
برج قائد ۔۔۔۔بحریہ ٹاؤن اور مالک ریاض کو تگڑا جواب

پاکستان سے سرمایہ کاری کو دبئی کی جانب ترغیب دینے کے لیے کوشاں ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کو اب ڈی ایچ اے سٹی برج قائد پروجیکٹ کی جانب سے تگڑا جواب ملا ہے کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف سرمایہ کاری کو ڈی ایچ اے سٹی کی جانب راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ وہ سرمایہ جو پاکستان سے باہر جا رہا تھا یا خاص طور پر پراپرٹی سیکٹر میں بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے منصوبوں میں دبئی کی طرف کھینچنے کی کوشش کی جا رہی تھی وہ پاکستان سے باہر جانے سے رک جائے گا اور وہ سرمایہ اب پاکستان میں ہاؤسنگ منصوبوں میں لگے گا جس میں برج قائد سب سے نمایاں منصوبہ ہوگا برج قائد کو پاکستان کی سب سے بلند عمارت پر مبنی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے اور یہ ڈی ایچ اے سٹی سپر ہائی وے کراچی میں تعمیر ہوگا

جو بحریہ ٹاؤن سے قریب ہے اور پاکستان کی نئی جدید ہاؤسنگ سوسائٹی کا چہرہ ہوگا یہاں اگلے سال شوکت خانم کینسر ہسپتال بھی اپنا کام شروع کرنے والا ہے وہاں پر ڈی ایچ اے شفا یونیورسٹی بھی کام کر رہی ہے

اور مزید بڑے بڑے ادارے وہاں پر قائم ہوں گے برج قائد اس سلسلے میں ایک نمایاں پیش رفت ثابت ہوگا برج قائد ب ہزار فٹ کی کم لاگت پر سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہوگا اور یہ 80 سے 100 منزلہ اور 800 فٹ سے

ہزار فٹ بلند بتایا جا رہا ہے اس کے لیے پانچ سال کی اسان اقساط پر پیمنٹ جمع کرانے کا پلان پیش کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں 15 لاکھ سے بکنگ کی جا رہی ہے اس حوالے سے مختلف ڈیویلپرز اور

ریل اسٹیٹ ایجنٹ متحرک اور سرگرم ہیں اور سوشل میڈیا پر اس پاکستان کے سب سے اونچے ٹاور کی تعمیر کا بہت چرچا ہے























