
کراچی میں پانی کی سپلائی جلد بحال ہونے والی ہے
کراچی: کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے جامعہ کراچی میں ٹوٹی ہوئی 84 انچ واٹر لائن کی مرمت کا 95% کام مکمل ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، مزید 2 سے 3 گھنٹوں میں مرمت کا کام مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد دھابے جی سے پانی کی سپلائی بحال کی جائے گی۔ توقع ہے کہ شام تک مختلف علاقوں میں پانی کی ترسیل شروع ہو جائے گی، تاہم مکمل بحالی میں 2 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
مزید معلومات:
متاثرہ علاقوں (پائی بائی کالونی، لائنز ایریا، لیاری، اور دیگر) میں پانی کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے۔
عارضی حل کے طور پر لوگ مہنگے ٹینکرز یا بورنگ کا پانی استعمال کر رہے ہیں، جو کہ کڑوا ہونے کے ساتھ ساتھ ناقص معیار کا بھی ہے۔
مقامی لوگ نمائندوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابی وعدوں کے مطابق پانی کے مسائل حل کریں۔
احتیاطی نوٹس:
اگرچہ پانی کی سپلائی جلد بحال ہو جائے گی، لیکن کراچی میں پانی کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔ موسمیات کے محکمے کے مطابق، آنے والے دنوں میں بارشوں کے امکانات ہیں، جو جزوی طور پر صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔


کراچی( )سی او او واٹر کارپوریشن انجینئر اسداللہ خان نے جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں پانی کی لائنوں کے پھٹنے کی وجوہات اور مرمتی اقدامات سے متعلق ایک تفصیلی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں موجود پانی کی لائنیں کئی دہائیاں پرانی ہیں جن میں ایک لائن 1956 جبکہ دوسری لائن 1971 میں بچھائی گئی تھی ان لائنوں کو بالترتیب 69 اور 54 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اور ان کا متعین لائف ٹائم مکمل ہو چکا ہے انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں 84 انچ ڈایا پی آر سی سی کی دو لائنیں ہیں جن میں ایک لائن کی لمبائی 16 ہزار فٹ یعنی پانچ کلومیٹر ہے سائفن 19 کا آغاز سعدی ٹاؤن سے ہوتا ہے اور یہ یونیورسٹی روڈ تک جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ سائفن میں یو شیپ لائنز کی موجودگی پانی کے دباؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور ان یو شیپ لائنز میں بہنے والا پانی عام سیدھی کنڈیوٹ لائنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ پیدا کرتا ہے نتیجتاً پرانی اور کمزور پائپ لائنیں اس زیادہ دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتیں جس کے باعث دباؤ بڑھنے پر لائنیں پھٹ جاتی ہیں سی او او نے وضاحت کی کہ دھابیجی سے کراچی تک آنے والی پائپ لائنیں سیدھی کنڈیوٹ کے راستے آتی ہیں اور ان پر یو شیپ لائنز والا دباؤ نہیں پڑتا یہی وجہ ہے کہ وہ محفوظ رہتی ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ سائفن 19 میں متاثرہ پی آر سی سی لائن کی جگہ ایم ایس پائپ نصب کیا جا رہا ہے اور پائپ کے دونوں اطراف چار چار ٹن سِکا 300 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کرکے ڈالا جائے گا تاکہ پائپ لائن کی مضبوطی اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ مرمتی کام ہفتے کی شام تک مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد پانی کی ترسیل معمول پر آ جائے گی آخر میں انہوں نے شہریوں کو ہونے والی تکالیف پر معذرت کرتے ہوئے ان کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔
جاری کردہ:- عبدالقادر شیخ
پبلک ریلیشنز آفیسر (پی-آر-او)
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن
کراچی( )کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے جامعہ کراچی میں پانی کی لائن کے متاثر ہونے کے باعث اسپتالوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی آبی منصوبہ ترتیب دے دیا انچارج ہائیڈرنٹس سیل سید سردار شاہ کے مطابق لائنوں کے متاثر ہونے کے باعث اسپتالوں کو واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے اس وقت سول اسپتال اور ایس آئی یو ٹی کو یومیہ پچاس پچاس ہزار گیلن پانی ٹینکرز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ واٹر ٹینکرز کی فراہمی کے اس اہم آپریشن کی نگرانی ہائیڈرنٹس سیل ٹو ایم ڈی فوکل پرسن شہباز بشیر سر انجام دے رہے ہیں دوسری جانب چیف انجینئر ڈبلیو ٹی ایم ظفر پلیجو کے مطابق کارڈیو (NICVD) کو یومیہ چار لاکھ گیلن اور جناح اسپتال کو یومیہ ڈھائی لاکھ گیلن پانی لائنوں کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے اور آج بھی جناح اسپتال کو دن ایک بجے سے شام چھ بجے تک لائن کے ذریعے پانی فراہم کیا گیا چیف انجینئر نے بتایا کہ ہنگامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی آبی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت اسپتالوں سمیت مختلف علاقوں میں ڈبلیو ٹی ایم سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے اس منصوبے کے تحت کلفٹن کیماڑی جمشید ٹاؤن لیاری اور صدر کے علاقوں میں پانی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ کم سے کم علاقے متاثر ہوں۔
جاری کردہ:- عبدالقادر شیخ
پبلک ریلیشنز آفیسر (پی-آر-او)
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن























