
وفاقی وزراء، وزرائے مملکت کی تنخواہ ممبران قومی اسمبلی کے برابر ہوگی، صدر نے آرڈیننس جاری کر دیا
انکم ٹیکس آرڈننس ترمیم کے تحت عدالتوں، فورم یا اتھارٹی کے فیصلے کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ٹیکس ادائیگی فوری کی جائے گی.۔ فوٹو فائل
اسلام آباد: صدرمملکت وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں میں ترمیم اور ٹیکس قوانین میں ترمیم سمیت 4 آرڈیننس جاری کر دیے۔
صدر مملکت نے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں اور مراعات میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کر دیا جس کے مطابق وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہ رکن قومی اسمبلی کی تنخواہ کے برابر ہو گی۔
صدر مملکت نے ٹیکس لا ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس ترمیم کے تحت عدالتوں، فورم یا اتھارٹی کے فیصلے کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ٹیکس ادائیگی فوری کی جائے گی یا انکم ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے نوٹس اجرا کے بعد متعلقہ مدت میں ٹیکس ادائیگی کی جائے گی۔فیصلے کے بعد واجب الادا ٹیکس فوری یا انکم ٹیکس اتھارٹی کے نوٹس کے اندر وصول کیا جائے گا۔
بورڈ یا چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو افسر یا متعلقہ اہلکار کو کسی بھی شخص یا گروہ کی جگہ تعینات کرسکتا ہے تاکہ وہ اس کی پیداوار کی نگرانی، مال کی سپلائی، سروس کی فراہمی یا ایسے مال کی نگرانی کر سکے جو فروخت نہ ہو۔
فیڈرل ایکسائز ایکٹ ترمیم کے تحت جس مال پر ٹیکس اسٹمپ یا بار کوڈ لیبل نہ لگا ہو اسے ضبط کر لیا جائے گا، جعلی مال کی نگرانی کے لیے ایف بی آر کسی بھی وفاقی یا صوبائی ملازم کو ان لینڈ ریونیو افیسر یہ اختیارات دے دیگا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی زرعی تجارت اور فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا آرڈیننس بھی جاری کیا ہے۔
==========================
وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشیا کے وزیراعظم سے رابطہ، پہلگام واقعے کی تحقیقات کی پیشکش کو دہرایا
وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کو بغیر ثبوت پاکستان سے منسوب کرنے کو مسترد کرتے ہوئے پہلگام واقعے کی شفاف، معتبر اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کو دہرادیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا آج ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے رابطہ ہوا، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان تحقیقات میں ملائیشیا کی شمولیت کا خیر مقدم کرے گا، پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کی تمام صورتوں کی مذمت کی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان سنگین معاشی بحران سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، ایسے میں اس قسم کے تنازع میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ سے رابطہ ہوا، اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ کو خطے میں حالیہ پیشرفت اور بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات سے آگاہ کیا۔























