سموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، طلبہ بھی میدان میں


لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں سموگ اور فضائی آلودگی کے تدارک کے لیے اب طلبہ و طالبات بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت ہر طالب علم کو انوائرمنٹ ایمبیسڈر بنانے کی جانب گامزن ہے۔
محکمہ جنگلات نے پنجاب کے تعلیمی اداروں کو 10 لاکھ سے زائد معیاری پودے مفت فراہم کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، نصاب میں ماحول کے تحفظ، جنگلات و جنگلی حیات، اور نیچرل ایکوسسٹم کی حفاظت و بحالی کے لیے خصوصی اسباق شامل کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں شجرکاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آگاہی کے سیشنز اور سیمینارز کا بھی کامیاب انعقاد کیا جا رہا ہے۔
سینئر وزیر ماحولیات مریم اورنگزیب کی نگرانی میں محکمہ جنگلات کا شفاف اور ہدفی شجرکاری منصوبہ جاری ہے۔ ہر ضلع میں شجرکاری کے لیے مقرر کردہ اہداف کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور کارکردگی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت کی ماحول دوست پالیسی کے تحت تمام سرکاری اداروں میں شجرکاری کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
شجرکاری مہم کے تحت عوامی مقامات، گرین بیلٹس اور سکول گراؤنڈز میں وسیع پیمانے پر پودے لگائے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں ہریالی میں اضافہ ہو۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ “سرسبز پنجاب صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ہماری پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ شجرکاری میں طلبہ کی شمولیت ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم اور عملی قدم ہے۔”
انہوں نے سکولوں، کالجوں اور جامعات میں رضاکارانہ شجرکاری سرگرمیوں میں طلبہ کے بڑھتے ہوئے جذبے کو قابل تحسین قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بہتری کے لیے طلبہ، اساتذہ، کمیونٹی اور نئی نسل کو شراکت دار بنانا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ درختوں کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ یہ قومی اثاثہ ہیں۔ مریم اورنگزیب نے والدین اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ ہر بچے سے اپنے حصے کا پودا لگوا کر اس کی دیکھ بھال کی تربیت دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں شجرکاری مہم کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے۔
===================

وزیراعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم نے پانی کے منصوبے کا اربوں روپے کا معاہدہ منسوخ کر دیا
راولپنڈی: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی انسپکشن ٹیم نے پانی کے منصوبے کا اربوں روپے کا چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔

پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی نے چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے پر سوالات اٹھا دیے جبکہ واسا ذرائع کا کہنا ہے کہ چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبہ مکمل طور پر ایشین ڈیویلپمنٹ بینک فنڈڈ منصوبہ ہے، منصوبے کیلئے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے 35 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔

واسا ذرائع کا کہنا ہے کہ چہان ڈیم کے منصوبے کے معاہدے کا ٹینڈر دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چہان ڈیم واٹر سپلائی منصوبے کے 4 لاٹز پر کام ہو رہا ہے، لاٹ 2 اور 3 کا کنٹریکٹ غیر ملکی کمپنی کو 20 ارب 40 کروڑ روپے میں ایوارڈ کیا گیا تھا، 20 ارب 40کروڑ مالیت کا کنٹریکٹ ترکش کمپنی کو ایوارڈ کر دیا گیا تھا۔

چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بیرسٹر نبیل اعوان کی سربراہی میں معاہدے کا جائزہ لیا گیا، پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اجلاس کے بعد منصوبے کے 2 لاٹز کا معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔

پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے والوں کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب کارروائی کریں، غیر ملکی فنڈڈ

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے پراجیکٹ کا ہر3 ماہ بعد پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی میں جائزہ لیا جائے۔