادہ فکر تھی اس سے ہمارا کام بھی آسان ہو گیا۔ بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ سفر مت کرو میری رائے ہے کہ اگر انا جیسی خاتون ساتھ ہو تو دو کے بجائے تین بچے بھی ہوں تو آپ سفری دشواری سے مبرا ہوں گے ۔ وقت پر کھانا اور وقت پر سونے کی پابندی تو ہو گی، یہ بھی غنیمت ہے ورنہ معلوم نہیں آوارہ گردگی میں بند کب سوئے اور کب جاگے۔ انا کی وجہ سے ہمیں بھی کافی سہولت ہوئی بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کی اور بچوں کی سہولتوں میں ہماری بھی بھر پور شمولیت رہی۔ وینکوور میں داخل ہونے سے قبل دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا جائے اس کے لیے سب وے کا انتخاب ہوا، اور آدھے گھنٹے میں اس سارے کام سے نمٹ کر وینکوور شہر میں داخل ہوئے۔ کینیڈا کے دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی ٹریفک کا نظام منظم ہے۔ صفائی ستھرائی پر اب کیا بات کریں دنیا کا دوسرا بڑا ملک کس قدر صاف و شفاف ہے یہ تعجب کی بات ہے۔ کینیڈا اس کچرے سے کیا کام لیتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا، چار کروڑ افراد آخر کچھ تو کچرا پیدا کرتے ہوں گے۔ کینیڈا میں کچرا کیا آنکھ کا تنکا بھی نہیں ملتا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہاں یہ محاورے کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ کینیڈا میں ہوائیں تیز جلتی ہے لیکن ان کے ساتھ نی مٹی ہے نہ تنکے اس لیے کبھی آنکھیں زخمی ہوئی نہ آنکھوں میں تنکے داخل ہونے کا کوئی خطرہ ہے۔ ہم وینکوور میں بھی ان خطرات سے محفوظ رہے۔ بے شک وینکوور دنیا کے خوب صورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن جو چیز اسے منفرد بناتی ہے وہ شیشے کی جدید عمارتیں ہیں۔ ٹورانٹو کے ڈاؤن ٹاون میں بھی عمارتوں پر شیشہ استعمال کیا گیا ہے، لیکن وینکوور کے ڈاؤن ٹاون کی شیشے کی عمارتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں اور ان پر پڑھنے والی سورج کی کرنیں جب پلٹتی ہیں تو اطراف کے پہاڑوں اور بحرالکاہل کے پانیوں کو بھی چمکا دیتی ہیں۔ اسی باعث وینکوور کو “شیشے کا شہر” کہا جاتا ہے۔ بلند و بالا رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں شفاف نیلے اور سبز رنگ کے شیشے کا استعمال عام ہے، جو نہ صرف یہ شیشے اس شہر کو جدید اور سجیلا روپ دیتے ہیں بلکہ اردگرد کے قدرتی مناظر جیسے پہاڑ، سمندر اور درختوں کی خوبصورتی کو بھی عمارتوں کے شیشے عکس بند کرتے ہیں۔ یہاں ہر عمارت ایک آئینہ ہے جو نہ صرف روشنی کو منعکس کرتا ہے، بلکہ شہر کی روح کو بھی اور کینیڈا کے عکس کو بھی نمایاں کرتا ہے ۔ ڈاؤن ٹاون میں ہم نے کچھ دیر رک کر ماحول کا جائزہ لیا، یہ دیر منٹوں پر مشتمل تھی یا گھنٹوں پر لیکن تشنگی باقی ہی رہی۔۔ بڑی عمارتوں کے زمین فلور پر ریسٹورنٹ کے باہر رکھی کرساں اور ٹیبل اس کرینہ سے سجائے گئے تھے کہ پیٹ بھرے کو بھی
