کئی برس پہلے دبئی نے حبیب بینک پلازہ کو اسٹڈی کر کے اونچی عمارتیں بنانے کا کام شروع کیا تھا اب برج خلیفہ کو دیکھ کر پاکستان نے برج قائد بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

جی ہاں یہ سچ ہے کہ دبئی کے شیخ نے بہت سال پہلے اپنے بیٹے کو پاکستان بھیجا اور کہا تھا کہ جا کر کراچی میں حبیب بینک پلازہ عمارت کو دیکھو ۔ دبئی کے موجودہ شیخ نے اپنی بائیوگرافی میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ خود کراچی ائے اور انہوں نے حبیب بینک پلازہ کی طرز تعمیر کو دیکھا اسٹڈی کیا اور بہت کچھ سیکھا اور اس کے بعد ایک وقت آیا جب دبئی نے دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت تعمیر کی اب دبئی کا شمار دنیا کی اونچی اور بلند ترین عمارتیں بنانے والے ملکوں میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان نے بھی بوجھ خلیفہ کو دیکھ کر پاکستان کی سب سے بڑی بلڈنگ برج قائد ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں بنانے کا فیصلہ کیا ہے برسوں تک پاکستان حبیب بینک پلازہ تک ہی کھڑا رہا تھا اور دبئی بہت آگے نکل گیا تھا پھر پاکستان میں کچھ مزید اونچی عمارتیں تعمیر ہوئیں جن میں یو بی ایل اور اس کے بعد بحریہ ٹاؤن ائیکون بلڈنگ تعمیر کی گئی جو سب سے اونچی تھی لیکن وہ آباد نہیں ہو سکی اب ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں سپر ہائی وے کے غریب پاکستان کی سب سے اونچی عمارت برج قائد کے نام سے

تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جسے تعمیراتی حلقوں کے لیے ایک خوشخبری قرار دیا جا رہا ہے اور ہر طرف اس کا چرچا ہے اور اس پر بات ہو رہی ہے اور اس کے مستقبل کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے کسی بھی بڑے تعمیراتی پروجیکٹ کے اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس کی الائیڈ انڈسٹریز میں معاشی سرگرمیاں تیز ہونا شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں سریا سیمنٹ سے لے کر بہت سی الائیڈ انڈسٹریز کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے معاشی سرگرمی میں

تیزی اتی ہے اور محنت کش و مزدوروں کے لیے روزگار کے دروازے کھلتے ہیں سرمایہ کاری ہوتی ہے اور سرمایہ کار ایسے منصوبوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس میں ان کو اچھی پیشکش ملے اور

وہ اچھا منافع بنا سکیں برج قائد کا شمار بھی ایسے ہی منصوبوں میں کیا جا رہا ہے یہ ایک بہت ہی پرکشش منصوبہ بتایا جا رہا ہے اور اس کے حوالے سے بہت اچھی اچھی باتیں سامنے آرہی ہیں بہت تیزی

کے ساتھ اس منصوبے پر بحث شروع ہو گئی ہے اور یہ پاکستان کا ایک بہت ہی بڑا منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے دبئی کے علاوہ بھی مختلف ملکوں نے بلند اور اونچی عمارتیں قائم کی ہیں امریکہ یورپ کینیڈا میں تو اونچی عمارتیں پہلے ہی تھیں لیکن اب پاکستان میں بھی اونچی عمارتوں کی دوڑ شروع ہو جائے گی اور اس سلسلے میں برج قائد ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے یہاں دنیا کی جدید سہولتیں اور لگزری زندگی بھی فراہم کی جائے گی اور پرسکون ماحول بھی اور انوائرمنٹ فرینڈلی ماحول بھی اور مکمل سیکیورٹی کے لوازمات بھی پورے ہوں گے مستقبل میں یہ پاکستان میں جدید اور شاندار طرز زندگی کا ایک شاہکار ثابت ہو سکتا ہے جیسے ہی ملیر ایکسپریس وے شہرائے بھٹو مکمل ہو کر اس سال کے اخر میں عوام کے لیے کھول دی جائے گی تو اس منصوبے کی اہمیت میں اور بھی اضافہ متوقع ہے ملیر ایکسپریس وے ڈی ایچ اے سے ڈی ایچ اے سٹی کو ملائے گی اور یہ سفر بہت کم رہ جائے گا تیز رفتار سفر کی وجہ سے لوگوں کا انا جانا اسان ہو جائے گا ملیر ایکسپریس وے جیسے شاہرائے بھٹو کا نام دیا گیا ہے اس پر 75 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے اور سال 2025 کے اخر میں وہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی