
یہ مناظر بہت افسوسناک ہیں کہ سخت گرمی کے موسم میں پیاسے کراچی کے لیے ٹوٹی ہوئی واٹر لائن کے مرمتی کام میں مشغول مزدوروں کے اپنے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں ان بیچاروں کے پاس وردی تو دور کی بات ہے ایسے کپڑے بھی نہیں ہیں جنہیں صحیح سلامت کہا جا سکے اپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں پائپ لائن ٹوٹی ہوئی ہے اور اس پر کام کرنے والے مزدور کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں یہ بالکل مئی کے مہینے کی تصویر ہے جب وہ ساری دنیا نے


محنت کش و مزدوروں کا عالمی دن منایا ہے اور ان کی حالت بہتر کرنے کا عزم کیا ہے لیکن جامعہ کراچی میں پانی کی پائپ لائن میں جو شگاف پڑا تھا اس کے مرمتی کام میں جو مزدور کام کر رہے ہیں ان کے پھٹے کپڑوں سے ان کی حالت زار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ان کی حالت بہتر بنانا کس کی ذمہ داری ہے کون ہے ٹھیکے دار کون سا ادارہ ہے جو ان سے کام لے رہا ہے میڈیا کے کیمروں نے سب کچھ ریکارڈ کر لیا ہے حکمرانوں کی انکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ مزدوروں کی حالت دیکھیں ۔ ان مزدوروں کے نام پر اتنے فنڈز جاری ہوتے ہیں اتنے ادارے متحرک ہیں لیکن ان بیچارے غریب مزدوروں کی حالت کیا ہے وہ ان کے پھٹے کپڑے بتا رہے ہیں























