
ملک اور صوبے کے روشن مستقبل کیلئے بین الاقوامی شراکت داری اور سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ہماری قلیل مگر بکھری ہوئی آبادی کی آسودہ زندگی کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی اداروں کی مدد و رہنمائی ضروری ہے۔ اس ضمن میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صوبے کے ایک آئینی سربراہ کے ساتھ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں، انٹرنیشنل این جی اوز اور دیگر ممالک کے سفیروں کے ساتھ فعال رابطے قائم کیے ہیں. امید ہے کہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون کو متحرک کرنے اور جاری سفارتی کوششوں کے بہت جلد ٹھوس نتائج برآمد ہونگے

کوئٹہ 24 اپریل: ملک اور صوبے کے روشن مستقبل کیلئے بین الاقوامی شراکت داری اور سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ بلوچستان کی قلیل مگر بکھری ہوئی آبادی کو بنیادی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کیلئے بین الاقوامی اداروں کی مدد اور رہنمائی ضروری ہے۔ اس ضمن میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل صوبے کے ایک آئینی سربراہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں، انٹرنیشنل این جی اوز اور دیگر ممالک کے سفیروں اور قونصل جنرل کے ساتھ بلوچستان کے عوام کے

مسائل و مشکلات کا اشتراک کرکے وہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی اداروں کے تعاون، حمایت اور رہنمائی کو متحرک کر رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، نئی نسل کو جدید تعلیم کے

زیور سے آراستہ کرنے اور عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے ایک تبدیلی کے اقدام کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی انتھک سفارتی کوششوں کے ذریعے انڈونیشیا، نیدرلینڈ، روس، جرمنی، امریکہ، چین، افغانستان، اور

لیتھوینا وغیرہ کے سفیروں اور قونصل جنرلز سمیت صوبے میں کام کرنے والے انٹرنیشنل اداروں کے سربراہان اور نمائندوں کے ساتھ خوشگوار روابط قائم کیے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے تین مختلف پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ روس کے شہروں سینٹ پیٹرزبرگ، لینن گراڈ اور ماسکو کا کامیاب دورہ کیا۔ تعلیم کے شعبے خاص طور پر مائننگ سیکٹر میں انہوں نے بلوچستان اور سینٹ پیٹرزبرگ کے درمیان نئے تعلیمی تعلقات قائم کیے ہیں اور صوبے کے نوجوانوں کیلئے

اسکالرشپ کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے “چائنیز ایمبیسڈرز اسکالرشپ” پروگرام میں بھی بھرپور حصہ لیا. قبل ازیں گورنر بلوچستان نے سولر انرجی کی مد میں کروڑوں روپے کے فنڈز سے

مختلف بلوچستان کے اضلاع میں سولر پینل نصب کرانے کا باقاعدہ افتتاح چینی قونصلیٹ کراچی میں کیا اور اب رواں ماہ کے 12 اپریل کو گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل ایک دفعہ پھر چائنا کا دورہ کرینگے.

واضح رہے کہ امریکہ و یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ابھرتے ہوئے روس اور چین جدید تعلیم کے شعبے میں بلوچستان کے پی ایچ ڈی سکالرز اور پروفیسرز کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کیلئے منفرد مواقع فراہم کرتے ہیں. روس اور چین عالمی معیار پر مبنی جدید تعلیم کے ساتھ نسبتاً دنیا میں سستی مگر کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں.

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گورنر بلوچستان کی کاوشیں رنگ لائیں جن میں جرمنی کی معاونت سے بیوٹمز یونیورسٹی میں “سنٹر آف ایکسیلینس” کا قیام بھی شامل ہے جس کی لاگت نو (9) کروڑ پاکستانی روپے ہے.

گورنر مندوخیل کی کوشش ہے کہ صوبے میں ٹرکِش اسکولوں (Turkish Schools) کی تعداد میں اضافہ ہو جائے. اس حوالے سے صوبے کے بڑے شہروں میں ٹرکِش اسکولوں کو وسعت دینے کیلئے ترکیہ سفارت خانے اسلام اباد کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بہت جلد اس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے. 
گورنر مندوخیل قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک پرامن اور ترقی کرتا ہوا بلوچستان کے امیج کو اجاگر کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اپنی تمام مثبت و تعمیری کاوشوں کو بارآور ثابت کرنے کی خاطر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی بڑے پیمانے پر بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے صوبے بھر کے اسٹوڈنٹس کیلئے اسکالرشپ کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارتی تعلقات کیلئے نئی راہیں کھولی ہیں۔ سردست وفاقی اور

صوبائی دونوں حکومتوں نے بھی گورنر بلوچستان کو ان کی اسکالرشپ فار بلوچستان اسٹوڈنٹس سے متعلق کاوشوں کو کامیاب بنانے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہیں. پبلک سیکٹر کی گیارہ یونیورسٹیوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال کر، گورنر مندوخیل بلوچستان کے نوجوانوں کو کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ جدید مہارتیں سکھانے کیلئے کوشاں ہیں۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے پیش نظر صنعت و تجارت سے وابستہ مختلف اداروں کے استحکام، کیلئے مشاورتی ملاقاتیں کر رہے ہیں. علاوہ ازیں صوبے کے تاجروں اور صنعتکاروں کو دیگر ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک کی تجارتی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں. معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے وہ روز آول سے تمام متعلقہ ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ گورنر بلوچستان کا کہنا ہے کہ خواتین کے تمام حقوق و اختیارات کا حصول ان کی معاشی خودمختاری کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے.
مختلف اضلاع میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، لائیو اسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور فنی و تکنیکی تربیت کیلئے گورنر کی وکالت صوبے کی اہم ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید برآں، گورنر جعفرخان مندوخیل نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے طلباء و طالبات کیلئے ” لیپ ٹاپ اینڈ اسکالرشپ ” میں اضافہ کریں تاکہ صوبے کے نوجوان جدید سہولیات سے مستفید ہو سکیں. اس فعال انداز نے بلوچستان کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں امید کی کرن جگائی ہے۔ امید ہے کہ گورنر بلوچستان کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ فعال روابط اور سفارتی کوششوں کے بہت جلد ٹھوس نتائج برآمد ہونگے۔