کچھ لقمہ اور کچھ چسکی کی دعوت دیتے ہیں۔ بہت ہی زبردست دلکش ماحول سے جلد الودعہ ہونا ہمت والے کا کام ہے۔ احمر بشیر خان چوں کہ کیڈٹ رہا ہے۔ ہر کام سلیقہ شعاری اور وقت پر کرنے کی اتنی عادت پڑی ہے کہ کینیڈا نے اس کی عادت کو اور پختہ کر لیا۔ حالاں کہ بہو رانی انا کی تو یہی خواہش رہتی کہ ابو کی خواہش پر سرتسلیم خم کر دیا جائے، مگر ہو کیسے۔ “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ” یہاں احمر بشیر خان کی مینجمنٹ ہی درست تھی ہماری خواہش پر سر تسلیم خم کرنے کا مقصد کہ سب کچھ چھوڑ کر برٹش کولمبیا میں ہی رکا جائے اور اس میں بھی وینکوور کے ڈاؤن ٹاون میں، سچ تو یہی ہے کہ میں نے اس سے قبل جو بھی علاقے دیکھے وہ برٹش کولمبیا سے کم ہی خوب صورت تھے اور وینکوور شہروں میں سب سے زیادہ پرلطف اور پرسکون، ڈاؤن ٹاون ہو یا بحرالکاہل کا ساحل یا کوئی بھی دوسری جگہ اس کی تعریف لکھنے میں کم از کم میں تو انصاف نہیں کر سکتا۔ ہماری بکنگ پہلے سے وسلر میں نہ ہوتی تو رات وینکوور کے اسی ڈاؤن ٹاون میں گزاری جاتی۔ بحرالکاہل کے ساحل پر چہل قدمی کی جاتی جو وینکوور کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ وینکوور، قدرتی حسن، جدید طرزِ زندگی اور کثیرالثقافتی ہم آہنگی کے لیے مشہور ہے۔ بحر الکاہل کے نیلے پانیوں کے کنارے اور برف پوش پہاڑوں کے دامن میں آباد یہ شہر نہ صرف اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ یہاں کا معیارِ زندگی، صفائی، اور ماحول دوست طرزِ تعمیر بھی دنیا بھر میں مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ وینکوور میں ایک ہی دن میں سمندر کنارے چہل قدمی بھی کر سکتے ہیں، برف پر اسکیئنگ کا لطف بھی لے سکتے ہیں اور گھنے جنگلات کی سیر بھی کر سکتے ہیں۔ شہر کا “سٹینلے پارک” دنیا کے بہترین شہری پارکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سیاح اور مقامی افراد سکون اور فطرت سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ یہ شہر ثقافتوں کا سنگم ہے۔ ایشیائی، یورپی، افریقی اور لاطینی امریکی پس منظر رکھنے والے افراد یہاں امن و آشتی سے رہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وینکوور میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، مختلف کھانے پکائے جاتے ہیں اور ہر تہوار جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی وینکوور دنیا کے نمایاں شہروں میں شامل ہے۔ شہر کی پالیسیوں میں پائیدار ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، چاہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ہو،
سبز عمارتوں کا فروغ یا شہری باغات کی ترویج۔ میری معلومات کے مطابق اگرچہ یہاں رہائش کے اخراجات بلند ہیں جو عام افراد کو متاثر کرتے ہیں، لیکن زندگی کا معیار، صحت کی سہولیات، تعلیم کا نظام اور عمومی تحفظ ان نقصانات کی تلافی کر دیتے ہیں۔ وینکوور نہ صرف ایک سیاحتی جنت ہے بلکہ ایک ایسا خوابوں کا شہر ہے جو ہر شخص کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ ہم بادل نخواستہ ڈاؤن ٹاون سے باہر نکلے تو وینکوور کے ایک اور سحر میں گرفتار ہو گئے۔ یہ وینکوور کا اسٹینلی پارک۔ کوئی شہری ترقی اور فطری خوب صورتی کا ملاپ تلاش کرنا چاہیے تو اسے وینکوور کا اسٹینلی پارک کے کنارے پر رکھے لکڑے کے خوب صورت بنچوں پر کچھ دیر بیٹھنا چائیے، یا ساحل پر ہی سائیکل کے لیے علیحدہ سے بنائے گئے ٹریک پر سائیکلنگ کا شوق پورا کیا جائے۔ ورنہ پیدل چلنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ میں نے ایسا ہی کیا اور جیسے ہی اسٹینلی پارک کے کونے پر پہنچے ایسے لگا کسی نئی دنیا میں داخل ہو گئے۔ احمر بشیر کو تھوڑی دیر گاڑی روکنے کو کہا اور واپس گاڑی تک جانا اب ہم پر تھا کہ کتنا وقت لیتا ہوں۔تاہم خدیجہ بی بی کا بھی یہاں ساتھ مل کیا جس نے بابا سے مطالبہ کیا کہ مجھے یہاں رکھنا ہے۔ جب باپ بھی اور بیٹی بھی شوق پورا کرنے بحرالکاہل کے ساحل پر اتر گئے تو احمر بشیر کی مینجمنٹ کیا کام کرتی۔ یہ پارک صرف ایک سبزہ زار نہیں، بلکہ تہذیبی ورثے، قدرتی حیات، اور انسانی ہم آہنگی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ سوا سو سال سے بھی زائد عرصے سے یہ پارک قائم و دام ہے مگر اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ فرسٹ نیشنز، نے یہاں طویل عرصہ قیام کیا۔ ان کی موجودگی آج بھی پارک میں جگہ جگہ محسوس کی جا سکتی ہے — ٹوٹم پولز، مقامی داستانوں کے بورڈز، اور مقامی رہنماؤں کی زبانی روایات میں۔ پارک کا سب سے مشہور پہلو “سی وال” ہے، جو تقریباً 9 کلومیٹر طویل ساحلی راستہ ہے۔ یہ راستہ نہ صرف جسمانی صحت کے لیے موزوں ہے بلکہ روح کو بھی تروتازہ کر دیتا ہے۔ سائیکل چلاتے ہوئے یا پیدل چلتے ہوئے ایک طرف سبز جنگلات اور دوسری طرف نیلے پانیوں کا منظر آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنچ بھی نصب ہیں ہم نے کافی دیر ان بنچوں پر بیٹھ کر ہر طرف کا نظارہ کیا۔ وینکوور ایکویریم بھی اسی پارک میں واقع ہے،۔ یہاں سمندری حیات کو قریب سے دیکھنا کا موقع بھی ملتا ہے

اسی مقام پر کیپی لانو دریا بحرالکاہل میں گرتا ہے جس پر معلق پل ہے۔ یہ پل اب عالمی سیاحت کا حصہ بن چکا۔ ہر سال 12 لاکھ سیاحت اس پل کو دیکھنے آتے ہیں 450 فٹ لمبا اور 70 فٹ چوڑے رسے کے اس پل سے گاڑیاں دوڑتی رہتی ہیں اور یہ جولتا رہتا ہے۔ ہماری گاڑی بھی اس پل پر سے گزری۔ اس پل کی طویل تاریخ ہے جو یہاں کی مقامی فرسٹ نیشنز کی ملکت اور حاکمت کی یاد دلاتا ہے پہلی مرتبہ یہ پل1889ء میں دیودار کی لکڑی کو رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا۔ 1903ء میں وائر کیبلز سے مضبوط کیا گیا۔ 1956ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ فرسٹ نیشنز کا کیپی لانو کے ساتھ ایک روحانی تعلق رہا۔ کیپی لانو سسپنشن برج نہ صرف ایک انجینئرنگ کا شاہکار ہے بلکہ یہ قدرتی حسن، مقامی ثقافت اور ایڈونچر کا مرکز بھی ہے۔ اگر آپ وینکوور کا سفر کر رہے ہیں تو یہ مقام ضرور دیکھیں، جہاں آپ کو ایک یادگار تجربہ حاصل ہوگا۔ وینکوور کو خدا حافظ کہنے کو ہر گز دل نہیں کرتا۔ یہ شہر کتنا خوب صورت ہے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جو میں لکھ سکھوں۔ لیکن ہمیں آگئیں جانا ہے اور دل پر پتھر رکھ کر وینکوور کو چھوڑنے کا ارادہ کیا ساحل سے اوپر چڑھے اور ایک پہاڑی سے موڑ کاٹ کر ہائی وے میں شامل ہوئے اور سیدھے کیپی لانو سسپنشن برج پر پہنچے وہاں سے نکل کر ہم تیزی سے 99 ہائے وے کی طرف بڑھنے لگے جس پر سفر کرتے ہوئے آگئے دوسری ہائی وے پر جائیں گے اور تین دن بود البٹا کے شہر کلگری پہنچیں گے۔























